fbpx

افغانستان میں مغربی ممالک کیلئےکام کرنےوالےافغانوں کوترکی میں پناہ نہیں دےسکتے ترک صدر

ترک صدر نے افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھانے سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی یورپی یونین کی ذمہ داریاں نہیں اٹھا سکتا۔

باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ترکی نے افغان مہاجرین کو روکنے کے لیے اپنی سرحد پر سیکیورٹی بڑھائی ہے اور ترک سیکیورٹی فورسز کا ایران سرحد کے ساتھ مسلسل گشت جاری ہے جبکہ ترکی کی سرحد پر موجود افغان مہاجرین کی سخت چیکنگ بھی کی جا رہی ہے۔

ترک صدر نے کہا کہ افغانستان میں مغربی ممالک کےلیےکام کرنےوالےافغانوں کوترکی میں پناہ نہیں دےسکتے،ہمیں افغانستان میں یورپی یونین کےمشن کےمقامی ملازمین کوپناہ دینےکی درخواست ملی ہے۔

پی آئی اے پرپابندیاں لگانے والی یورپی یونین کاتکبرخاک آلود:افغانستان سے یورپین…

اس حوالے سے ترک صدر طیب اردوان نے کہا ہے کہ دوسرے ممالک اپنی ذمہ داریاں ترکی پر نہ ڈالیں اور ترکی مہاجرین کی ایک اور لہر برداشت نہیں کر سکے گا۔

ترک صدر جب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ رکن ممالک نے ان افراد کے چھوٹے سے گروہ کےلیے اپنے دروازے کھولے ہیں جنھوں نے ان کے لیے کام کیا ہے ،یہ اُمید نہ رکھی جائے کہ ترکی تیسرے ملکوں کی ذمے داری اٹھائے گا-

انہوں نے کہا کہ ترکی افغانستان کے معاملے پر یورپی یونین کی ذمہ داریاں نہیں اٹھا سکتا تاہم ترکی افغانستان کے معاملے پر اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے اور ترکی پہلے ہی 50 لاکھ مہاجرین کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یورپی یونین کاترکی سے زیادہ تارکین وطن کی میزبانی کی توقع رکھنا غیر حقیقی ہے۔

خیال رہے کہ ا س سے پہلےسربراہ یورپین کمیشن نے کہا تھا کہ تمام ممالک بالخصوص یورپی ممالک افغان مہاجرین کی میزبانی کریں ۔

واضح رہے کہ افغانستان کی موجودہ صورتِ حال کے بعد افغان پناہ گزینوں کا داخلہ روکنے کے لیے ترکی نے ایران سے ملحق سرحد پر دیوار کی تعمیر شروع کر رکھی ہے ترکی افغان پناہ گزینوں کو روکنے کے لیے ایران سے ملحق سرحد پر 5 کلو میٹر طویل دیوار تعمیر کر چکا ہے جبکہ ترکی اس مقصد کے لیے ایران سے ملحق 295 کلو میٹر سرحد پر دیوار تعمیر کرنا چاہتا ہے۔

ملک بھر میں کورونا کے باعث مزید 80 اموات