fbpx

افواج پاکستان کے اصل وفادار کون ؟ علی چاند کا بلاگ

سوشل میڈیا پر ایک عام بات جو دیکھنے میں نظر آٸی ہے اور جسے مجھ سمیت اور بھی بہت سارے لوگوں نے محسوس کیا ہے اور تجربے سے سیکھا بھی ہے کہ ہمارے سوشل میڈیا پر موجود بہن بھاٸی صرف اور صرف اپنے آپ کو یا پھر اپنے چند مختصر دوستوں کے بارے خیال رکھتے ہیں کہ یہی چند لوگ ہیں بس جن کے دل پاکستان کی محبت سے لبریز ہیں ، یہی ہیں وہ چند لوگ جو اپنے پیارے پاکستان سے پیار کرتے ہیں اور اپنے پیارے وطن پاکستان کی خاطر اپنی جان و دل صرف یہی لوگ قربان کر سکتے ہیں ، ایسے لوگوں کا خیال ہے کہ صرف یہی لوگ ہیں جنہیں افواج پاکستان سے محبت ہے ، اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے خون میں پاکستان اور افواج پاکستان سے وفا شامل ہے ۔ ایسے لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ان کے علاوہ باقی سب غدار ، بزدل اور پاک فوج اور پاکستان کے دشمن ہیں ۔ ایسے لوگ کوٸی اور نہیں صرف اور صرف سیاسی کارکنان ہیں جن کے نزدیک ان کے علاوہ باقی سب ملک دشمن اور غدار وطن ہیں ۔ ایسے لوگ پاکستان کے عام عوام کو تو گالیاں دینے اور غدار کہنے فورا آجاٸیں گے نہ صرف خود آٸیں گے بلکہ اپنے اپنے گروپس کے لوگوں کو بھی دعوت عام دیں گے کہ آٶ اس انسان کو گالیاں دو ، اس کا منہ توڑ کے رکھ دو ، اس کو غدار ثابت کرنے میں زرا سی کسر نہ چھوڑو کیوں کہ ایسے جہلا کو لگتا ہے کہ بات ان کے لیڈر کی پالیسی کے خلاف ہے جس کی وجہ سے انہیں لگتا ہے کہ ان کا لیڈر ہی پاکستان ہے ، ان کا لیڈر ہی افواج پاکستان ہے ، بات ان کے لیڈر کی پالیسی کے خلاف ہوٸی ہے اس لیے یہ اپنے مخالف نظریہ رکھنے والے کو عام طور پر حرامی کہہ کر لکھیں اور پکاریں گے ۔ کیوں کہ ان سے مخالف نظریہ رکھنے والا انسان پاکستان اور افواج پاکستان کا غدار ہے ۔ غدار کیوں ہے کیونکہ ایسے لوگوں کے نزدیک پاکستان ،افواج پاکستان بلکہ ان کا دین ایمان ہی ان کا لیڈر ہوتا ہے ۔ جس کی پالیسی سے اگر خدانخواستہ آپ نے اختلاف کیا تو آپ ایسے لوگوں کے نزدیک داٸرہ اسلام سے ہی خارج ہوجاتے ہیں کیونکہ ایسے لوگوں کے مخالف کا دین و ایمان چیک کرنے والی مشین ان کے مخالف کے خلاف بول رہی ہوتی ہے ۔ اسے لوگ اپنے ہم وطنوں کو تو گالیاں دینے اور غداری کا سرٹیفیکیٹ دینے گروپس کی شکل میں آٸیں گے لیکن جب عالم کفر اور وطن و اسلام دشمنوں کو جواب دینے کی بات آٸے گی تو گونگے ، بہرے اور اندھے ہوجاٸیں گے کہ اسلام امن کا درس دیتا ہے.

