fbpx

افغانستان ، بہتر مستقبل کی امید

پاکستان جیو اکنامکس کی راہ پر گامزن ہونے کے لیے غیر ملکی سفارت کاری کے تمام ممکن راستوں پر عمل کر رہا ہے۔ خاص طور پر افغانستان کے لیے غیر معمولی خارجہ پالیسی اقدامات اٹھا کر، پاکستان دنیا کے سامنے یہ ثابت کر رہا ہے کہ علاقائی استحکام اور خوشحالی کے لیے وہ شریک اسٹیک ہولڈر ہے۔ اس سلسلے میں چین میں افغانستان کے دوستوں کا اجلاس ہوا جس میں پانچ نکاتی مشترکہ بیان میں ایک مستحکم اور محفوظ افغانستان کے قیام کے لیے آگے بڑھنے کا راستہ تجویز کیا گیا۔اس اجلاس کی صدارت ریاستی کونسلر اور وزیر خارجہ وانگ یی نے کی اور ایران، روس، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان ،پاکستان کے وزرائے خارجہ اور نمائندوں نے شرکت کی۔ اس ملاقات کا ایجنڈا افغانستان کے مسائل پر پڑوسیوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا اور افغان عوام کو مستحکم کرنے اور ان کی حمایت کے طریقوں پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ افغانستان میں عدم استحکام کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوں گے، مستقبل کے مسائل سے بچنے کے لیے افغانستان کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔اجلاس میں شریک ممالک نے افغانستان کی آزادی، علاقائی خودمختاری اور قومی اتحاد کے احترام کا اظہار کیا۔ پرامن اور مستحکم افغانستان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے شرکاء نے ممالک پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی معاشی بحالی اور مستقبل کی ترقی کے وعدوں کو ایمانداری سے پورا کریں۔اس سے قبل چین کے وزیر خارجہ نے افغانستان کا دورہ کیا اور سی پیک کی توسیع کو افغانستان تک بڑھانے پر آمادگی کا اظہار کیا، یہ علاقائی روابط کے ذریعے افغانستان کو اس دھارے میں شامل کرنے کے لیے چینی نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔پاکستان اور چین افغان عوام کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں جو کوویڈ 19 وبائی امراض اور سماجی انتشار کا شکار ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک میں عدم استحکام نہ صرف اس ملک کی عوام بلکہ خطے کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اگر افغانستان سیاسی، اقتصادی طور پر غیر مستحکم رہا تو اس کے پڑوسی ممالک پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔بدقسمتی سے، طالبان اس طرح کا برتاؤ نہیں کر رہے ہیں جس طرح دنیا ان سے برتاؤ کی توقع کر رہی ہے، عالمی برادری کے ساتھ مشغول ہونے کے بجائے طالبان اب بھی اپنی ہی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں جیسا کہ حال ہی میں لڑکیوں کو اسکول کی تعلیم سے محروم کردیا گیا تھا۔طالبان کو کم از کم اپنے نقطہ نظر میں تھوڑا لچک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف تو سبھی مغربی دنیا بالخصوص امریکہ کے رویے پر الزام لگا رہے ہیں لیکن طالبان کو دنیا کے لیے نہیں بلکہ اپنے لوگوں کے لیے اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔

علاقائی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان کو دوبارہ انتشار کا مرکز نہ بننے دیں۔ اس وقت افغانستان کو نظر انداز کرنے سے صورتحال حل نہیں ہوگی بلکہ اس میں مزید اضافہ ہوگا۔غیر ریاستی عناصر اور دہشت گرد تنظیموں کی دھمکیوں کی وجہ سے، علاقائی ممالک نے افغانستان کے ساتھ انسداد دہشت گردی اور سیکورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا ۔

گزشتہ بیس سالوں میں افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی پر نظر ڈالیں تو پاکستان نے واضح طور پر افغانستان کا سیاسی حل کا نعرہ لگایا۔امریکہ بھی بالآخر اس راستے پر گیا کہ افغان مسئلے کا سیاسی حل نکلنا چاہیے افغانستان میں استحکام آ جائے کیونکہ یہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک رابطے کا ذریعہ ہے۔ ایک بار جب چین، پاکستان اور خطے اور عالمی دنیا کے تمام اہم ممالک افغان عوام اور ملک کی موجودہ حالت کو بہتر بنانے کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو یہ نہ صرف افغان عوام بلکہ خطے بالخصوص ترقی کا باعث بنے گا۔