fbpx

افغانستان میں طالبان حکومت کے بعد کی صورتحال تحریر: خالد عمران

افغانستان میں اشرف غنی کے اقتدار کا سورج غروب ہوچکا ھے اور اب تک کی صورتحال کے مطابق زیادہ تر لوگ امریکہ سے آزادی حاصل کرکے خاصا سکون محسوس کررہے ہیں، باقی دنیا کی طرح چند مسلم ممالک کی نظریں بھی ہر لمحہ بدلتی صورتحال پر مرکوز ہیں سعودی عرب سمیت دیگر اسلامی ممالک کس کے ساتھ کھڑے ہیں؟

ایران
ایران، افغانستان کا اہم ہمسایہ ملک ہے جو موجودہ صورتحال کی وجہ سے کافی تشویش میں مبتلا ہے بہت سے افغان فوجیوں نے جان بچا کر ایران میں پناہ لے رکھی ھے اگر ہم ماضی کی بات کریں تو 1998 میں طالبان نے ایک ایرانی صحافی کو قتل کردیا تھا جس کی وجہ سے اس وقت ایران افغان طالبان پر حملہ کرنے والا تھا لیکن اگر ابھی کی بات کی جائے تو کچھ عرصے کے سے ایران کے طالبان سے تعلقات خاصے بہتر ہوئے ہیں اور طالبان کے افغانستان پر مکمل کنٹرول سے پہلے ایرانی نمائندوں کی طالبان نمائندوں سے تہران میں ملاقات ہوچکی تھی تو مستقبل قریب میں یہ ممکن ھے کہ ایران طالبان کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے ساتھ تعلقات قائم کرے گا۔

ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان

وسطی ایشیا کے ان تینوں ممالک پر افغانستان کی بدلتی صورتحال کا گہرا اثر پڑتا ھے
کیونکہ اکثر افغان مہاجرین ان ممالک رخ بھی کرتے ہیں گزشتہ کچھ عرصے سے ازبکستان اور تاجکستان کی جانب سے پناہ گزینوں کے لئے سخت قوانین بھی مرتب کئے گئے تھے جس کی وجہ سے جب جولائی کے مہینے میں کچھ افغان فوجی جان بچانے کی غرض سے بھاگ کر ازبکستان پہنچے تھے تو ازبک حکومت نے ان فوجیوں کو واپس کو واپس لوٹاتے ہوئے سرحد پر سختی کردی تھی یہی اقدامات تاجک حکومت نے بھی سرحد پر سختی برتتے ہوئے تقریباً بیس ہزار مزید فوجی تعینات کردئے تھے۔ازبکستان اور تاجکستان نے افغانستان کی صورتحال دیکھتے ہوئے بچ باہمی اتحاد کو فروغ دیتے ہوئے مشترکہ جنگی مشقوں کا بھی انعقاد کیا تھا۔وہیں ترکمانستان نے طالبان سے تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ھے، سرحد پر طالبان کا کنٹرول مضبوط ہوتے ہیں ترکمانستان نے طالبان رہنماؤں کو مذاکرات کے لئے بلایا تھا حالانکہ طالبان نے واضح اعلان کردیا تھا کہ وہ اپنے ہمسائیوں کے لئے سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں بنیں گے اور نہ ہی افغان سرزمین کسی ہمسائے ملک کے خلاف استعمال ہونے دیں گےباوجود اس کے ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان میں افغانستان کی صورتحال کے باعث فکرمندی کا ماحول بنا ہوا ھے۔
وسطی ایشیا کے ان ممالک نے ابھی تک طالبان حکومت سے متعلق کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا ھے۔

ترکی

طالبان کو افغانستان میں اپنے مقاصد میں مل رہی کامیابی کے باوجود ترکی ابھی بھی کابل کے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کا کنٹرول اپنے پاس رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ترکی نے دو روز قبل جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ کابل ایئر پورٹ کا استعمال میں رہنا فائدہ مند ہو گا۔ ترکی نے امریکی فوجیوں کی افغانستان سے واپسی کے بعد کابل ایئر پورٹ کے کنٹرول کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔

ترکی نے کہا تھا کہ وہ ایئرپورٹ کی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لے گا۔

حالانکہ طالبان ترکی کے ان ارادوں سے خوش نہیں ہیں۔ طالبان نے ترکی کو دھمکی دے رکھی ہے کہ وہ کابل ایئر پورٹ پر اپنی فوج نہ بھیجے۔ترکی کے صدر رجپ طیب اردغان نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا ’ہماری نظر میں طالبان کا رویہ ویسا نہیں ہے جیسا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کے ساتھ ہونا چاہیے۔‘ انھوں نے طالبان سے اپیل کی تھی کہ وہ دنیا کو جلد از جلد دکھائیں کہ افغانستان میں امن بحال ہو چکا ہے۔

