fbpx

افغانستان جنگ، امریکہ نے کتنے ارب ڈالر کمائے؟ تحریر:عفیفہ راؤ

امریکہ کی افغانستان کے ساتھ جنگ کے حوالے سے آج تک ایک بات تو بہت کی گئی ہے کہ اس جنگ میں امریکہ نے کئی ارب ڈالرز کا نقصان اٹھایا لیکن ایک بات جو آپ نے کبھی نہیں سنی ہو گی وہ یہ ہے کہ امریکہ نے اس جنگ سے کتنے ارب ڈالرز کمائے۔جی ہاں۔۔۔ اس جنگ میں امریکی حکومت کا ہونے والا نقصان ایک طرف ہے لیکن میں آج بتاوں گی کہ وہ کونسی امریکی کمپنیاں ہیں جنہوں نے اس جنگ میں اربوں ڈالرز کمائے۔ یعنی امریکہ کو اس جنگ میں اخلاقی ناکامی تو ضرور ہوئی لیکن مالی طور پر بہت فائدہ بھی ہوا۔ اور اب جب یہ جنگ ختم ہو چکی ہے امریکہ افغانستان سے واپس جا چکا ہے تو ان کمپنیز کو حاصل ہونے والا اربوں ڈالرز کا منافع بھی بند ہوگیا ہے جس کے بعد ایک مخصوص حلقہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایک نئی جنگ میں گھسیٹنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

یہ جنگ کس ملک کے ساتھ ہو سکتی ہے؟اور اس کے اثرات کس ریجن پر سب سے زیادہ اثرات ہوں گے؟ اس سب پر بات کریں گے۔Brown university کےCost of war project
کے مطابق2001سے2021 کے درمیان امریکہ نے جتنے پیسے اس جنگ پر خرچ کیے اس میں سے آدھی سے زیادہ رقم کی ادائیگی افغانستان میں امریکی محکمہ دفاع کے مختلف آپریشنز کے اخراجات پورے کرنے کے لیے کی گئی۔ اور یہ ساری ادائیگیاں امریکہ کی چند نجی کمپنیز کو کی گئیں کیونکہ اس جنگ میں امریکی افواج کے اپنے فوجی اور وسائل بہت کم استعمال کئے گئے تھے۔ زیادہ تر وسائل دفاعی Defence contractorsنے فراہم کیے تھے۔ جن کے لئے ان کو payکیا جاتا تھا۔اب اگر بات کی جائے اخراجات کی تو امریکی حکومت کی اپنی ویب سائٹ USAspending.comکے مطابق 2008سے 2021کے دوران تین امریکی کمپنیوںDencorp FluorKellogg Brown & Rootکو امریکی حکومتوں نے سب سے بڑے ٹھیکے دیے۔امریکی کمپنیDencorp سے افغانستان میں مختلف سروسز حاصل کی جاتیں تھیں جن میں ملک کی نیشنل پولیس اور انسداد منشیات کی فورسز کو سامان کی فراہمی اور تربیت شامل تھی۔ اس کے علاوہ یہ کمپنی سابق صدر حامد کرزئی کی حفاظت کے لیے باڈی گارڈز کی ٹیم بھی دیتی تھی۔چند سال پہلے اس کمپنی کو ایک دوسری امریکی کمپنیAmentumنے خرید لیا تھا۔ اس طرح ان دونوں کمپنیوں کو افغانستان میں سروسزکے لئے 14.4 بلین ڈالر کے ٹھیکے دیے گئے۔Texasمیں قائم کمپنیFluor فلور کو جنوبی افغانستان میں امریکی فوجی اڈے تعمیر کرنے کے ٹھیکے دیے گئے تھےاس کمپنی کی اپنی ویب سائٹ کے مطابق یہ افغانستان میں 56 اڈے آپریٹ کرتے تھے۔ ایک لاکھ سے زیادہ فوجیوں کو سہولیات فراہم کرتے تھے اور ایک دن میں ایک لاکھ 91 ہزار سے زیادہ لوگوں کو کھانا کھلاتا تھے۔ اس کام کے لئے اس کمپنی کو افغانستان میں 13.5 بلین ڈالر کے ٹھیکے دیے گئے۔ اس کے بعد Kellogg Brown & RootیعنیKBRکوانجینیئرنگ اور اجسٹکس کا کام دیا جاتا تھا۔ انھیں رن وے اور طیاروں کی سروس، ہوائی اڈوں کی Management and aranotical communicationکے لئے3.6 بلین ڈالرز کے ٹھیکے ملے۔ان کے علاوہ جس کمپنی کو سب سے بڑے ٹھیکے ملے وہ Raytheonتھی۔ اس کا شمار امریکہ کی بڑی فضائی اور دفاعی کمپنیوں میں ہوتا ہے۔ اسے افغانستان میں سروسز کے لئے 2.5 بلین ڈالر کے ٹھیکے ملے۔

