fbpx

‏افغانستان اور طالبان کا مستقبل .تحریر:محمد عادل حسین

افغانستان سے امریکہ کا انخلاء کئی سوالات چھوڑ کر جا رہا ہے
امریکا نےافغانستان سے انخلاء کا مختلف ٹائم فریم دیا پہلے 11 ستمبر 2021 پھر 14جولائی 2021 کی اور ایک کانفرنس میں اگست سے پہلے پہلے انخلاء مگر ان سب پہلے ہی نکل گیا۔
امریکہ نے افغان جنگ میں کھربوں ڈالڑ کانقصان کیا وہاں وسط ایشائی ممالک خصوصا پاکستان نے بھی کافی معاشی نقصان اٹھایا ۔

ایک پریس کانفرنس میں امریکی صدر واضح کہہ چکے ہم کامیاب نہیں ہوۓ مگر مشن اس دن مکمل ہوگیا تھا جب اسامہ بن لادن کو شہید کیا اور امریکہ کی دونسلیں اس جنگ میں لڑی اب ہم اگلی نسل کو بھی اس شکار نہیں بنائیں گے۔ افغان مستقبل کے بارے بھی کہا امریکہ ان سے مکمل تعاون جاری رکھا گا۔

امریکہ ایک طرف اپنی ہار بھی مان رہا ہے اور جب اپنا آخری کیمپ بلگرام ائیر بیس خالی کیا تو جہاں اشیاۓ خورد نوش چھوڑ گیا وہاں جنگی سازوسامان گاڑیاں کافی مقدار اسلحہ اور پانچ ہزار طالبان جو وہاں قید تھے ان کو بھی رہا کر گیا وہ اسلحہ ساتھ نہیں لیجاسکتا تھا مگر اس کو خاکستر یاپھر افغان فورسز کے سپرد بھی کر سکتا تھا صاف ظاہرہے کہ وہ یہ سب جان بوجھ کے کرکے گیا یہ سب اور پھراشرف غنی کااچانک اپنی فیمیلی اور عزیز و اقربا کے ہمراء غائب ہوجانا افغان فورسز کے اہکاروں کا استعفے دینا اور طالبان کے ساتھ مل جانا۔

دوسری طرف انڈیا کو اپنی فکر ہونے لگی افغانستان میں اس کے بناۓ گے ڈیم پر طالبان نے قبضہ کرلیا اس نے پنے بچاؤ کیلۓ افغان فورسز کو جنگی سازوسامان کاایک جہاز بھیج دیا ساتھ میں بھارتی میڈیا پہ یہ پرپیگنڈہ بھی جاری ہے کہ افغانستان میں طالبان کے علاوہ لشکرطیبہ اور جیش محمد بھی موجود ہیں اورفغانستان میں طالبان اور لشکر طیبہ کا اتحاد ہوگیا ہے افغانستان میں میں لشکر طیبہ کے 8000 مجاہدین موجود ہیں لشکر طیبہ اور جیش محمد افغان مجاہدین کے ساتھ مل کر جنگ لڑ رہے ہیں
اب بات افغانستان تک نہیں رکے گی جموں کشمیر پر بھی مجاہدین کے مضبوط ہونے کی سائے منڈلا رہے ہیں اور کشمیر ہاتھ سے جاتادکھائی دے رہا ہےتھا اسی لیۓ پری پلین گیم ہے کہ

ایک طرف امریکہ اسلحہ طالبان کیلۓ چھوڑ گیا اوردوسری طرف بھارت کافورسز سے خیر خواہی اصل میں فورسز اور طالبان کو لڑانااور افغانستان کو خانہ جنگی کی طرف جھونکنے کا اشارہ ہے کہ طالبان یہیں مصروف رہیں کہیں ہماری طرف نہ آجائیں

کیا پاکستان ان سب سے محفوظ رہ سکے گا اگرچہ وزیراعظم عمران خان کئی بار کہہ چکے کہ” ہم کسی پرائی جنگ کاحصہ نہیں بنے گے ” یااس کے اثرات ہم پر بھی مرتب ہونگے اگر مرتب ہوۓ تو نتیجہ کیا نکلے گا۔