واہ رے منافقت

حقیقت تو یہ ہے کہ جب حکومت پی پٕی کی ہوتو بات اگر پی پی کارکنان کے لیڈر کے خلاف ہوتو انہیں لگتا ہے کہ باقی سب ملک دشمن ہیں ۔ اسی طرح جب حکومت نواز شریف کی تھی تو بات اگر نواز پالیسی کے خلاف ہوتی تو ن لیگ کے کارکنان کو لگتا تھا کہ ہمارا مخالف پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف ہے ۔ اور اب اگر یہی بات عمران خاں کی پالیسی کے خلاف ہوتو pti کارکنان کو لگتا ہے کہ عمران خاں کی پالیسی سے اختلاف کرنے والا معاذ اللہ پاکستان اور افواج پاکستان کا غدار ہونے کے ساتھ ساتھ شاید دین اسلام کا بھی دشمن ہے ۔ آج کل تو حالات کچھ یوں چل رہے ہیں کہ کوٸی انسان یہ کہہ دے کہ محمد بن قاسم نے ہندوستان پر حملہ کیوں کیا ، کشمیر کے لیے انڈیا کو فضاٸی حدود بند کرو تو کچھ لوگ غداری کا سرٹیفکیٹ دینے آجاتے ہیں کہ تم نے فوج کے خلاف بات کی ہے کیونکہ ان کا دل کہہ رہا ہوتا ہے کہ ان کے لیڈر کو وہ کرنا چاہیے جواس نے نہیں کیا کشمیر کی خاطر ۔ بس پھر کیا دوسروں کو وطن سے غداری کا سرٹیفکیٹ دے کر اپنے دل کی تسلی کی ناکام کوشش کرتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی کارکنان جب اقتدار میں نہیں ہوتے تو اپنے اپنے لیڈروں کے ساتھ مل کر افواج پاکستان پر طرح طرح کی الزام تراشیاں کرتے ہیں اور اپنی سب سے مضبوط خفیہ ایجنسی پر تنقید کرتے نہیں تھکتے ۔ اور اصل حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان اور افواج پاکستان کے اصل محب اور وفادار وہی ہیں جن کا کسی سیاسی جماعت سے کوٸی تعلق نہیں ، جو ہر حکمران کی اچھاٸی کو اچھا اور براٸی کو غلط کہتے ہیں ۔ ہاں یہی ہیں وہ غیر سیاسی لوگ جو ہر حال میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو چند پوسٹ اور تحریروں کے بدلے معاوضہ نہیں لیتے اور پاکستان سے وفا نبھارہے ہوتے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو اپنے بیٹے سپاہی بھرتی کرواتے ہیں اور پھر جوان بیٹوں کی لاشیں وصول کرتے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو اپنے بیٹے شہید کروا کر بھی بارڈر پر سینہ تان کر کھڑا ہونے کے لیے دوسرے بیٹے بھیج دیتے ہیں ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو اپنے دو کوڑی کے غدار اور بزدل لیڈروں کی خاطر اپنی افواج پاکستان پر انگلیاں نہیں اٹھاتے ، ہاں یہی ہیں وہ لوگ جو سڑک سے گزرنے والے سپاہیوں کو سلوٹ کرتے ہیں ، انہیں سلام پیش کرتے ہیں ، ان پر پھول نچھاور کرتے ہیں ، یہی تو اصل محبت ہے ۔

۔ اپنے لیڈر کو افواج پاکستان اور پاکستان سمجھنے والے تو آج ادھر ہیں تو کل دوسری طرف ہیں ۔ آج ادھر سے پیسہ ملا تو یہ لیڈر ، کل وہاں سے پیسہ ملے گا تو ادھر کی ڈیوٹی نبھاٸیں گے ۔

ہمیں فخر ہے کہ ہماری رگوں میں پاکستان سے وفا کرنے والا خون ہے ، افواج پاکستان پر فخر کرنے والا خون ہے ، اپنے وطن پر جان قربان کرنے والا خون ہے ۔ ہم نے نا تو پیسہ لے کر وفاداریاں بدلی نا کبھی فوج پر انگلی اٹھاٸی ۔ ہاں جب جب کوٸی حکمران میرے کشمیر ، میرے وطن پاکستان ، میرے دین اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا ، بزدلی دکھاٸے گا وہاں ہم ضرور اس حکمران پر انگلی اٹھاٸیں گے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کی جاٸدادیں باہر ، بچے باہر ، رشتے داریاں باہر ۔ ہم ضرور ایسے حکمرانوں پر تنقید کریں گے کیونکہ ہم نے اسی وطن میں رہنا ہے انہیں افواج کے ساتھ ، لیڈروں کا کیا ہے آج یہاں تو کل انگلیڈ ، امریکہ ، برطانیہ یا کہیں اور ۔

ہمیں پاکستان سے محبت ہے تبھی ہم اپنی جان سے زیادہ عزیز فوج کے سربراہان سے پوچھتے ہیں اور پوچھیں گے بھی کہ آخر آپ نے اپنی شہہ رگ کے لیے کیا کیا ہے ۔ جہاں محبت ہوتی ہے وہی گلے شکوے بھی ہوتے ہیں ، جہاں محبت ہوتی ہے وہی سوال جواب بھی ہوتے ہیں ، جن پر مان ہوتا ہے انہی سے اپنے مساٸل کا حل بھی پوچھا جاتا ہے ۔ اور اگر کسی کو لگے کہ اس کے لیڈر کی پالیسی سے اختلاف پاکستان اور افواج پاکستان یا اسلام سے غداری ہے تو پھر وہ لوگوں کو غداری کا سرٹیفیکیٹ دینے کی بجاٸے اپنے ایمان ، ضمیر ، اور حب الوطنی کا جاٸزہ لے اور شخصیت پرستی کا علاج کرواٸیں۔

اللہ پاک میرے وطن اور تمام افواج پاکستان کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین