fbpx

افغانستان کےمسئلےکا کوئی فوجی حل نہیں ہے طالبان سے براہ راست مذاکرات کیلئے تیار ہیں اشرف غنی عمران خان کے موقف کو مان گئے

افغانستان کےصدر اشرف غنی کا کہنا ہے کہ وہ طالبان سے براہ راست مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔

باغی تی وی : تفصیلات کے مطابق صدر اشرف غنی نے صدارتی محل میں اجلاس سے خطاب میں کہا کہ طالبان سے براہ راست مذاکرات کیلئے تیار ہیں، 5 ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی ہماری امن کی خواہش کو ظاہر کرتی ہے۔

اشرف غنی نے کہا کہ افغانستان کےمسئلےکا کوئی فوجی حل نہیں ہے، افغان حکومت مسئلے کے حل کیلئے سیاسی مصالحت پر یقین رکھتی ہے امن کے لیے ملک میں قبل از وقت انتخابات کی پیشکش کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اس حوالے سے کہنا تھا کہ اشرف غنی کو انتخابات میں تاخیر کرنی چاہیے تھی افغانستان کا پاکستان پر جہادی بھیجنے کا الزام احمقانہ ہے، افغانستان جہادی بھیجنے کے ثبوت کیوں نہیں فراہم کرتا۔

امریکا نےافغانستان میں ستیاناس کردیا وہ جس مقصد کیلئے بھی افغانستان گیا اس کا طریقہ کار ٹھیک نہیں تھا عمران خان

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں ناکامی کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جارہا ہے، پاکستان کا موقف واضح ہے کہ امریکا اور طالبان مذاکرات کی میز پر آئیں، امریکا اور طالبان کو ایک میز پر لانے کے لیے ہم نے کردار ادا کیا افغان عوام کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس قسم کی حکومت چاہتے ہیں، سب نے دیکھا افغان مسئلے کا فوجی حل ناکام ہوا جب کہا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں تو مجھے طالبان خان کہا گیا۔

طالبان جنگجو نہیں عام شہری کی طرح ہیں وزیر اعظم عمران خان