انھوں نے کہا تھا ’طالبان کو اپنے ہی بھائیوں کی زمین سے قبضہ چھوڑ دینا چاہیے۔‘

طالبان نے کابل ایئرپورٹ کو کنٹرول کرنے کی ترکی کی پیشکش کو ’نفرت آمیز‘ قرار دیا ہے۔ طالبان نے کہا تھا ’ہم اپنے ملک میں کسی بھی غیر ملکی فوج کی کسی بھی صورت میں موجودگی کو قبضے کی طرح دیکھتے ہیں۔‘

وہیں ترکی کے صدر نے اس موضوع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کا رویہ صحیح نہیں ہے۔

ترکی نیٹو اتحاد کا رکن ہے۔ حالانکہ ترکی کے فوجی افغانستان میں موجود نہیں رہے ہیں۔ لیکن ترکی نے افغانستان میں نیٹو افواج کی کارکردگی کی حمایت کی ہے۔
ترکی کے پاکستان کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں اور پاکستان کے طالبان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔ ایسے میں یہ بھی اندازے لگائے جا رہے ہیں کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان طالبان اور ترکی کو قریب لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان
دعووں کے مطابق پاکستان کے طالبان کے ساتھ قریبی روابط رہے ہیں اور امریکہ کے ساتھ بات چیت میں پاکستان ان تعلقات کا استعمال کرتا رہا ہے۔ حالانکہ طالبان اپنے اوپر پاکستان کے اثر و رسوخ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں اور پاکستان کو محض اپنا ایک اچھا ہمسایہ قرار دیتے ہیں۔افغان حکومت پاکستان پر طالبان کی مدد کرنے اور افغانستان میں دخل دینے کے الزامات عائد کرتی رہی ہے۔ حال ہی میں صدر اشرف غنی اور پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے درمیان تاشقند میں کھلی بحث ہو گئی تھی۔طالبان کے افغانستان کے دارالحکومت کابل پہنچے کے بعد تازہ صورت حال پر پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ ‘پاکستان افغانستان کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان سیاسی سمجھوتے کی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔’ترجمان کا کہنا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ تمام افغان فریق اس اندرونی سیاسی بحران کو حل کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔کابل میں پاکستان کا سفارت خانہ پاکستانیوں، افغان شہریوں اور سفارتی اور بین الاقوامی برادری کو قونصلر کے امور اور پی آئی اے کی پروازوں کے ذریعے تعاون اور ضروری مدد فراہم کر رہا ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ سفارتی عملے، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، بین الاقوامی تنظیموں، میڈیا اور دیگر کے لیے ویزا/آمد کے معاملات کو آسان بنانے کے لیے وزارت داخلہ میں ایک خصوصی بین وزارتی سیل قائم کیا گیا ہےپاکستان میں تیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزین بھی رہتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ڈھائی ہزار کلومیٹر لمبی سرحد ہے۔ ایسے میں پاکستان کو طالبان کے لیے سب سے اہم ہمسایہ ملک بھی سمجھا جاتا ہے۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات
اسلامی دنیا کے سب سے اہم سنی ملک سعودی عرب نے افغانستان کے مسئلے پر مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

سعودی عرب کے افغانستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ ہی تاریخی تعلقات رہے ہیں۔ سعودی عرب نے طالبان سے بھی تعلقات قائم رکھے ہیں۔ حالانکہ 2018 میں قطر میں طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات شروع ہونے کے بعد سے ہی سعودی عرب نے مذاکرات سے خود کو دور رکھا ہے۔

سعودی عرب پاکستان کے ذریعے افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا تو چاہتا ہے، لیکن افغان تنازعے پر کھل کر کچھ نہیں بول رہا۔تاریخی طور پر دیکھا جائے تو 1980-90 کی دہائیوں میں روس کے خلاف سعودی عرب نے افغان مجاہدین کی حمایت کی تھی۔ لیکن موجودہ تنازعے سے سعودی عرب نے فاصلہ قائم کیا ہوا ہے۔

ادھر متحدہ عرب امارات نے بھی موجودہ افغان تنازعے سے دوری برقرار رکھی ہے۔

قطر
قطر مسلم دنیا کا ایک چھوٹا سا ملک ہے لیکن افغان تنازعے میں اس کا اہم کردار رہا ہے۔ طالبان کا سیاسی دفتر قطر میں ہی ہے۔ امریکہ کے حامی ملک قطر نے اپنی زمین پر طالبان کو امریکہ سے مذاکرات کے لیے ٹھکانہ فراہم کیا اور تمام سہولیات دیں۔

2020 میں طالبان کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کے تحت ہی امریکہ افغانستان سے انخلا کر رہا ہے۔

اس سارے تجزیئے کے بعد یہ واضح کردوں کہ افغانستان کی ہر لمحہ بدلتی صورتحال میں آگے کیا ہونے جارہا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، فی الحال ایشیا چین بھی خاموشی اختیار کئے ہوئے ھے اور دیگر ممالک بھی اب عالمی برادری کیا فیصلہ کرتی ھے اور اس میں پاکستان کیا کردار ادا کرے گا آنے والے دنوں میں صورتحال کے واضح ہوجائے گی۔
KhalidImranK