fbpx

افغانستان اور خطے کے ممالک کا کردار ۔ تحریر : روشن دین دیامر

جن احباب کو افغانستان کی تاریخ کا علم نہیں تو ان کی معلومات کے لئے یہاں ایک تاریخی حقیقت بیان کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
تاریخ میں افغانستان پہ کسی غیر ملکی طاقت یا حکمران نے دو دفعہ حکومت کی ہے۔ ایک اشوک اعظم اور دوسرا اکبراعظم نے۔ اس کے علاوہ افغانستان پہ اج تک کسی نے حکومت نہیں کی ہے۔ اب کچھ دوست کہیں گے بھائی امریکہ نے حکومت کی تو عرض ہے امریکہ نے حکومت نہیں قبضہ کرنے کی کوشش کی جو وہ ناکام و نامراد ہوکے چلی گی۔

اب آئے ذرا تفصیل سے موجودہ صورت حال پہ روشنی ڈالتے ہیں۔ امریکی انخلاء کے بعد افغان کا ماضی کیا ہوگا؟ اس پہ ہر کسی نے اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہئں اور مختلف قیاس آرائیاں اور خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہم بھی چند گزارشات اپ کے نظر کرتے ہیں ۔
ایک اہم بات امریکی گزشتہ بیس سالوں میں افغانستان پہ مکمل کنڑول کبھی حاصل نہیں کر سکے تھے۔ اس کا شہری علاقوں پہ قبضہ رہا جبکہ دہاتی علاقوں پہ طالبان کی حکومت رہی ہے۔ چونکہ افغانستان ایک قبائلی معاشرہ ہے اسلئے یہاں کوئی منظم اور مضبوط حکومت کبھی نہیں رہا ہے۔ افغانستان کے گیارہ فیصد علاقہ شہری ہے جبکہ انانوے فیصد حصہ دہاتی ہے اور وہ بھی پاکستانی دہات کی طرح نہیں۔ افغان کے دہات ایک خالص قبائلی اور مزہبی ذہنت کے لوگوں پہ مشتمل ہیں۔ جو موجودہ دور میں بھی قرون وسطی جیسی سوچ ہے۔ پسماندہ قبائلی روایات بہت مضبوط ہے۔

موجودہ طالبان بھی وہ طالب نہیں رہے جو روس کے خلاف استمال ہوے تھے۔ اب یہ لوگ گزشتہ بیس سالوں سے امریکیوں سے لڑ لڑ کے سمجھ چکے ہیں کہ ریاست چلانے کےلے معاشی و سیاسی نظام بنانا ضروری ہوتا ہے۔ اب جب اچانک امریکہ باگ نکلا تو افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ پیدا ہوا ہے۔ اس کی وجہ امریکہ جاتے ہوے اپنا اسلحہ ساتھ لے کے نہیں گیا بلکہ اسے افغانستان میں چھوڑ کے جا رہا ہے۔ ابھی اگر وہ اسلحہ دائیش اور اِئی ایس جسے دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گیا تو خطے میں امن کےمسائل پیدا ہونگے۔ ایسے میں اس خطے کے ممالک کو اس حوالے ضرور اپنی حکمت عملی بنانا ہوگا ۔پاکستان، ایران، روس، چین، تاجکستان، ازبکستان سمیت دوسرے ممالک اس وقت افغانستان کے معاملے پہ بہت سنجیدگی سے غورکر رہے ہیں ۔وہ کسی صورت افغانستان میں خانہ جنگی ہونے نہیں دینگے۔ اس حوالے سے اگست کا مہنہ بہت اہم ہے۔ میری راے میں اگست تک یا اس کے بعد افغانستان میں ایک ایسی حکومت ترتیب دینے کی ضرورت ہے جس میں تمام فریق اپس میں مل کے نظام حکومت بنائیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جو بھی حکومت ہوگی اسے بہت مشکلات کا سامنا ہوگا۔ معاشی طور پہ اور دفاعی طور پہ بھی۔ کیونکہ افغانستان اس وقت شدید افراتفری اور معاشی بدحالی کا شکار ہے۔ مختلف مفادات رکھنے والے وار لارڈز اور مسلح جھتوں کا ایک جنگل بن چکا ہے۔ جسے صاف کرنے میں کچھ عرصہ تو ضرور لگے۔

امید ہے خطے کے ممالک افغانستان کو اس دلل سے نکالنے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں گے اور ایک دفعہ پھر پر امن افغانستان ابھرے گا اور خطے کے ترقی کے لے اپنا کردار ادا کرے گا.