fbpx

‏افغان باشندے یا افغان طالبان، تحریر: ارم رائے

‏افغان باشندے یا افغان طالبان یہ دونوں ایک ہی قوم کے دو نام ہیں۔ روس جب اسی کی دہائی میں افغانستان کو فتح کرنے آیا تو امریکہ نے افغان لوگوں کو وہاں کے باشندے قرار دیا اور انکی مدد کی تاکہ روس کو شکست ہو۔ البتہ ایسا ہوا بھی لیکن امریکہ کی مدد سے زیادہ افغان باشندوں کی جنگجو سوچ نے مدد کی اور انہوں نے اس وقت کے بہترین روسی ٹینکس کو بھی راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا اور روس کو شکست فاش ہوئی اور بدلے میں روس کو اپنی ریاستوں سے ہاتھ دوھونا پڑا۔ جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو وہی افغانی باشندے طالبان کہلائے گئے۔ روس تو چلو دس سال رہا افغانستان میں لیکن امریکہ تقریبا بیس سال رہا اور اسکی جنگی صلاحیت روس سے بھی زیادہ طاقتور تھی لیکن نتیجہ کیا ہوا؟ وہی جو روس کے ساتھ ہوا لیکن روس نے تو کوئی مدد نہیں کی اس بار امریکہ کے خلاف تو امریکہ کس کو الزام دے سکتا ہے اپنی شکست کا؟ امریکہ کو شکست اس لئے ہوئی کہ اس بار بھی امریکہ فوج کی لڑائی طالبان سے نہیں بلکہ افغانی باشندوں سے تھی جو کبھی ہار نہیں مانتے۔ اب امریکہ وہاں سے نکل رہا ہے تو طالبان یعنی افغانی باشندوں کو سول جنگ کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے۔

مگر حقیت بلکل اس کے برعکس ہے۔ امریکہ سے زیادہ طالبان نے سیکھا ہے اس جنگ سے۔ انہوں نے سفارتی تعلقات اتنے اچھے سے استعمال کیے کہ امریکہ کا کوئی مطالبہ بھی امریکہ کے اپنے مفاد میں نہیں گیا اور یوں طالبان نے اپنے سارے مطالبات بھی منوا لئے اور امریکہ کو معاہدے کا پابند بھی کرلیا۔ اب نیٹو ممالک کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ طالبان سول حکومت کو گرا کر لوگوں کا خون بہائیں گے جو کہ بلکل غلط ہے۔ اصل میں یہ امیج اشرف غنی نے بنایا ہے طالبان کا مگر جن شہروں پر طالبان نے اب قبضہ کیا ہے وہ وہاں موجود لوگوں کی مدد سے کیا ہے اور زیادہ تر شہروں میں ایک قطرہ خون بھی نہیں بہا۔ اس سے صاف ظاہر ہے اگلے الیکشن میں حکومت طالبان کی ہوگی یعنی اصل میں لوگوں کی منتخب کی گئی حکومت۔ اگر ایسا ہوا تو کیا امریکہ اس حکومت کو قبول کرے گا تو یقین سے کہہ رہی ہوں کہ ہاں قبول کرے گا آج نہیں توکل۔ اس ایشیائی خطے میں اگر امن قائم رکھنا ہے تو امریکہ اور بھارت کا اثرورسوخ ختم کرنا ہوگا جو کہ امریکہ کے جانے سے ہوجائے گا۔ساری عسکریت پسندی اور شدت پسندی بھارت اور امریکہ کے تعاون سے کی گئی اور اس خطے کا امن برباد کرکے اسلحہ کی مارکیٹ کو فائدہ پہنچایا گیا۔ مجھے یقین ہے طالبان کی حکومت سے لوگوں کے حالات بدلیں گے اور اسکا اثر پاکستان پر یقینا پڑے گا کیونکہ پاکستان افغانستان میں امن کا سب سے بڑا خواہش مند ہے کیونکہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ جیسے بھی ہوں وہ ہوتے تو بھائی بھائی ہی ہیں نا.