fbpx

افغانستان سپر طاقتوں کا قبرستان. تحریر: نوید شیخ

کہا جاتا ہے کہ افغانستان سپر طاقتوں کا قبرستان ہے۔ جہاں برطانیہ اور روس نے شکست کھائی اور اب امریکہ کو ذلت آمیز شکست ہوئی ۔

۔ روس افغانستان سے ناراض ہے کہ ان کی وجہ سے سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔ برطانیہ انہیں معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ افغانوں نے انہیں عبرتناک شکست دی تھی اور جب انگریز تاریخ کی کتابوں میں اس عظیم برطانوی سلطنت کا تذکرہ پڑھتے ہیں جس پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا تو وہ یہ پڑھ کر شرمندہ ہوتے ہیں کہ افغانوں نے انہیں ذلت آمیز شکست دی تھی۔ وہ بھی افغانوں کو نفسیاتی طور پر معاف کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اب امریکہ تقریباً ایک ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کے بعد افغانستان سے رخصت ہو رہا ہے تو اسے خوب علم ہے کہ تاریخ اسے کن الفاظ میں یاد کرے گی۔ ۔ مگر امریکیوں کی ایک عادت ہے they are good manuplitators
اب یہ توصاف پتہ چل گیا ہے کہ افغان حکومت کا کوئی مستقبل نہیں ہے ۔ نہ ہی وہ کسی قابل ہیں کہ طالبان کا مقابلہ کر سکیں ۔ ان کی تو اپنی حالات یہ ہے کہ جتنی بھی ان کی 2 سے 3 لاکھ سیکورٹی فورس ہے ۔ اسکی تنخواہ اور دیگر اخراجات بھی امریکہ بہادر اٹھاتا رہا ہے ۔ اور اگر آج امریکہ یہ پیسہ دینا بند کردے تو ۔ شاید اشرف غنی اور افغان حکومت صرف دو سے تین ماہ ہی اپنی نکمی فوج کو تنخواہ دے سکیں ۔

۔ اب اس تمام صورتحال میں آپ دیکھ بھی رہے ہوں گے اور سن بھی رہے ہوں گے کہ امریکہ کی جانب سے رپورٹس بھی منظر عام پر آرہی ہیں ۔ امریکہ صدر جوبائیڈن بھی کہہ رہے ہیں امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ بھی بتا رہا ہے کہ افغان حکومت سمتبر کے بعد شاید بمشکل چھ ماہ بھی نہ چل سکے ۔ ۔ اب ایسا نظر آنا شروع ہوچکا ہے کہ امریکی افغانستان کو جان بوجھ کر ”لڑو اورمرو“ والی صورتحال میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ افغانستان تیزی سے خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ افغان طالبان کو یقین ہے کہ ان کا جوش و جذبہ انہیں فتح سے ہمکنار کرے گا۔۔ جبکہ افغانستان کے صدر ڈاکٹر اشرف غنی کو صورتحال کا اندازہ نہیں ہے۔ وہ اپنی حکومت کو قانونی اور آئینی قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ طالبان کو ان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور شرکت اقتدار کی کوئی ایسی صورت نکالنی چاہیے جس میں ان کے اقتدار کو کوئی خطرہ نہ ہو۔

۔ مگر سچ یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکی قیادت میں نیٹو فورسز کی قوت کے بل پر ہی قبضے کے بعد افغانستان میں حامد کرزئی اور اشرف غنی وغیرہ کی حکومتیں بنیں۔ یعنی ان کو جبری طور پر قابض طاقتوں کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا۔ یہ حکومتیں کسی جمہوری طریقے سے اقتدار میں نہیں آئی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ۔ اس وقت بھی ڈاکٹر اشرف غنی کی حکومت کی کیا حیثیت ہے؟ ۔ ان کے انتخابات میں ووٹوں کا کتنا ٹرن آؤٹ تھا؟۔ اس وجہ سے یہ کہنا کہ جو حکومت طاقت کے ذریعے آئے گی، اس کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ مجھے تو سمجھ نہیں آتا ۔

