fbpx

افغانستان کا مستقبل. تحریر، نوید شیخ

افغانستان کا مستقبل ایک مرتبہ پھر انتہائی غیریقینی صورت حال سے دوچار نظرآتاہے۔ بین الافغان مذاکرات پچھلے دومہینوں سے تعطل کاشکار ہیں جس کاسب سے بڑا نقصان یہ ہورہا ہے کہ فریقین کے درمیان پرتشدد کاروائیوں میں بے پنا اضافہ ہورہا ہے ۔ دونوں اطراف سے ایک دوسرے کو مارنے کی اطلاعات آرہی ہیں ۔ طالبان نے توحالیہ ہفتوں کے دوران اپنی کاروائیوں میں اتنی شدت لائی ہے کہ ملک کے کئی صوبوں میں انہوں نے زمینی اہداف حاصل کرلیے ہیں۔

۔ دیکھا جائے توپچھلے بیس برسوں کے دوران افغانستان پہلی مرتبہ ایک نہایت نازک موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔

۔ اس لیے اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکا کے افغانستان سے انخلا کے بعد پیدا ہونے والے سیکیورٹی خلا کے حوالے سے پاکستان کی پریشانی بڑھ رہی ہے۔ اسی تناظر میں شیخ رشید نے کہا ہے کہ آنے والے مہینوں میں پاک افغان باڈر پر باڑ مکمل کر لی جائے گی ۔ کیونکہ افغان گروہوں کے درمیان مفاہمت کے پہلے سے ہی کم امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مدھم ہوتے جا رہے ہیں۔

۔ آئندہ چند روز میں بین الافغان مذاکرات کا ایک اور دور ہونے والا ہے لیکن پاکستانی حکام کسی بریک تھرو کے حوالے سے زیادہ پرامید نظر نہیں آتے۔

۔ اس سے پہلے پاکستان نے دیگر چیزوں کے علاوہ عبوری حکومت پر زور دیا تھا لیکن افغان صدر اشرف غنی کی سخت مخالفت کی وجہ سے یہ خیال زور نہ پکڑ سکا۔

۔ دوسری جانب طالبان بھی اس امید پر امن معاہدے کے زیادہ خواہشمند نہیں کہ وہ میدان جنگ میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

۔ پاکستان کا اندازہ یہ ہے کہ امریکا کے انخلا کے بعد افغان سیکیورٹی فورسز میں ملک سنبھالنے کی صلاحیت نہیں ہے۔

۔ یہ بات اب عیاں ہوچکی ہے کہ عیارامریکہ کوافغان حکومت اورنہ ہی طالبان عزیز ہیں بلکہ اپنے مفادات اس کی اولین ترجیح ہیں ۔ کیونکہ دوحہ قطر مذاکرات کی کوئی منزل نہیں ملی اس لیے امریکا نے اس بات چیت سے خود کو الگ کرتے ہوئے انخلا کا یکطرفہ فیصلہ کرکے خطے میں ایک عظیم کنفیوژن پیدا کردی ہے ۔

۔ افغانستان میں سب سے خوفناک منظرنامہ خانہ جنگی کا ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ امریکا خود بھی خانہ جنگی چاہتا تھا یا پھر اسے فرار کی اس قدر جلدی تھی کہ اس نے کئی پہلوؤں پر غور ہی نہیں کیا۔

۔ سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے انخلا کی تاریخ ایسے وقت پر دی جب افغان فریقوں کے درمیان استنبول میں مذاکرات ہونے والے تھے۔ اس کانفرنس میں عبوری حکومت کے قیام پر بات ہونا تھی اور امن کے لیے یہی سب سے اہم نکتہ تھا لیکن بائیڈن انتظامیہ کے اعلان کے بعد افغان طالبان نے استنبول نہ جانے کا اعلان کیا۔

۔ بائیڈن کے غیر مشروط انخلا کے اعلان کے بعد طالبان قیادت نے فیصلہ کیا کہ مکمل فوجی انخلا تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ دراصل اس فیصلے کے پس پردہ یہ سوچ تھی کہ غیر ملکی افواج کے نکلنے کے بعد کابل پر قبضہ مشکل نہیں ہوگا۔ بائیڈن انتظامیہ کے بغیر سوچے سمجھے اعلان نے خانہ جنگی کا امکان بڑھا دیا ہے۔ اس لیے اب نئے مسائل سر اٹھا سکتے ہیں۔

