fbpx

افغانستان پر طالبان کی حکومت؛ پاکستان کیلئے سیکورٹی کے خطرات تحریر۔ شعیب احمد 

15 اگست کا دن افغانستان کی تاریخ میں وہ دن تھا جس نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے  دنیا کا طاقتور ملک امریکہ جو یہاں 20سال سے اسکو مضبوط کر رہا تھا تاکہ یہاں کوئی ایسی قوت جگہ نہ بنائیں جو انکے خلاف ہوں ۔طالبان سے امن معاہدہ ہوا کیا جس کے تحت امریکہ کو افغانستان چھوڑنا تھا لیکن کسی کے وہم گمان میں بھی یہ نہ تھا کہ امریکہ یہاں سے بھاگنے پر مجبور ہوگا۔ اور مخلوط حکومت کا امکان ختم ہوگا۔

15اگست 2021 کو اشرف غنی ملک چھوڑ گئی اور بغیر کسی مزاحمت کے افغانستان طالبان کے قبضے میں آگیا دنیا حیران ہے کہ یہ کیسے ممکن ہوا آیا طالبان کے 60 سے 80 ہزار لوگ اتنے مضبوط ہے کہ افغانستان کی لاکھوں سیکورٹی فورسز چند گھنٹوں میں شکست کھا گئ۔ ان میں کچھ تو طالبان کے ساتھ شامل ہوے اور نے اسلحہ ڈال کر روپوش ہوے۔امریکہ کی 3ٹریلین ڈالرز اور 2700 فوجیوں کی ہلاکت کا قوم اس سے جواب مانگ رہی ہے ۔اور امریکہ نے پھر اپنے شہریوں کی باحفاظت نکالنے کیلئے طالبان سے درخواستیں کیں۔

امریکہ یہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوا لیکن اس خطے میں آنے والا وقت بہت مشکل نظر آرہا ہے ۔پاکستان افغانستان کا قریبی ملک ہے جس کے ساتھ اسکا 2611کلومیٹر کا مشترک بارڈر ہے یہ بارڈر نہایت مشکل قسم کا ہے جس کا کنٹرول نہایت مشکل ہے اگرچہ پاکستان نے اسکو خاردار تاروں کے ذریعے 90فیصد محفوظ کیا ہے اور 700سے زیادہ فوجی چوکیاں بنائی ہیں لیکن پھر بھی اسکو شرپسندوں سے محفوظ سمجھنا ایک خواب ہوگا

افغان طالبان کا امریکہ کے ساتھ  ڈیل کے کئی محرکات ہیں یہ ڈیل اپنے اصل روح میں لاگو نہیں ہوا طالبان نے وقت سے پہلے ہی افغانستان کا کنٹرول بغیر کسی مزاحمت کے  سنبھال لیا بہت سے لوگوں کو جیل سے رہا کیا گیا جس میں 2000 تحریک طالبان پاکستان کے لوگ بھی شامل تھے جیسے جیسے افغانستان میں طالبان کا کنٹرول  بڑھتا چلا گیا ادھر TTPنے بھی پاکستان میں کاروائیاں تیز کیں جسکی مثال ہمیں کوئٹہ کے Serena Hotel اور چینی انجنیئرز پر حملوں کی صورت میں ملی۔ پچھلے دو ماہ میں طالبان کی طرف سے 50 سے زائد کی ذمہ داری قبول کر نا اس بات کی دلیل ہے کہ طالبان کے آنے کے بعد پاکستان میں TTP کی کاروائیاں تیز ہورہی ہیں 

پاکستان نے TTPکو دعوت دی ہے کہ اگر وہ اسلحہ ڈال کر پاکستان کے آئین کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے تیار ہیں تو حکومت ان کو غیر مشروط معافی دے گی جو انہوں نے مسترد کردیا اور پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ تک جہاد جاری رکھنے کا اعلان کیا

تحریک طالبان پاکستان  کے علاوہ پاکستان اور افغانستان دونوں میں IS-Kکے حملوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں کیونکہ IS-K اپنی مرضی کا اسلامی نظام کے نفاذ تک جہاد جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے امریکہ خود بھی طالبان سے اس بات کی توقع رکھتا ہے کہ طالبان ISKاور القاعدہ کو دوبارہ مضبوط نہیں ہونے دیں گے 

دوسری طرف بھارت کا افغانستان میں رول کٹھائی میں پڑھ گیا ہے اور وہ بلوچستان کے حالات خراب کرنے کی کوشش کرے گا کیونکہ بلوچستان Insurgency کا سیدھا لنک بھارت سے ملتا ہے 

خطے کے حالات اور پاکستان پر اس کے اثرات کا اندازہ نیوزی لینڈ کے کرکٹ ٹیم کے عین میچ شروع ہونے سے پہلے اپنا ٹور کینسل کرنے سے لگایا جاسکتا ہے  جو انہوں سیکورٹی کو جواز بنا کر کیا۔آنے والے وقتوں میں طالبان کے افغانستان میں آنے کے پاکستان پر دوررس نتائج ہونگے ۔

@shoaibahmadsh