fbpx

افغانستان کے 26 صوبوں میں حکومتی فورسز اور طالبان میں جھڑپیں جاری

افغانستان کے 26 صوبوں میں حکومتی فورسز اور طالبان میں جھڑپیں، غزنی اور قندھار سمیت کئی بڑوں شہروں پر قبضہ کے لیے گھمسان کا رن جاری ہے، کابل سمیت کئی بڑے شہروں میں بے یقینی کی صورت حال ہے۔ افغان میڈیا

باغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے 34 میں سے 26صوبوں میں حکومتی فورسز اور طالبان کے مابین لڑائی میں 24گھنٹے میں200کے قریب ہلاکتوں کی اطلاع ہے قندھار، قندوز، کابل، تخار، بامیان، پروان اور بلخ صوبوں میں طالبان نے افغان فورسز پر حملے کئے ہیں۔

افغان میڈیا کے مطابق افغانستان فورسز نے 200کے قریب طالبان جنگجووں کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ طالبان نے حکومتی فورسز کے دعوے کو مسترد کردیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ قندھار شہر میں پولیس اسٹیشن اور کئی چیک پوسٹوں کا قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

افغان طالبان آگئے توبہت ماریں گے: بھارت نے قندھار کا قونصل خانہ بند کر دیا

طالبان کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبہ قندوز میں حکومتی فورسز کے دو ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گئے۔ صوبہ پکتیکا میں سکیورٹی اہلکار مزاحمت کئے بغیر طالبان کے ساتھ شامل ہو گئے۔

ادھر افغان عوام حکومت اور طالبان سے جنگ بندی کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ کابل کے شہریوں کا کہنا ہے چار دہائیوں سے بدامنی میں رہنے پر مجبور ہیں، اب ان کے ملک میں امن ہو جانا چاہے۔

شہری کا کہنا تھا کہ فریقین لڑ رہے ہیں اور عوام بیچ میں پھنس چکے ہیں۔ افغان شہریوں نے موجودہ صورت حال پر امریکا کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو افغانستان کے مستقبل کی کوئی فکر نہیں۔

صدر اشرف غنی نے بگرام ایئر بیس سے چار جنریٹر کیوں منگوائے