انتظامی نا اہلی اور علاقائی تعصب ۔۔۔ زین خٹک

ضلع کرک خٹک قوم کا مسکن ہے۔ جہاں پر اکثریت خٹک قوم کی ہے۔ 1982 میں جب کرک کو علیحدہ ضلع بنا یا جارہا تھا۔ تو اس کی پشت پر یہ سوچ حاوی تھی کہ یہ خٹک اکثریت ضلع ہوگا جہاں پر مساوات اور بھائی چارے کی فضا قائم ہو گی۔ لیکن یہاں کی نااہل سیاسی قیادت نےذاتی مفادات کےلئے خٹک قوم کو تقسیم در تقسیم کیا۔ نتیجتاً یہاں کی عوام آج خٹک کی شناخت سے زیادہ نصرتی، لنڈ، عیسک، ماشی خیل، وژدے، بانڈہ وال کی شناخت پر فخر محسوس کرتے ہیں۔لیڈر کا کام عوام کو لیڈ کرنا ہوتا ہے۔ یہاں پر لیڈر نہیں بلکہ ذاتی مفادات پرست، لالچی، خودغرض،تنگ نظر، معتصب اور بیو پار قابض ہیں۔ جن کو یہاں کی عوام سے کچھ غرض نہیں صرف انتخابات میں علاقہ پرستی، تنگ نظری اور تعصب پھیلاتے ہیں۔ یہ اب ہمارا پیدائشی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب 90 کی دہائی میں لتمبر میں ڈگری کالج قائم ہوا تو ان سیاسی پنڈتوں نے کالج لتمبر کی بجائے ایک اور علاقے میں منتقل کر دیا۔ کالج کے لیے شاندار بلڈنگ تعمیر ہوئی۔ 1996 میں ہائی سکول لتمبر کو کالج بلڈنگ میں منتقلی کا حکم نامہ جاری ہوا۔ لیکن اہلیان لتمبر ڈھٹ گے بالآخر 2001 میں مشرف دورہ حکومت میں لتمبر کو جائز حق مل گیا۔ یہ ایک واحد مثال نہیں بلکہ ان سیاسی پنڈتوں کی تنگ نظری اور متعصبانہ رویہ کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ طبقہ عوام مفادات اور اجتماعی کاموں کی بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ کرک کی مثال ماں ہے اور ہر باسی بیٹا ہے۔ ہر بیٹے کی ضروریات کو پورا کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آج تحصیل بانڈہ داؤد شاہ اور لتمبر میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ گڈی خیل میں کینسر کی وباء ہے۔ تھل اور بہادر خیل میں پانی کی قلت ہے۔ کرک شہر میں اعلی یونیورسٹی اور ہسپتال کی ضرورت ہے۔ چونترہ میں تعلیمی اداروں اور بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی وقت کی ضرورت ہے۔ آج ان سطور کی وساطت سے کرک کے تعلیم یافتہ لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ان پنڈتوں کی متعصبانہ، تنگ نظری اور خود غرضانہ سوچ کو شکست دے کر کرک کے تمام باسیوں کو اپنائیت کا پیغام دیں۔ ہم ان پنڈتوں کی تقسیم کو نہیں مانتے ہماری پہچان کرک ہے۔ آئیں ملکر کرک کو عظیم ضلع بنائیں۔ ہر باسی اپنے حصہ کا کردار ادا کریں۔

Leave a reply