اسے حال ہی میں افغان ایئرفورس کی ترتیب کی ذمہ داری بھی دی گئی تھی جس کے لیے 2020 میں اس نے 145 ملین ڈالر کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا۔Virginiaمیں قائم سکیورٹی اور انٹیلیجنس کی کمپنیAegis LLCوہ پانچویں بڑی کمپنی ہے جس نے افغانستان میں سب سے زیادہ پیسے کمائے۔اسے امریکی حکومت سے 1.2 بلین ڈالر کے ٹھیکے ملے تھے۔ اسے کابل میں امریکی سفارتخانے کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔یہ اعداد و شمار دوہزارآٹھ سے دوہزار بیس تک کے ہیں۔ جبکہ اگر دو ہزار ایک سے ٹھیکوں کی مالیت کی بات جائے توCost of war projectکی رپورٹ کے مطابق2001سے 2020تک ان پانچ کمپنیوں کو پینٹاگون سے دو عشاریہ ایک ٹریلین ڈالر کے ٹھیکے ملے۔اور یہ رقم صرف وہ ہے جو انہوں نے براہ راست ٹھیکوں کی مد میں حاصل کی اس کے علاوہ کیا کیا فوائد حاصل کئے گئے ان کی تفصیلات صرف ان کمپنیز کو ہی معلوم ہیں اور کیونکہ یہ تمام پرائیوٹ کمپنیاں ہیں تو یہ اپنی معلومات پبلک بھی نہیں کرتیں۔اور ان پانچ کمپنیوں کے علاوہ بھی بہت سی دفاعی کمپنیاں ایسی ہیں جن کا اسلحہ،Navigation and communication equipmentفوجی طیارے، ہیلی کاپٹرز، ریڈار، نائٹ ویژن سسٹم،Light armoured vehiclesبھی افغانستان میں استعمال ہوئیں جس سے انہوں نے بھی اس جنگ میں خوب مال بنایا مگر کیونکہ اس دفاعی سامان کی پروڈکشن کو براہ راست اس جنگ سے نہیں جوڑا جاتا تو ان کمپنیز کا نام اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔اس کے علاوہ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ افغانستان میں جنگ کے دوران ان کمپنیوں کو یہ بھی چھوٹ دی گئی تھی کہ وہ مختلف سامان اور سروسز کی قیمتوں کا تعین خود کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے کئی کنٹریکٹ تو بغیر مقابلے کے دے دیے گئے تھے۔ اور کمپنیوں نے اپنی من مانی قیمتیں حاصل کیں تھیں۔اور بعض اوقات جب حالات زیادہ خراب ہوتے تھے تو یہ کمپنیاں مشکلات کو وجہ بنا کر قیمتیں بڑھا بھی دیتیں تھیں۔ اس کے علاوہ ان ٹھیکوں میں Interest rateبہت زیادہ ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر ایک بلڈنگ کو پینٹ کرنے کے لئے 20گنا زیادہ رقم وصول کی گئی جبکہ کچھ کیسسز میں ایسا بھی ہوا کہ عمارت کو پینٹ نہیں کیا گیا اور پیسے بھی لے لئے گئے۔

