fbpx

افغانستان کی سرزمیں پاکستان کے خلاف دہشتگردوں کا بیس کیمپ — بلال شوکت آزاد

افغانستان کو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے اڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور یہ استعمال آج بھی بدستور جاری و ساری ہے، کچھ گروہ جیسا کہ ٹی ٹی پی حملوں کی منصوبہ بندی اور تعاون کے لیے ملک کے پہاڑی اور زیادہ تر غیر حکومتی علاقوں کو استعمال کرتے ہیں جن کو کسی نا کسی افغان طالبان گروہ کی پشت پناہی حاصل رہتی ہی ہے۔ یہ مسئلہ اب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث بن رہا ہے، اور اس کے خطے کے استحکام اور سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے لیکن اگر امارت اسلامیہ افغانستان چاہے تو بات چیت سے مسئلہ سلجھ سکتا ہے۔

اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ بعض عسکریت پسند گروپوں نے پاکستان پر حملوں کے لیے افغانستان کو ایک اڈے کے طور پر استعمال کیا ہے اور آج بھی یہ ان کا بیس کیمپ ہے۔ مثال کے طور پر، افغان طالبان کا ایک ناراض دھڑا جو خود کو تحریک طالبان پاکستان عرف ٹی ٹی پی کہتے ہیں، جو افغانستان میں بھی کئی سالوں سے سرگرم ہے، اور یہی گروہ پاکستان میں حملے کرنے کا میں سر فہرست ہے۔ یہ گروپ خاص طور پر دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقوں میں سرگرم رہتا ہے، جہاں وہ سرحد کی غیر محفوظ نوعیت اور افغان اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کی محدود موجودگی کا فائدہ اٹھانے میں کامیاب رہتا ہے۔

افغانستان میں ان گروپوں کی موجودگی پاکستان کے لیے ہمیشہ سے تشویش کا باعث رہی ہے، کیونکہ افغانستان نے انہیں نسبتاً آسانی کے ساتھ پاکستانی سرزمین پر حملے کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ اس کے علاوہ، ان گروہوں نے افغانستان میں جو محفوظ پناہ گاہیں اور تربیتی کیمپ قائم کیے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان نے انھیں جنگجوؤں کو بھرتی کرنے، تربیت دینے اور مسلح کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، جس نے خطے میں عدم استحکام اور تشدد کو مزید ہوا دی ہے۔

افغانستان میں جاری سالوں کے تنازعے کی وجہ سے صورتحال مزید خراب تر ہوئی ہے، جس نے عسکریت پسند گروپوں کو افزائش نسل فراہم کی ہے اور افغان حکومت کے لیے ملک کی سرزمین پر اپنا کنٹرول رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔ اس نے تحریک طالبان پاکستان جیسے گروپوں کو نسبتاً استثنیٰ کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دے رکھی ہے، اور پاکستان اور افغانستان کے لیے انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں مؤثر طریقے سے تعاون کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

دن بہ دن دونوں ممالک کی سرحدوں پر کشیدگی کی خبریں بڑھ رہی ہیں جو کہ کسی محدود پیمانے کی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتیں ہیں۔ پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے قیام پاکستان سے لیکرآج تک افغانستان کے ساتھ دوستانہ بلکہ برادرنہ تعلقات کی کوشش کی ہے لیکن افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کو سوائے فتنوں اور نقصانات کے اور کچھ نہیں ملا۔

یہ بات اظہر الشمس واضح ہوچکی ہے کہ افغانستان پر خواہ اسلامسٹ نظریات کے حامل حکمران مسلط ہوں یا لبرل نظریات کے حکمران, دونوں صورتوں میں پاکستان کو افغانستان سے فقط تعصب, نفرت اور جانی و مالی نقصانات کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاکستان میں تب تک امن نہیں ممکن جب تک افغانستان سے متصل سرحدیں بند نہ ہوں اور اکثر یہ سوال دانشور طبقے میں زور پکڑتا جارہا ہے کہ پاکستان کے علاوہ دیگر اور ممالک کی سرحدیں بھی افغانستان کو لگتی ہیں لیکن اس ملک سے حملے فقط پاکستان پر ہی ہوتےہیں, کیوں؟ اس کیوں کا جواب ہم تو جانتے ہیں لیکن دنیا کو منوانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

مجموعی طور پر یہ بات واضح ہے کہ افغانستان کو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے اڈے کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور اس کے خطے کے استحکام اور سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ دہشت گردی کی بنیادی وجوہات اور اس سلسلے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کریں۔