fbpx

دو ماہ میں فیصلہ ہونا چاہئے تھا،کیا عمران خان نے التوا لیا؟ عدالت

دو ماہ میں فیصلہ ہونا چاہئے تھا،کیا عمران خان نے التوا لیا؟ عدالت
اسلام آباد ہائی کورٹ نے خواجہ آصف کے خلاف ہرجانے کے کیس میں وزیر اعظم کو نوٹس جاری کردیا۔

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف کے خلاف دائر کیے گئے 10 ارب روپے ہرجانے کے کیس کی سماعت ہوئی وزیراعظم عمران خان کے بیان پر جرح کا حق ختم کرنے کے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل پراسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم عمران خان کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا۔

‏اسلام آبادہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو کارروائی بڑھانے سے روک دیا، وکیل خواجہ آصف نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے عمران خان کے بیان پر جرح کا حق ختم کردیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہتک عزت کا یہ کیس کب سے زیرالتوا ہے، وکیل خواجہ آصف نے کہا کہ یہ کیس 2012 کا ہے، 2021 میں سوالات وضع کیے گئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ڈائریکشن دی ہے کہ ہتک عزت کے کیسز جلد نمٹائے جائیں، کیس میں اس التوا کا ذمہ دار کون ہے؟ ‏کیا آپ کہتے ہیں کہ التوا عمران خان کی طرف سے ہوا؟ 2012 سے ہتک عزت کا کیس تاخیر کا شکار ہو رہا ہے،‏ہتک عزت کیس کا تو 2 ماہ میں فیصلہ ہو جانا چاہیئے تھا،

وکیل خواجہ آصف نے کہا کہ ‏دونوں فریقین کی جانب سے التوا لیا گیا، جب سوالات وضع ہوئے خواجہ آصف نیب حراست میں تھے، عمران خان نے شروع میں پیروی نہیں کی لیکن بعد میں شروع کی، عدالت نے کیس کی سماعت 12 جنوری تک ملتوی کردی

غیرقانونی بھرتیاں:لاہورہائی کورٹ نے وزیراعظم کو نوٹس جاری کردیا

وزیراعظم عمران خان نے شوکت خانم سے متعلق معاملات میں الزامات لگانے پر خواجہ آصف کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے ایڈیشنل سیشن جج محمد عدنان کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر جرح کا حق ختم کردیا گیا تھا۔

خواجہ آصف نے ایڈیشنل سیشن جج محمد عدنان کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر جرح کا حق ختم کرنے کا آرڈر اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا خواجہ آصف نے درخواست میں ایڈیشنل سیشن جج اور عمران احمد خان کو فریق بناتے ہوئے کہا کہ عدالت نے ای کورٹ کے ذریعے وزیراعظم کا بیان وکیل صفائی کی عدم موجودگی میں ریکارڈ کیا۔

ایف اے ٹی ایف نے جعلی شناختی کارڈز سے کاروبار کرنیوالوں کی فہرست طلب کرلی

وکیل نے خرابی صحت کے باعث عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ وہ 17 دسمبر کو پیش نہیں ہو سکتے، عدالت نے قانون کا حوالہ دیئے بغیر جلدبازی میں فیصلہ سنایا، جرح کا حق ختم کرنے کا آرڈر کالعدم قرار دیا جائے۔

قبل ازیں لاہورہائی کورٹ نے غیرقانونی بھرتیوں پر وزیراعظم کو نوٹس جاری کیا ، لاہور ہائی کورٹ نے ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو پاکستان(اے ٹی آئی آر)میں گریڈ 21 کے 10 جوڈیشل ممبران کی بھرتیوں کے خلاف دائر درخواست پر وزیراعظم عمران خان، سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، سیکرٹری قانون اورچئیرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور رجسٹرار ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو پاکستان سے 14 جنوری 2022 کو جواب طلب کیا ہے۔

منی لانڈرنگ امیر ممالک کا بڑا مسئلہ ہے،وزیراعظم

عدالت نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 2 جون 2021 کو نوٹیفیکیشن کے ذریعے ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو میں گریڈ 21 کے 10 جوڈیشل ممبران کی تقرری کو چیلنج کئے جانے کی درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرتے ہوئے نوٹس جاری کئے ہیں درخواست گزار ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ ان تقرریوں کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا جائے۔

وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر اراکان اسمبلی کی ٹیکس تفصیلات سامنےآ گئیں

وحید شہزاد بٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ تقرریاں فیڈرل پبلک سروس کمیشن آرڈیننس 1977 کی بھی خلاف ورزی ہے جس میں کہا گیا کہ پاکستان کی سروسز میں گریڈ 16 اور اس سے زائد گریڈ کے افسران کی تقرری فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہوگی انکم ٹیکس آرڈیننس کےسیکشن 130 کے تحت وفاقی حکومت کی بجائے وزیر اعظم کو ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو میں گریڈ 21 کے جوڈیشنل ممبران کی تقرری کا دیا جانے والا اختیارغیرقانونی ہے۔

سندھ ہائیکورٹ میں بلدیاتی ایکٹ کیخلاف درخواست دائر

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!