۔ دوسری طرف اب یہ دیکھائی دینا شروع ہوگیا ہے کہ امریکہ کا خیال ہے کہ جس نے بھی حکمران بننا ہے بن جائے جو بھی فیصلہ ہونا ہو جائے ۔ اور اگر طالبان حکومت قائم بھی کرتے ہیں تو وہ ڈالروں کے ذریعے اسے کنٹرول کر لے گا۔ کیونکہ امریکہ کا ماننا ہے کہ موجودہ افغان حکومت کی طرح طالبان حکومت کو بھی امریکی امداد کی ضرورت ہو گی۔ یعنی اگر طالبان انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں کرتے خاص طور پر عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں تو انہیں امداد دینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ گویا امریکی جو مقاصد اسلحہ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکے تھے وہ اب ڈالروں کے ذریعے حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

۔ یقیناً پورا افغانستان اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ ایک فیصلہ کن مرحلہ اب آنے والا ہے۔ یہ مرحلہ ایک سال میں آتا ہے یادو سال میں، یہ پیش گوئی کرنا مشکل ہے، لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ افغانستان میں بالآخر طالبان حاوی ہو جائیں گے۔ وہ آہستہ آہستہ اپنے قدم بڑھا رہے ہیں۔ انہیں کابل پہنچنے میں کتنا وقت لگتا ہے، ابھی بتانا ممکن نہیں ہے۔

۔ ویسے افغان طالبان نے تو ملک کے 85 فیصد حصے پر کنٹرول کا دعویٰ کردیا ہے اور امریکی صدر جو بائیڈن کے حالیہ تبصرے کے جواب میں کہا ہے کہ اگر ہم چاہیں تو دو ہفتوں میں افغانستان کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ ۔ اس لیے اب افغانستان میں امن، مذاکرات کے ذریعے نہیں آئے گا، بلکہ جنگ کے ذریعے ہی آئے گا۔ آج جب آپ زمینی حالات کو دیکھتے ہیں تو یہ بات ٹھیک ہی معلوم ہوتی ہے۔۔ اچھی چیز یہ ہے کہ طالبان کو اس بات کا ادراک ہے کہ وہ اکیلے ملک پر حکومت نہیں کر سکتے۔ لہٰذا حکومت میں تاجک، ازبک اور ہزارہ شراکت ضرورت ہے اور سب سے امید افزا بات اس مرتبہ یہ ہے کہ پاکستان، ایران، چین اور روس کی افغانستان کے بارے میں سوچ میں مطابقت ہے۔ 1996ء میں یہ صورت حال نہیں تھی۔۔ اسی لیے امریکہ کے ساتھ ساتھ روس، چین، ایران اور ترکی نے بھی طالبان سے روابط بڑھائے ہیں۔

۔ اس تناظر میں دیکھیں تو طالبان رہنماؤں نے اپیل کی ہے کہ افغانستان میں موجود بین الاقوامی امدادی تنظیمیں کام جاری رکھیں، بین الاقوامی انسانی حقوق گروپس مشن بند نہ کریں۔ طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ طالبان چین کو افغانستان کا دوست سمجھتے ہیں ، امید ہے کہ ملک کی تعمیر نو کیلئے جلد بیجنگ کیساتھ بات ہو گی ۔ اگر چینی سرمایہ کار اور ورکرز واپس آتے ہیں تو انہیں سکیورٹی کی ضمانت دیں گے ،چینیوں کی سکیورٹی ہمارے لئے بہت اہم ہے ۔ چین کیساتھ بات چیت ضروری ہے ، ہم نے کئی بار چین کا دورہ کیا، چین کیساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔ اور افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی کیلئے دوست چین کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں۔

۔ ایغور جنگجوؤں کے ذکر پر انہوں نے کہا کہ طالبان انہیں افغانستان میں پناہ نہیں دیں گے ،طالبان دوحہ معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے القاعدہ سمیت کسی دہشت گرد گروپ کو افغانستان میں قیام اور افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان کے زیر کنٹرول اضلاع کے سکول کھلے ہیں اور وہاں لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنیکی اجازت ہے ۔ انہوں نے عالمی برادری سے اساتذہ اور دیگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کیلئے مالی معاونت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے زیر کنٹرول علاقوں کے ملازمین کو کابل حکومت نے تنخواہیں ادا کرنا بند کر دی ہیں۔ ۔ آپ دیکھیں ماسکو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھی طالبان کے وفد نے یہ بات کہ ہے کہ ہمارا مقصد افغانستان کو غیرملکی تسلط سے آزاد کرانا تھا،افغانستان میں کئی دارالحکومتوں کا محاصرہ جاری ہے،افغان فورسز کی بڑی تعداد ہمارے ساتھ مل رہی ہے۔

