fbpx

افغانستان ميں امن بگڑتا ہے تو پڑوسی زیادہ متاثرہوتے ہیں،معصوم لوگوں کا تحفظ ہمیں یقینی بنانا ہے، شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے تاجکستان میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس اور افغانستان کی بدلتی ہوئی صورتحال پراہم بیان جاری کردیا ہے.

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ میں اس وقت شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے تاجکستان میں موجود ہوں، میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے کے اہم ممالک سے افغانستان کی صورتحال پربات کرنا چاہتا ہوں، اہم ممالک کے سامنے پاکستان کا نکتہ نظرپيش کرنا چاہتا ہوں، ان کی آراء سے مستفید ہونا چاہتا ہوں، تاجکستان کے وزيرخارجہ سے افغانستان کی صورتحال پرمیری تفصیلی گفتگوہوئی ہے، آج میری ازبکستان، قازقستان اورافغانستان کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ملاقات ہوگی، روس اورچین کے وزرائے خارجہ سے بھی میری ملاقات متوقع ہے، یہ سب خطے کے اہم ممالک ہیں اورافغانستان کی صورتحال پرنظربھی رکھے ہوئے ہیں.

شاہ محمود قریشی نے عالمی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ان اہم ممالک سے مشاورت کے بعد متفقہ حکمت عملی اپنائی جائے، پاکستان اپنی ذمہ دارياں احسن طریقے سے نبھا رہا ہے، افغانستان کی صورتحال بہترہونے کا سب کو فائدہ ہوگا، اگرخوانخواستہ افغانستان کی صورتحال بگڑتی ہے تو سب متاثر ہوں گے، سنہري موقع ہے کہ مشاورتی عمل کوآگے بڑھايا جائے، افغانستان ميں امن بگڑا تو پڑوسی زیادہ متاثرہوں گے، پاکستان واحد ملک ہے جو کئی دھائیوں سے تيس لاکھ افغان پناہ گزينوں کی خدمت کررہا ہے، ہم نے محدود وسائل کے باوجود افغان پناہ گزينوں کی خدمت جاری رکھی ہے.

شاہ محمودقریشی نے دوبارہ حالات کی سنگینی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اب اگرخدانخواستہ حالات خراب ہوتے ہیں تو ہم مزید افغان پناہ گزينوں کو رکھنے کے متحمل نہيں ہوسکتے ہیں، ہم نے اپنے ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کیلئے سترہزارجانوں کے ساتھ ساتھ بھاری معاشی قیمت ادا کی ہے، افغان پناہ گزینوں کی آڑمیں ایسےعناصربھی داخل ہوسکتے ہیں جوہمیں نقصان پہنچائیں گے، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان میں قیام پذیرافغان پناہ گزينوں ميں اکثريت معصوم لوگوں کی ہے، یہ معصوم افغان پناہ گزين اپنے ملک واپس لوٹنا چاہتے ہيں، پناہ گزينوں کي آڑميں پاکستان کے دشمن داخل ہوسکتے ہيں، ہم نے بہت بڑی قيمت ادا کی، محتاط رہنا ہمارا فرض ہے، معصوم لوگوں کی جانيں بچانے کا ہميں حق ہے، ہم انسانی ہمدردی کے تحت ان کی معاونت کرنا چاہتے ہیں، لیکن اپنے معصوم لوگوں کا تحفظ بھی ہمیں یقینی بنانا ہے.

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان ميں دیرپا امن و استحکام ہو، ہم پرکب تک انگلیاں اٹھائی جاتی رہیں گی، میں ان سے یہی کہوں گا کہ ماضی کی غلطیوں کومت دہرائيں مل بيٹھ کر راستہ نکاليں، افغانستان کی اہم شخصيات کو بات چيت کی دعوت ديتے ہيں، افغان قائدین بيٹھيں اوربتائيں ہم کيسے ان کی مدد کرسکتے ہيں.

شاہ محمود قریشی نے بھارت پربات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے افغانستان میں سپائیلرکا کردارادا کيا، بھارت خطے کے امن ميں خلل ڈال رہا ہے، عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کو منفی رويئے سے منع کرے، بھارت افغانستان کو امن سے رہنے دے.