fbpx

پاکستان ہمارادوسراگھر:بھارت سےمذاکرات کیوں؟افغانستان پھرامن کا گہوارہ بننے جارہاہے:افغان طالبان ترجمان کا مبشرلقمان کوانٹریو

لاہور:پاکستان ہمارا دوسرا گھر:بھارت سے مذاکرات کیوں؟افغانستان پھرامن کا گہوارہ بننے جارہاہے:افغان طالبان ترجمان کا مبشرلقمان کوانٹریو،اطلاعات کےمطابق آج شام افغان طالبان کے ترجان ذبیح اللہ نے معروف صحافی سنیئر تجزیہ نگارمبشرلقمان سے بات کرتے ہوئے تمام خدشات اورحالات پرسیرحاصل گفتگو کی

مبشرلقمان کے ایک سوال کے جواب میں افغان طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ پہلے افغانستان سے امریکہ اوراس کے اتحادی افواج نکالیں اورپھردیکھیں گے کہ امریکی فوج کے زیراستعمال ایئربیسز اوردیگراہم مقامات کے حوالے سے کیا کرنا ہے اس کے بعد میں ہم بگرام ایئر بیس کا فیصلہ کریں گے

ایک موقع پر جب سنیئر صحافی مبشرلقمان نے افغان طالبان ترجمان سے یہ سوال کیا کہ کیا یہ سچ ہے کہ افغان طالبان کابل کے قریب پہنچ چکے ہیں اورچند گھنٹوں کا فاصلہ باقی رہ گیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ کابل سے ہم کم فاصلہ پر ہیں مغربی ضلع میں مجاہدین موجود ہیں ابھی حالات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ کابل میں‌ کیا ہورہا ہے اورجب کابل سے غیرملکی چلے جائیں گے توپھرافہام وتفہیم سے معاملات حل کرتے ہوئے داخل ہوجائیں گے اورپھرکابل کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیں گے

 

ان کا کہنا تھا کہ ملت اسلامیہ افغانستان کا ارادہ ہے کہ بات چیت سے مسئلہ حل ہو اور کابل جانے کا سلسلہ بھی بات چیت سے ہی ہو گا ۔اسی طرح تمام مسائل حل ہوں گے اور اگر مذاکراتی یا بات چیت کو مسترد کر دیا جاتا یے تو پھر آخری آپشن دیکھیں گے

ایک موقع پر جب مبشرلقمان نے ترجمان سے پوچھا کہ آیا کہ کیا افغانستان سے پاکستان پرہونے والے حملوں کا سلسلہ بھی رک جائےگا تو ان کا کہنا تھا کہ کیوں نہیں ، جب ہم اقتدار میں آئیں تو پاکستان کی سرحد کی جانب ایسا سوچا بھی نہیں جائے گا ، ان کا کہنا تھا ہم چاہتے ہیں کہ افغان اور پاکستان پڑوسی ملک اچھے رہیں ۔ پاکستان میں ہمارے مہاجر بھائی ہیں ہم اس چیز کی اجازت نہیں دیں گے کہ دونوں ملکوں کے مابین کچھ ہو

 

 

بھارت سے مذاکرات کے حوالے سے افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہورہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی کیا حیثیت ہے کہ ہم اس سے مذاکرات کریں‌ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو بھی موجودہ افغان انتظامیہ کی مدد سے گریز کارنا چاہیے،ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت سے مذاکرات کی خبریں بے بنیاد ہیں‌

 

ایک سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ کابل ایئرپورٹ کا کننٹرول ترکی کے حوالے کیوں ؟ جو بھی فیصلہ کریں‌گے ہم خود کریں‌اورافغانستان کوکسی بیرونی مدد کی کوئی ضرورت نہیں ،ہمارا جگہ اور ہمارا گھر ہے اس ملک میں نیٹو یا کسی بھی ملک کے عملے کو اجازت نہیں دیں گے چاہے وہ ترکی ہو یا کوئی اور

افغان ترجمان کا کہنا تھا کہ نصف سے زیادہ ملک کے علاقے پر امارت اسلامیہ کا قبضہ ہے ۔۔

ایک سوال کے بارے میں جس میں مبشرلقمان نے پوچھا کہ کیا آپ کے اقتدار میں آنے سے افغانستان سے منشیات کا دھندہ ختم ہوجائے گا؟ تو ترجمان کا کہنا تھا کہ زراعت کا معاوضہ ملے گا تو منشیات کا خاتمہ کریں ابھی لوگ غریب ہیں جب تک کوئی متبادل آ جائے گا تو ختم کر دیں گے

ہمارا پاکستان کو پیغام ہے کہ پاکستان بھائی اور ہمارے اوپر احسانات ہیں ہمارے مہاجرین وہاں ہیں ۔روابط ہمارے تجارتی بھئ رہیں گے۔ دونوں ملکوں کے مابین اعتماد اور اچھے پڑوسی کی طرح رہیں گے۔

 

یاد رہے کہ افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ کواردو بولنا نہیں وہ پشتو میں انٹریو دیتے ہیں مگرباغی ٹی وی کے لیے انہوں نے خصوصی پراردو میں انٹریودیا جسے سمجھنا بہت ہی ضروری ہے