۔ اسی کانفرنس میں طالبان رہنماؤں شہاب الدین دلاور اور سہیل شاہین نے کہا ہے کہ افغانستان کے تمام سرحدی علاقے اس وقت طالبان کے زیر اثر ہیں۔ ملک میں نیا نظام لانے کی کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے ، جس کے لئے افغانستان کی کئی شخصیات کے ساتھ بات چیت جاری ہے ، ایسا نظام تیار کرنا چاہتے ہیں جو اسلامی تعلیمات اور افغان روایات کے اتحاد پر مبنی ہو، دنیا کیلئے قابل قبول معاہدہ لائیں گے ، طالبان اپنے وعدے پر قائم ہیں کہ افغان سر زمین پڑوسی ممالک سمیت کسی بھی ملک کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ روس کو طالبان سے کوئی تشویش نہیں ہے ، ہمارا روس کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے ۔داعش کی افغان سرزمین پر موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے افغان طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ داعش کو اپنے زیراثر شمالی علاقوں سے باہر نکال دیا ہے ، اب داعش کی لیڈر شپ کابل میں بیٹھی ہے ، جہاں2600 داعش ارکان نے کابل انتظامیہ کے سامنے ہتھیار ڈالے ، انہوں نے الزام عائد کیا کہ داعش والے غیر ملکی ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں جو سب کیلئے خطرہ ہیں۔ ۔ دوسری جانب طالبان کی جانب سے افغان فضائیہ کے پائلٹس کی ٹارگٹ کلنگ شروع کردی گئی ہے ۔ چند ہفتوں کے دوران سات پائلٹس ہلاک کردیئے گئے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ افغان پائلٹس اپنے لوگوں پر بم گراتے ہیں اس لئے ماررہے ہیں۔ ۔ تو افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بگرام ایئر بیس کا دورہ کیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے حکم دیا کہ ایئر بیس میں موجود جیل کی حفاظت کیلئے پروفیشنل سٹاف تعینات کیا جائے۔اس جیل میں طالبان جنگجوؤں کو قید رکھا گیا ہے۔

۔ غزنی میں افغان فورسز اور طالبان کے مابین لڑائی جاری ہے جبکہ طالبان افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار میں داخل ہو گئے ہیں۔ شہر کے اندر کئی مقامات پر طالبان اور افغان فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے ۔ قندھار جیل کے اطراف میں زیادہ جھڑپیں ہو رہی ہیں۔۔ دوسر ی جانب افغان حکومت نے کہا ہے کہ قندھار کے لوگ پریشان نہ ہوں، صورتحال کنٹرول میں ہے ۔ قندھار کے گورنر، ڈپٹی گورنر، پولیس چیف، سکیورٹی چیف، قبائلی لیڈر اور سپیشل فورسز سب فرنٹ لائن پر مقابلے کے لئے موجود ہیں، شہریوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔

۔ جبکہ ہرات کے گوریلا سردار اسماعیل خان نے طالبان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان کر دیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہرات کے محاذ پر جائیں گے اور صورتحال کو یکسر تبدیل کر دیں گے ۔انہوں نے افغانستان کی بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار کابل حکومت کو قرار دیتے ہوئے افغان فوج پر زور دیا کہ وہ ہمت کا مظاہرہ کرے ۔ اسماعیل خان شمالی اتحاد کے ان اہم ارکان میں شامل تھے جنہوں نے طالبان حکومت کا تختہ الٹنے میں امریکا کی مدد کی تھی۔

۔ اس لیے میرا ماننا ہے کہ افغانستان میں اگر امن آئے گا تو سول وار کے بعد ہی آئے گا۔۔ کچھ لو اور کچھ دوطالبان کا مزاج نہیں ہے۔ وہ ایک تحریک ہیں، جو افغانستان کو امارت اسلامیہ افغانستان بنانا چاہتے ہیں۔