fbpx

پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے بچے بیچنے پرمجبورافغان:ہرات کے بدقسمت خاندان کی دردناک کہانی

ہرات: مغربی افغانستان کے صوبہ ہرات میں ایک شخص نے اپنے دوسرے بچوں کو زندہ رکھنے اور انھیں کھانا کھلانے کے لیے اپنی ایک 10 سالہ بیٹی کو بیوی کو بتائے بغیر شادی کے لیے فروخت کردیا۔ مایوس باپ نے اس خاندان سے ڈاون پیمنٹ لیا جس نے اسے کھانے کے بدلے خریدا تھا۔

نابالغ لڑکی کی والدہ عزیز گل نے کہا: ’’میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ وہ کھانا لے آئے کیونکہ میرے پانچ بچوں کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں ہے اور وہ باقاعدگی سے کھانا لے کر آنے لگا۔

جب میں نے اس سے پوچھا کہ وہ کھانا کہاں سے لاتا ہے، تو اس نے جواب دیا کہ ایک خاندان اسے ہماری 10 سالہ بیٹی کے بدلے روزانہ کی بنیاد پر کھانا دے رہا ہے،”۔ خامہ پریس نیوز ایجنسی نے اس خبرکی رپورٹ کی ہے۔ حال ہی میں، افغانستان میں بہت سے بے سہارا خاندان، جو جنگ کی وجہ سے بے گھر ہوئے اور غیر ملکی امداد بند ہونے کے بعد بے روزگار ہو گئے، نے اپنے خاندانوں کو کھانا کھلانےکے لیے ایسے مایوس کن فیصلے کیے ہیں۔

خامہ پریس کے مطابق، 31 دسمبر کو شمالی صوبہ بدخشاں کے رہائشیوں نے ایک اور شخص کو اپنے دو بچوں کو فروخت کرنے سے روکا تاکہ اس کے خاندان کو بھوک سے مرنے سے بچایا جا سکے۔