fbpx

افغانستان اور دنیا تحریر : سکندر ذوالقرنین پارٹ نمبر ون

امریکہ 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے ہونے کے بعد جس میں تین ہزار لوگوں کی موت ہوئی تھی اس کا الزام اسامہ بن لادن کو لگا دیا گیا اور اس کو ایک مسلم ٹیرارسٹ کا نام دیا گیا تھا اور امریکا افغانستان آپہنچا میرے خیال میں یہ صرف مسلمانوں کو تنگ کرنےاور پاکستان چین ایران اور روس کا راستہ روکنے کے لئے کیا کیا اور بعد  ایسے ہی پاکستان بھی کسی کی لڑائی میں کود پڑا

کسی کی جنگ میں ہم نے اپنے ستر ہزار لوگوں کو کھو دیا اور ایک ڈیڑھ سو ارب  کا نقصان ہوا

اور ہم پر ہی الزام ڈال دیا کہ سارا قصور ہمارا ہے

امریکہ نے بیس سال تک جنگ کی اور اس بیس سالوں میں بہت سارے واقعات ہوئے اور اس میں ایک واقعہ اسامہ بن لادن کو مارنے کا ڈرامہ بھی ہوا جو 2011 میں پاکستان میں ہوا

بیس سال بعد امریکہ کو شکست نظر آئی اور امریکہ کا جنازہ دھوم دھام سےنکلا
 امریکا نے طالبان سے معاہدہ کیا جو معاہدہ ہوا تھا اس کے مطابق ایک مئی  دو ہزاراکیس کو امریکہ کو افغانستان میں نکلنا تھا لیکن وہاں حکومت تبدیل ہونے کی وجہ سے اس معاہدے کو  توسیع دی گئ اس پر عمل درآمد کرنے کا وقت آچکا تو انحلا شروع ہوچکا تھا

تو آہستہ آہستہ طالبان نے افغانستان کو فتح کرنا شروع کردیا ایک مہینے پہلے افغان حکومت بتا رہی تھی کہ  طالبان سے ہم اپنا قبضہ واپس لے رہے ہیں اصل مسئلہ یہ تھا کہ افغان حکومت ایک کرپٹ تھی حکومت کی نااہلی کی وجہ سے
پورے افغانستان پر قبضہ ہوتا جارہا تھا

طالبان نے ایک حکمت عملی کے تحت افغانستان کے بارڈر پر اپنا کنٹرول حاصل کیا اور بعد میں لشکر گاہ قندھار اور ہرات پر قبضہ کرلیا اور افعان حکومت پاکستان پر الزام اور ٹیوٹر پر بس پاکستان سے جنگ کرنے میں مصروف رہے ہیں

بڑی بڑی باتیں کی گئی امریکہ کی انٹیلیجنس کا دعویٰ یہ تھا کہ طالبان  کا دو ماہ تک قبضہ ہو گا بعد میں ان کے اپنے اندازے غلط ثابت ہوئے ایک ماہ قبلُُ طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ ہمارے پاس  80پرسنٹ علاقہ موجود ہے جو کہ وقت نے ثابت کیا کہ ان کی بات درست تھی

بڑی بڑھکیں مارنے والے نظر ہی نہ آئے اشرف غنی اور محب اس طرح غائب ہوئے کہ جس طرح گدھےکے سر سے سینگ ہوتے ہیں پانچ چھ دن بعد پتہ چلا کے اشرف غنی دبئی میں موجود ہیں اور  بہت سارا مال   لے کر فرار ہوئے تھے اشرف غنی کی حکومت کی نااہلی تھی اور امریکہ کو یقین دہانیاں کرانے رہے کہ ہم لڑیں گے لیکن وہ تو چند دن بھی لڑ نہ کہ سکے اور پندرہ دن میں ہی طالبان نے کنٹرول حاصل کرلیا اور طالبان کابل پہنچے کی تاریخ بڑی دلچسپ ہیں پندرہ اگست 2019 تھی تھی

کہتے ہیں کسی ملک کے لیے یہ  سرپرائز سے کم نہیں تھا امریکہ اور یورپ کے اور بہت سارے ملک کو دیکھتے رہ گے

افغانستان طالبان کے قدموں میں پڑھا تھا امریکہ اور مغربی ممالک کو لینے کے دینے پڑ گیا اور اپنے فوجیوں اور شہریوں کو نکالنے کیلئے صبح و شام کوشش شروع کر دی 31 اگست سے پہلے نکلا جا سکیں اور کابل  ایئرپورٹ لوگوں سے بھر چکا تھا

سکیورٹی کے بہت خدشات تھے اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا اوردو دھماکے ہو گئے جس میں 178 افغانی تیرا امریکی مارے گئے

31اگست کے بعد طالبان کے پاس پنجشیر   کے علاوه تمام علاقے کنٹرول میں تھا  اور  احمد مسود کے ساتھ مذاکرات  کا سلسہ شروع ہوا اور بیس دن بعد مذاکرت ناکام ہونے کے بعد  جنگ شروع ہوئی اور چھ ستمبر کو پنجشیر فتح بھی
ہوگیا@sikander037 #sikander037

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!