۔ یہ بھی عین ممکن ہے کہ واشنگٹن افغانستان میں نئی خانہ جنگی کا خواہاں ہو کیونکہ اس خانہ جنگی سے روس اور چین کو نئے محاذ پر توجہ دینا پڑے گی اور امریکا خطے میں اپنے عزائم کو پروان چڑھانے اور چین کی فوجی و اقتصادی ترقی روکنے کے لیے نئی منصوبہ بندی کے قابل ہوجائے گا۔

۔ ایک اور منظرنامہ یہ ہے کہ کابل ایئرپورٹ طالبان کے قبضے میں جانے کی صورت میں افغانستان میں تمام سفارتی مشن خطرے میں پڑ سکتے ہیں، آسٹریلیا پہلے ہی سفارت خانہ عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کرچکا ہے جبکہ امریکا سمیت تمام اہم ملکوں کے سفارتی عملے میں کمی کی جاچکی ہے۔ اگر سفارتی مشن بند ہوگئے تو افغان مسئلے کے حل کی کوششوں کو ناقابلِ تلافی دھچکا لگے گا۔

۔ افغان فورسز کو اب تک امریکی افواج کی فضائی مدد حاصل تھی جو طالبان کو پیش قدمی سے روکے ہوئے تھی۔
11
ستمبر کو جب انخلا مکمل ہوجائے گا تو یہ مدد بھی ختم ہوجائے گی جبکہ افغان فضائیہ کا امریکی اور نیٹو مددگاروں کے بغیر قابل پرواز رہنا بھی محال نظر آتا ہے۔

۔ ایسی صورتحال میں افغان فوجیوں کا وفاداری بدلنا اور جنگی سرداروں یا طالبان کی اطاعت قبول کرنا ممکنہ منظرناموں میں شامل ہے۔

۔ امریکا فوجیوں کے انخلا کا
44
فیصد عمل مکمل کر چکا ہے۔ دراصل جس رفتار سے انخلا کا عمل جاری ہے اس نے بھی پاکستان کے خدشات کو ہوا دی ہے۔

۔ افغانستان میں اہم ہوائی اڈے بگرام ایئر بیس پر امریکی فوج اور رسد کا سب سے زیادہ دارومدار تھا وہ بھی خالی کیا جارہا ہے اور توقع ہے کہ آئندہ پندرہ سے بیس دنوں تک بگرام بیس افغان فورسز کے حوالے کردی جائے گی۔

۔ امریکا شاید جولائی یا اگست تک انخلا کا عمل مکمل کرلے اور کابل میں صرف اپنے سفارتخانے کی حفاظت کے لیے تھوڑی سے فوج چھوڑ جائے۔

۔ اسکے بعد نظر آرہا ہے کہ طالبان کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنی سرگرمیوں میں مزید اضافہ کریں اور کابل کی طرف دبائو بڑھائیں۔ دوسری طرف پاکستان میں اندرونی اور سرحدوں پر سیکورٹی خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس سے مزید پناہ گزین پاکستان کی جانب آنے کا امکان ہے ۔ اور ہماری معیشت تو پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔

۔ حقائق یہ ہیں کہ افغانستان سیکیورٹی کا ڈراؤنا خواب بھی ثابت ہو سکتا ہے، افغانستان میں چھپے ہوئے پاکستانی دہشت گرد بھی صورتحال خراب کر سکتے ہیں۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ پاکستان میں حملوں کے لیے شرپسند عناصر گٹھ جوڑ کر لیں۔

۔ افغان حکومت کی ہچکچاہٹ، داخلی کمزوریوں، مخاصمت، وژن کی کمی اور جنگجو دھڑوں کے دباؤ نے فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا ہے ۔ اسی لیے طالبان کے تیور بھی بدلے ہوئے ہیں ۔ اب وہ فرنٹ فٹ پر نظر آتے ہیں ۔

۔ اس وقت افغانستان میں
30
فیصد سے زیادہ علاقوں پر طالبان کا کنٹرول ہے اور یہ سلسلہ مزید بڑھ رہا ہے۔ افغان حکومت کا عمل دخل
40/45
فیصد علاقے تک محدود ہے۔

