fbpx

افغانستان کا امن ایشیا کے لئے ناگزیر :تحریر: محمد جاوید 

گزشتہ کچھ دہائیوں سے افغانستان کے حالات میں نشیب و فراز دیکھنے کو ملا ہے۔ خاص کر ورلڈ ٹریڈ سینٹر پہ حملے کے بعد افغانستان میں امریکی جارحیت  نے خطے میں جیوگرافیائی ، سیاسی ، معاشی اور معاشرتی اثرات مرتب کئے ہیں۔

افغانستان روس کی طرح امریکہ کے لیے  قبرستان ثابت ہوا اور  شکست خوردہ ھو کر یہاں سے راتوں رات تاجکستان کے راستے سے رہ فرار اختیار کررہا ہے۔

امریکی آمد کی طرح اسکی یہاں سے روانگی بھی خطے کے حالات کو نیا روخ دے گی۔ افغانستان کے ساتھ ساتھ اس کے ہمسایہ ممالک بھی اس تبدیلی کو محسوس کرینگے ۔خاص کر پاکستان ایران اور انڈیا کے اندر اس تبدیلی کے جھٹکے محسوس کئے جائیں گے۔
انڈیا اس وقت بہت "شش و پنج”  میں مبتلا ہے ایک طرف افغانستان میں انڈین انویسٹمنٹ ڈوب رہی ہے اور "ڈوبتے ہوۓ کو تنکے کا سہرا” کے مصداق انڈیا افغان حکومت کو بچانے کی "تگ و دو "میں لگا ہوا ہے اور دوسری طرف افغان طالبان سے ملنے کے لئے بھی کوشاں ہے۔ مگر اب تک منہ کی کھانی پڑی ہے مستقبل میں بھی ایسا لگ رہا کہ انڈیا کا رول امریکہ کے ساتھ افغانستان سے ختم ہورہا ہے اور اب انڈیا کو افغانستان میں پاکستان مخالف سازشیں کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔

رہی بات پاکستان کی تو وہ بھی اس تبدیلی کو ماضی کی طرح پھر سے محسوس کرے گا۔ افغانستان سے امریکی روانگی سے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بھی ایک نیا موڑ آئے گا۔پاکستان کو امریکہ کے جانے کے بعد ایک بڑا چیلنج کا سامنا ہے کہ کسی طرح افغانستان میں امن قائم ہو اور خانہ جنگی نہ ہو ۔
اگر خدا نہ خواستہ افغانستان میں ایک بار پھر خانہ جنگی ہوتی ہے تو اس کے برے اثرات یقینی طور پر ماضی کی طرح پاکستان پہ مرتب ہونگے اسلیے پاکستان مستحکم  اور پرامن افغانستان کے لئے ہر ممکن کوشیش کرے گا۔

پروفیسر عمیر انس کہتے ہیں کہ "ایران کے پاس ایک نیا صدر ہے اور انڈیا اس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کی نئی حکومت کے ساتھ تیل کی قیمتوں پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن کی آمد کے بعد ایران پر کچھ پابندیاں ہٹائے جانے کی امید ہے اور ممکن ہے کہ انڈیا اس سے فائدہ اٹھانا چاہے گا۔”
افغانستان کے حالات نازک دور سے گزر رہے  ہیں خطے کا ہر ملک آنے والے حالات سے اضطراب کی کفیت میں دیکھائی دے رہا ہیں۔
اب خطے کے دیگر ممالک کو چاہئے کہ ایک بلاک بنا کر چین روس کے ساتھ ملکر افغانستان کے امن کے لئے کوشش کریں نہیں تو یہ خانہ جنگی کے منفی اثرات پورے خطے کے ممالک پر ہونگے۔ اس لئے ضروری ہے کہ افغانستان میں امن ہو اور افغانستان کا امن ایشیا کے لئے ناگزیر ہے۔