fbpx

افغان امن عمل.تحریر: چوہدری یاسف نذیر

‎سال 1988 میں ایک کانفرنس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ افغانستان میں غیرملکی افواج کی موجودگی برداشت نہیں کی جائے گی اور غیر ملکی افواج کے انخلاء کی حمایت کی جائے گی، اس میٹنگ میں امریکہ پیش پیش تھا اور یہ قرارداد روس کے خلاف تھی کیونکہ انکی افواج افغانستان میں موجود تھی۔۔۔‏ٹھیک 31 سال بعد 2019 میں یہ اعلان کیا گیا افغانستان میں غیر ملکی افواج کی موجودگی برداشت نہیں کی جائے گی اور غیر ملکی افواج کی انخلاء کی حمایت کی جائے گی، اس میٹنگ میں روس پیش پیش تھا اور یہ قرارداد امریکہ کےخلاف تھی، تاریخ نے 30 سال بعد ایک دفعہ پھر خود کو دوہرایا _ اور تقریبا وہی کچھ ہوا جو 30 سال پہلے ہوا، امریکی فوج کا جلد بازی میں افغانستان سے انخلاء ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اربوں ڈالرز لگانے کے باوجود 20 سالہ جنگ ہار گیا

یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ افغان طالبان اور تحریک طالبان پاکستان دو مختلف تنظیمیں ہیں، طالبان کا آغاز جہاد اور اسلامی نظام کے قیام کے اعلان سے ہوا جبکہ تحریک طالبان پاکستان بھارت اور غیرملکی ایجنسیوں کی آلہ کار ہے، گزشتہ کئی سال سے افغانستان میں موجود بھارتی سفارتخانے پاکستان کے خلاف منظم سازشوں میں ملوث رہے ہیں، ہر دہشتگردی کے تانے بانے سرحد پار سے ملتے تھے، امریکی انخلاء کے بعد بھارت کی سرمایہ کاری بھی ڈوب گئی

امریکی اںخلاء کے بعد طالبان تیزی سے پیش قدمی کر رہے ہیں جبکہ افغان حکومت شدید دباؤ کا شکار ہے اور اسی دباؤ کی وجہ سے آئے دن اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جارہا ہے حالانکہ پاکستان کئی دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھارہا ہے، طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے پاکستان نے ہر ممکن تعاون فراہم کیا، افغانستان میں کاروائیوں کے لیے فضائی اڈوں کی امریکی خواہش کو پاکستان نے Absolutely Not جیسے واضح الفاظ کے ساتھ مسترد کیا اور افغانستان کو باور کرایا کہ ہم اپنی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اسلئے آپ بھی سرحد پار سے پاکستان میں داخل ہونے والے دہشتگردوں کا راستہ روکیں

افغان حکومت اور طالبان کا موجودہ تنازعہ انکا اندرونی معاملہ ہے لیکن پاکستان ہر سطح پر معاونت کی پیشکش کا اظہار کرچکا ہے کیونکہ پرامن افغانستان ہی پرامن خطے کی ضمانت ہے، روس، چین، ایران اور پاکستان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان قابل عمل معاہدے کی کوشش میں ہیں، جبکہ بھارت نے گزشتہ ہفتے اسلحے سے بھرے جہاز افغانستان پہنچا کر یہ واضح کردیا ہے کہ وہ افغان طالبان کے خلاف افغان حکومت کا ہر ممکن ساتھ دے گا چاہے اسکے لئے امن کو داؤ پر لگانا پڑے

اچھی بات یہ ہے کہ امریکی انخلاء کے پیش نظر پاکستان نے کافی حد تک تیاری مکمل کرلی تھی، 2600 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے کا کام تکمیل کے مراحل میں ہے، باڑ لگاتے وقت پاک فوج نے شہادتوں کے نذرانے دئیے لیکن اس کٹھن کام کی رفتار میں کمی نہ آنے دی، موجودہ حالات میں مزید افغان مہاجرین کی آمد متوقع ہے جنہیں سرحد کے قریب ہی ٹھہرایا جائے گا، جبکہ آئندہ ہفتے اسلام آباد میں افغان امن کانفرنس بھی منعقد ہونے جارہی ہے، انتظار کرنا ہوگا کہ افغان حکومت ماضی کی طرح الزامات لگاتی رہے گی یا پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہے گی