پھر ایسا بھی ہوتا تھا کہ یہ کمپنیاں افغانستان کی لوکل کمپنیوں کو ٹھیکہ دے کر انتہائی سستے داموں میں کام کروا لیتیں تھیں لیکن خود امریکی حکومت کو کئی گنا زیادہ پیسے چارج کرتیں تھیں۔ اس طرح امریکہ نے اس جنگ میں جو کچھ خرچ کیا اس کا ایک بڑا حصہ واپس امریکہ ہی جاتا رہا اور وہاں کی کمپنیاں مضبوط ہوئیں کاروبار بڑھا اور خوب منافع کمایا گیا۔اور اب جب امریکہ یہ جنگ ختم کرکے واپس چلا گیا ہے تو یہ کمپنیاں ایک مخصوص طریقے سے لابنگ کروا رہی ہیں کہ کوئی نیا محاذ شروع کیا جا سکے کیونکہ ظاہری بات ہے کہ دوبارہ کوئی جنگ شروع ہوتی ہے تواب تو ان کمپنیوں کے پاس پہلے سے زیادہ تجربہ ہے جس کی بنیاد پر پھرانہی کمپنیوں کو ٹھیکے دئیے جائیں گے اور اس طرح یہ منافع خوری چلتی رہے گی۔اب سوال یہ آتا ہے کہ امریکہ کا اگلا نشانہ کونسا ملک ہو سکتا ہے؟تو اس کے لئے میں آپ کو بتاوں کہ اب کی بار زیادہ چانسز یہ ہیں کہ امریکہ کوئی چھوٹی لڑائی نہیں کرے گا بلکہDirectہی دنیا میں ابھرنے والی نئی سپر پاور چین کے ساتھ جنگ چھیڑی جائے گی اور یہ وہ تیسری عالمی جنگ ہو گی جس کے بارے میں بہت سے ماہرین کافی عرصے سے پیشن گوئیاں بھی کر رہے ہیں۔لیکن کیونکہ چین کے ساتھ ٹکر لینا کوئی آسان بات نہیں ہے اس لئے امریکہ نے اپنے ساتھ اپنے باقی اتحادیوں کو بھی اس میں شامل کرلیا ہے۔حال ہی میں برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا نےAsia Pacific میں جس سیکیورٹی معاہدےAukusکا اعلان کیا ہے اس کا مقصد دراصل اس خطے میں چین کا مقابلہ کرنا ہی ہے۔ امریکہ اور آسٹریلیا کے درمیان 36ارب ڈالر سے زائد کی ڈیل ہوئی ہے جس کے بعد امریکہ اور برطانیہ آسٹریلیا کو ایٹمی آبدوزیں بنانے اور تعینات کرنے کی صلاحیت اور ٹیکنالوجی فراہم کریں گے۔ اس اقدام سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے ایک غیر ایٹمی ملک کو ایٹمی صلاحیت دینے کے بڑے فیصلے پر گٹھ جوڑ کر لیا ہے حالانکہ ماضی میں امریکہ نے ہمیشہ ایٹمی طاقت حاصل کرنے کے الزامات لگا کر لیبیا، عراق، شمالی کوریا اور ایران پر سخت پابندیوں کا اطلاق کرتا رہا ہے جس کا خمیازہ یہ ممالک آج تک بھگت رہے ہیں حتی کہCovid 19کے دوران ایران پر انہی الزامات کی وجہ سے ادویات تک کی درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ پاکستان اور شمالی کوریا پر بھی اسی معاملے میں بہت سی پابندیاں لگائی گئیں حال ہی میں جب شمالی کوریا نے کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تو اس پر بھی امریکہ نے سخت ردعمل دیا تھا مگر خود نئے سیکورٹی معاہدوں کے نام پر آسٹریلیا کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے میں مدد کر رہا ہے۔ فرانس سے ڈیل کینسل کرنے کے بعد جس طرح یہ تینوں ممالک اس معاہدے پر اکھٹے ہوئے ہیں اور جس طرح کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں ان سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ایشیا کو میدان جنگ بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ اور یہ بس اقدامات چین کو اشتعال دلانے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔اس معاہدے کے علاوہ بھی کئی ممالک جن میں جاپان، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ، فلپائن، ویتنام اور انڈیا شامل ہیں ان کے ساتھ بھی امریکہ سرمایہ کاری کرکے کئی معاہدے کر رہا ہے۔ اور اگر جنگ چھڑتی ہے تو یہ بھی لازم ہے کہ اسرائیل بھی امریکہ کی کامیابی کے لئے اس جنگ میں اپنا حصہ ضرور ڈالے گا۔ لیکن ظاہری بات ہے اس تمام صورتحال میں چین بھی آرام سے بیٹھنے والا نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ چین نے خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیےAsia Pacificتجارتی معاہدے کی رکنیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو آنے والے وقت میں طاقت کا توازن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرئے گا۔ اس کے علاوہ ایشیائی بلاک جن میں روس، پاکستان، ایران، ازبکستان تاجکستان، افغانستان اور چین شامل ہیں ان کے درمیان آنے والے دنوں میں نئے سیکیورٹی معاہدے بھی ہوسکتے ہیں۔ جس کا صاف مطلب ہے کہ خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہو گا اور کئی نئے ممالک بھی اس ایٹمی دوڑ میں شامل ہوں گے۔ بہر حال صورتحال جو بھی ہو آنے والے دن اس خطے کے لئے بہت اہم ہیں۔ اب امریکہ اور چین کے درمیان ٹاکرا ناگزیر ہو چکا ہے کیونکہ اس طرح کے حالات میں اخلاقی ناکامی تو ہو سکتی ہے لیکن مالی طور پر فائدے ہی فائدے ہوتے ہیں جس کے لئے امریکی کمپنیاں بہت بے چین ہیں۔