۔ اس لیے کہتا ہوں کہ اس وقت اشرف غنی کی اپنی کوئی سیاسی حیثیت نہیں۔ وہ مغربی بیساکھیوں کے سہارے اقتدار میں ہیں امریکیوں کے نکلتے ہی اگلے دن کابل حکومت گِرے نہ لیکن آخر کارہونی تو ہو کر رہے گی۔

۔ اس وقت مغربی افواج کی مدد کرنے والے بہت سے افغانی مغربی ویزوں کے متلاشی نظر آتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندانوں کوطالبان حکومت سے بچا کر یورپ اور امریکا میں آباد کر سکیں۔

۔ اس میں اب کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں افغانستان سے حیران کر دینے والی خبریں آ سکتی ہیں۔

۔ اس لیے افغانستان میں امن کا قیام پاکستان کے لئے نہایت اہم اور ضروری ہے۔

۔ ایسے لگتا ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے نکلنے کی گزشتہ تاریخ دہرانے کا ارادہ کیا ہے جس کے بعد افغانستان میں خون خرابے کا بازار گرم ہواتھا۔

۔ اس بار پھر امریکہ افغانستان کو آگ میں جھونک کرجارہا ہے اور یہ ایسے وقت اور حالات میں کیا جارہا ہے کہ نہ تو امن معاہدے پر فریقین کی جانب سے عمل ہورہا ہے اور نہ حالات میں بہتری کی کوئی کرن نظر آرہی ہے۔

۔ کیونکہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان نئی تلخیاں جنم لے چکی ہیں اور خطے میں امریکا کے نئے فوجی اڈوں کے امکانات پر طالبان بھی کسی ملک کا نام لیے بغیر دھمکی آمیز بیانات جاری کر رہے ہیں۔ یہ ایسا منظرنامہ ہے جو عدم استحکام کو مزید گہرا کرسکتا ہے اور اس سے پورا خطہ متاثر ہوسکتا ہے۔

۔ کابل انتظامیہ میں بھی پاکستان کے دشمنوں کی بڑی تعداد بیٹھی ہے جن میں ایک اشرف غنی کے قومی سلامتی مشیر حمداللہ محب بھی ہیں۔ پچھلے دنوں حمد اللہ محب نے پاکستان سے متعلق ایک گھٹیا تبصرہ کیا اور پاکستان نے افغان حکومت کے ساتھ اس پر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ ایک اطلاع یہ ہے کہ پاکستان نے افغان قومی سلامتی مشیر کے ساتھ رابطوں اور کام کرنے سے بھی معذرت کرلی ہے۔ اس کے علاوہ امراللہ صالح اور اس جیسے کئی عہدے دار ہیں جو اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالتے رہتے ہیں۔

۔ دراصل یہ بھارت نواز سیاستدان اور سیکیورٹی عہدے دار ہیں۔ بھارت کابل انتظامیہ کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتا ہے تاکہ پاکستان اپنی پوری توجہ اور فوجی صلاحیت افغان بارڈر پر لگائے رکھے۔

۔ اس لیے بدلتی ہوئی صورتحال میں نئے اتحادوں میں پاکستان کو اپنی جگہ بنانی اور مضبوط کرنی چاہیے تاکہ علاقائی سیکیورٹی کا جو نیا نظام تشکیل پا رہا ہے اس میں نہ صرف پاکستان شراکت دار ہو بلکہ اپنے مفادات کا بہتر تحفظ بھی کرسکے۔

۔ کیونکہ امریکا افغانستان سے انخلا کے بعد جاپان اور بھارت کو افغانستان میں اثر و رسوخ کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ ان دونوں ملکوں کی ماضی میں افغانستان کے ساتھ کوئی مخالفت یا دشمنی نہیں رہی، کابل کی موجودہ انتظامیہ کو اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے بیرونی مالی اور فوجی مدد پر انحصار کرنا پڑے گا اور امریکا خطے میں نئے چار فریقی اتحاد کو اس مقصد کے لیے استعمال کرے گا۔

۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں پاکستانی قیادت کو بہت سوچ سمجھ اور غیر معمولی مہارت سے قدم اٹھانے ہوں گے۔ دور اندیش قیادت ایسے ہی موقعوں پر بہترین فیصلے کرکے قومی قیادت کی اہل کہلا سکتی ہے۔ چیلنجز بہت ہیں۔خطرات منہ کھولے کھڑے ہیں،خدا کرے پاکستان سُر خرو ہو۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.