fbpx

افغانستان کی صورتحال، ن لیگ نے بھی پالیسی بیان جاری کر دیا

افغانستان کی صورتحال، ن لیگ نے بھی پالیسی بیان جاری کر دیا

‏پاکستان مسلم لیگ (ن) کا افغانستان کی صورتحال پر اہم پالیسی بیان سامنے آیا ہے

پارٹی قائد نوازشریف کی زیرصدارت پاکستان مسلم لیگ (ن) کا افغانستان کی صورتحال سے متعلق اہم مشاورتی اجلاس منگل کومنعقد ہوا جس میںپارٹی کے صدر محمد شہبازشریف، شاہد خاقان عباسی، خواجہ محمد آصف، احسن اقبال،‏محمد اسحاق ڈار،مریم نوازشریف، پرویز رشید، سردار ایاز صادق، رانا تنویر، سید مشاہد حسین، خواجہ سعد رفیق،انجینئر امیر مقام,خرم دستگیر، رانا ثناءاللہ، مریم اورنگزیب اور عطاءاللہ تارڑ شریک تھے۔

‏پاکستان مسلم لیگ (ن) نے وزیراعظم محمد نوازشریف کے دور حکومت میں افغانستان میں قیام امن اور مفاہمت ومصالحت کے لئے کی جانے والی کوششوں کا حوالہ دیا۔ محمد نوازشریف کے تین ادوار حکومت کے دوران پاکستان نے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ باہمی احترام پر مبنی تعلقات استوار رکھے۔‏پاکستان مسلم لیگ (ن) کابل میں طالبان اور دیگر متعلقہ فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے پُرامید ہے کہ اس بات چیت کے نتیجے میں افغانستان میں اجتماعیت کی حامل اور وسیع البنیاد حکومت تشکیل پائے گی ۔

‏افغانستان میں قومی اتفاق رائے کا حصول افغان عوام کو امن ومفاہمت سے ہمکنار کرنے کی طرف ایک بڑا قدم ہوگا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) افغان عوام کی خودمختاری کا احترام کرتی ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی مداخلت سے مکمل آزادی کے ساتھ اپنے سیاسی مستقبل کااز خود تعین کریں۔‏افغان سرزمین نہ تو کسی ہمسائے کے خلاف استعمال ہوسکتی ہے، نہ ہی کسی دوسرے ملک کی سرزمین کواستعمال میں لاتے ہوئے افغانستان کی خودمختاری کا تعین کیاجاسکتا ہے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ ریاست پاکستان اور اس کے عوام کی خودمختاری کا بھی اسی جوابی جذبے کے ساتھ احترام کیاجائے گا۔

‏پاکستان مسلم لیگ (ن) اس امر پر شدید مایوسی کا اظہار کرتی ہے کہ ایک ایسے موقع پر جب عالمی برادری افغانستان میں وقوع پزیر صورتحال پر غوروخوض کررہی ہے اور اس ضمن میں اپنی قومی پالیسیز کی تشکیل میں مصروف عمل ہے،‏پی ٹی آئی کی حکومت کی اولین ترجیح سیاسی انتقام اور اپوزیشن کوکچلناہے جبکہ پارلیمنٹ اس اہم معاملے پر تاحال تالہ بندی کا شکار ہے۔

‏پاکستان مسلم لیگ (ن) محسوس کرتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن، سلامتی اور استحکام آپس میں جُڑے ہوئے ہیں اور دونوں برادر ہمسایہ ممالک کو تجارت اور قریبی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ یہاں کے عوام اور خطے کے لئے ایک خوش حال مستقبل کی تعمیر ممکن ہوسکے۔

طالبان کی حمایت میں بولنے پر بھارت میں دو مقدمے درج

حامد کرزئی،عبداللہ عبداللہ سے طالبان رہنماؤں کی ملاقات، بڑی یقین دہانی کروا دی

طالبان رہنما متحرک، حامد کرزئی کے بعد گلبدین حکمت یار سے ملاقات

امریکا اور اس کے حواریوں کی طرح بھارت بھی کشمیر سے بھاگے گا، سید علی گیلانی

افغان طالبان کا خواتین سمیت سب شہریوں کو اپنی ملازمتوں پر جانے کی ہدایت

ترکی طالبان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار

امریکی سیکریٹری خارجہ کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ

انتظار کی گھڑیاں ختم، طالبان کا اسلامی حکومت تشکیل دینے کا اعلان

طالبان اب واقعی بدل گئے، کابل کے شہریوں کی رائے

افغانستان میں کیسی حکومت ہونی چاہئے؟ شاہ محمود قریشی کی تجویز سامنے آ گئی

کابل ایئر پورٹ پر ہنگامی صورتحال، طالبان کے کنٹرول کے بعد پہلا نماز جمعہ

افغانستان سے غیر ملکی صحافیوں کا انخلا ،وزیراعظم کی زیر صدارت خصوصی اجلاس

افغان طالبان نے حکومت سازی کے حوالہ سے اہم اعلان کر دیا

طالبان نے 100 بھارتی شہریوں کو اغوا کر لیا، بھارتی میڈیا کا دعویٰ،مودی سرکار چپ