fbpx

افغان افیئرز تحریر: فروہ نذیر

افغانستان سلطنتوں کا قبرستان ہے۔ 1842 میں اس وقت کے سپر پاور برطانیہ کو کابل چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ 1989 میں اس وقت کی سپر پاور بدمست ہاتھی سوویت یونین کو بھی آخر کار افغان سرزمین چھوڑ کر اپنی اشتراکیت سمیت واپس جانا پڑا، اور 2021 میں چودھری امریکہ بھی اپنا بوری بستر شریف گول کر کے افغانستان میں اپنی تاریخ کی طویل ترین جنگ کے بعد شکست خوردہ حالت میں واپس بھاگ گیا۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ کونسے عناصر ہیں جن کی بدولت افغانستان پر کوئی بھی حملہ آور قبضہ نہیں کر سکا۔
سب سے بڑی وجہ افغانستان کی جغرافیائی حیثیت ہے۔ افغانستان ایک پہاڑی ملک ہے اور اکثر راستے تنگ دروں اور پہاڑی بھول بھلیوں کی صورت میں ہیں۔ زمینی راستے سے ٹارگٹ تک پہنچنا گویا شیر کے پنجرے میں گھسنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ پہاڑوں میں موجود گوریلا جنگجو تاک میں بیٹھے ہوتے ہیں اور آنے والا ہر شخص اور گاڑی ان کی کلاشنکوف کے نشانے پر ہوتی ہے۔
افغان قوم کی جنگجویانہ طبیعت بھی اس عمل میں ایک اہم کردار رکھتی ہے۔
امریکہ کی شکست سے جہاں خطے میں امریکی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا وہیں ہمارے پڑوسی انڈیا کی بلند و بانگ چیخیں بھی ان کی انویسٹمنٹ کے ضیاع کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ انڈیا کی افغانستان میں بنائی گئی سڑکیں اور ڈیمز اب طالبان حکومت کے پاس ہیں اور اشرف غنی کے ساتھ بڑھائی گئی پینگیں بھی ٹوٹ چکی ہیں۔ اس پوری لڑائی میں بھارت کی چھترول خواہ مخواہ ہو گئی۔
طالبان نے اب پنج شیر سمیت پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس وقت پورا افغانستان لا الہ الااللہ کے علم کے زیرنگیں ہو چکا ہے۔ امریکہ بھاگتے ہوئے اربوں ڈالر کا اسلحہ بھی یہیں چھوڑ گیا جو کہ اب طالبان کے قبضے میں ہے۔ ویسے تو پوری دنیا افغانستان کی عوام کی فکر میں انتہائی پریشان ہے لیکن کسی نے بھی ابھی تک کسی قسم کی کوئی امداد نہیں بھیجی۔ دنیا کا دوغلا چہرہ دیکھئے کہ یورپی بینکوں میں موجود افغان حکومت کی ساری رقم امریکہ نے فریز کر دی۔ افغانستان میں موجود سرمایہ اشرف غنی اپنے ساتھ طیارہ بھر کر منی لانڈرنگ کے ذریعے اڑا لے گیا۔ اس وقت افغانستان کو آٹے سے لے کر ادویات تک ہر چیز کی کمیابی کا سامنا ہے لیکن کسی بھی انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار ملک نے امداد نہیں کی۔
کتنی خود غرض ہے نا یہ دنیا۔
طالبان پھر بھی افغانستان کو ایک مثالی اور اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لئے پرامید ہیں۔
طالبان کی فتح کے ساتھ ہی سمجھ میں آئی کہ جس اسلامی بلاک کی باتیں ہو رہی تھیں وہ کیسے بنے گا۔
پاکستان میں موجودہ حکومت کے آتے ہی ریاستِ مدینہ کی پیروی کی باتیں ہونا شروع ہو چکی تھیں۔ اب افغانستان، پاکستان، ایران اور ترکی مل کر ایک عظیم الشان طاقت بن سکتے ہیں۔ بلاشبہ امریکی دشمنی میں روس اور چین بھی ان کا ساتھ دیں گے جس سے طاقت کا توازن بڑھ جائے گا اور امریکہ کی چودھراہٹ خطرے میں پڑ جائے گی۔ بہت جلد امریکی اجارہ داری کا خاتمہ ہونے والا ہے جس کی وجہ سے دنیا میں اسرائیل کے اثر و رسوخ پر بھی خاصا اثر پڑے گا۔
خیر مندرجہ بالا باتیں تو پھر کبھی سہی، یہاں بتانے والی اصل بات یہ ہے کہ
"ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹلیجنس لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید آنے والی افغان حکومت کے قیام کے لائحہ عمل سے متعلق اہم فیصلوں میں شرکت کے لئے افغانستان پہنچ چکے ہیں”
یہ ایک لائن ہی امریکی اور روسی شکست کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے
مارخور اپنا شکار کبھی بچنے نہیں دیتا!!!!
پاکستان ہمیشہ زندہ باد