fbpx

افغانستان میں ایسی جامع حکومت بنائی جائے جوتمام طبقات کی نمائندگی کرے قاسم سوری

قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ کابل میں ایک ایسی جامع حکومت بنائی جائے جو افغانستان کے تمام طبقات کی نمائندگی کرے۔

باغی ٹی وی : قاسم خان سوری اس وقت پارلیمنٹ کے سپیکرز کی پانچویں عالمی کانفرنس میں شرکت کیلئے ویانا کے سرکاری دورے پر ہیں یہ کانفرنس اقوام متحدہ کے ویانا دفتر میں ہو رہی ہے جس میں 100 سے زائد ممالک کے سپیکرز اور اراکین اسمبلی شرکت کر رہے ہیں۔

قاسم سوری کے ساتھ پیپلز پارٹی کے رضا ربانی، نفیسہ شاہ، سینیٹر شیری رحمان، سائرہ بانو، سیکرٹری قومی اسمبلی طاہر ملک، ڈائریکٹر ٹو ڈپٹی سپیکر زید رفیق بھی پاکستان کے وفد میں شامل ہیں۔

پائیدار ترقی کے حصول کے لیے اقتصادی ترقی کے مقابلے میں انسانی فلاح و بہبود اور ماحولیاتی تحفظ پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہے‘ کے عنوان سے انٹریکٹو عمومی بحث کے دوران ڈپٹی اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار ترقی کے لیے جامع پالیسی کی کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ ماحول کی طرف ایک مشترکہ رستہ وضع کیا جاسکے۔

انہوں نے پاکستان کے ’گرین اکنامک اسٹیمولس انیشیٹو‘ کو بھی اجاگر کیا بتایا کہ گرین پاکستان پروگرام کے تحت پاکستانی حکومت کی توجہ نہ صرف 10 ارب درخت لگانے پر ہے بلکہ قابل تجدید توانائی کے وسائل پر بھی ہے۔

افغان طالبان نے دنیا سے غیر مشروط امداد کا مطالبہ کر دیا

قاسم سوری نے افغانستان کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ افغانستان میں امن اور استحکام پاکستان اور خطے کے لیے بہت ضروری ہے۔ پاکستان نے افغانستان سے انخلا کی کوششوں کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔

انہوں نے کابل میں ایک ایسی جامع حکومت کی ضرورت پر زور دیا جو افغانستان کے تمام طبقات کی نمائندگی کرے اور بنیادی حقوق بشمول خواتین کے حقوق کا احترام کرے۔

قاسم سوری نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں مزید عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر ایسا ہوا تو پاکستان کیلئے مہاجرین اور سیکیورٹی کے چیلنجز پیدا ہوجائیں گے۔