fbpx

افغانستان پاکستان دشمنی کیلۓ بیس کیمپ . تحریر : ڈاکٹر راہی

جب ہم یہ کہتے تھے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان مخالف دشمنوں کے لئے بیس کیمپ بن گئی ہے تو ہمارے لبرل اورقوم پرست دوست بھد اڑاتے تھے۔ ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں سے لے کربلوچ علیحدگی پسندوں تک، ایران کے ایجنٹوں سے لے کر ہندوستانی دہشت گردوں تک سب ان کی چھتری تلے بیٹھے تھے۔ ہندوستان نے اربوں کی فائنانسنگ کابل اوردیگر شہروں میں کی تھی، کیونکہ پاکستان میں دراندازی
کے لئے افغانستان سے بہتر کوئی رستہ ممکن ہی نہیں۔ غرض ہمارے گوناگوں دشمنوں نے وہاں پرڈیرے ڈال رکھے تھے۔

یہاں پرایک اوربات بھی سامنے رہے پچھلے چند سالوں میں کے پی سمیت بلوچستان میں کثرت سے لوگ سامنے سے گم ہورہے تھے۔ ہرایرا غیرا نتھو خیرا پاکستانی حساس اداروں اورایجنسیوں پربلا امتیاز ذمہ داری ڈال رہا تھا۔ لاریب کہ ہمارے اداروں نے بھی اس جنگ کے دوران بہت زیادہ زیادتیاں کی ہیں۔ اسلام پسندوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا۔ ۔جس پرکسی درجہ میں بھی شک ہوا اورجو کسی قدربھی کسی قسم کی عسکریت یا تحریکیت میں شامل رہا تھا، اسے اٹھا کرہی چھوڑا کچھ چھوٹ بھی گئے، کچھ ہمیشہ کوغائب کردئے گئے۔ اس وقت ان کے اس عمل کا دفاع نہ مقصود یے، نہ ممکن ہے، تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ درست اورواقعیت پرمبنی ہے کہ ہرگم ہونے والے کو اغوا بھی نہیں کیاجاتا تھا بلکہ بہت سارے سرحد پارپناہ لیتے تھے اور وہاں سے پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہتے تھے۔

یہ بات یوں چلی کہ آج ایک بلوچ علیحدگی پسند رہنما کا بیان سامنے آیا ہے جس میں اس نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں موجود بلوچ پناہ گزینوں کی حفاظت کا بندوبست کرے۔ یہ پناہ گزین کون ہیں؟ یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ وہ غائب شدگان ہیں ،جن کا الزام ہماری پاکستانی ایجنسیوں پرلگایا جاتا تھا۔ اب معاملہ کھل رہا ہے کہ یہ حضرات افغانستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے شہزادگان عالیشان کا قبضہ وسیع ہوتا جائے گا، چیاو چیاؤ کرنے والوں کی یہ تعداد بڑھتی جائے گی۔ عالیشان کی یہ ایک کرامت کیا کم ہے کہ ان کے ابھرتے ہی پاکستان دشمن اپنے ٹھکانے ظاہرکرنے لگے ہیں۔ امید ہے کہ ہرگزرتے دن کیساتھ ان سب کا یوم حساب قریب آتا جائے گا۔

@IamRahiii