fbpx

افغانستان، امریکی فوج کا انخلاء اورپاکستان پرمنڈلاتے خطرات.تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

ہیرو شیما پر ایٹم بم گرانے کے بعد سے آج تک دیکھیں تو امریکہ نے کہیں کوئی جنگ نہیں جیتی، ویت نام ہو یا صومالیہ ، سوڈان ہو یا عراق ،ہرجگہ امریکہ کوناکامی کاسامناکرناپڑا،امریکہ سے پوری دنیاکے لوگ نفرت کرتے ہیں امریکہ نے جس ملک پر جنگ مسلط کی اس ملک کے وسائل لوٹے ہیں ، امریکہ نے کبھی تنہا جنگ نہیں لڑی ہمیشہ دیگر ممالک کے لائولشکر سے حملہ آور ہوامگرامریکہ کوکہیں بھی کامیابی نصیب نہ ہوئی اس کے برعکس امریکہ نے کبھی اپنی شکست بھی تسلیم نہیںکی۔
9/11 کوبہانہ بنا کر افغانستان پر امریکا اور اس کے اتحادیوںنے 2002 ء میں جنگ مسلط کر دی۔ افغانستان کے خلاف اس جنگ میں تقریباََتمام مغربی ممالک امریکا کے حواری بن کر شامل ہو گئے، ان ممالک میں برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیٹو تنظیم کے بیشتر ممالک شامل تھے۔ اس کارروائی میں نیٹو فوجوں ہوائی طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے اور فرضی دہشت گردوں کو نشانہ بناتے ،ان گنت بم افغانیوں کی بستیوں پر گراتے جس سے جیتے جاگتے انسانوں کی بستیاں پلک جھپکتے ہی مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوجاتی تھی۔

گیارہ ستمبر 2001 میں جب امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ہوا اور اس حملے کی ذمے داری اسامہ بن لادن پر ڈالی گئی تو امریکا اسامہ بن لادن کو ڈھونڈتے ہوئے افغانستان میں داخل ہوگیا۔ اسامہ کی تلاش پر بے گناہ افغانوں کا خون بہایا گیا۔ افغان سرزمین پر تاریخ کی بدترین بمباری کی گئی اور اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا۔اس سے قبل طالبان دورحکومت میں افغانستان پرامن افغانستان کی طرف گامزن تھا لیکن گیارہ ستمبر کے واقعے نے ایک بار پھر حالات بدل دیے اور افغانستان کی سرزمین سے اٹھنے والی بدامنی کی لہرنے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ افغانستان کی جنگ میں امریکا کا اتحادی بننے پر پاکستان کو بم دھماکوں کی صورت میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ جانی و مالی قربانیوں کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کیا۔ ملک میںامن کیلئے پاک فوج،رینجرز، ایف سی، پولیس، پاکستانی شہریوں اور سیاستدانوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ آج بھی پاکستانی عوام بم دھماکوں کی گونج سے سہمے ہوئے ہیں۔

گزشتہ 21 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے بعد اب امریکا نے اپنی ناکامی کا مبینہ اعتراف کرتے ہوئے اس ناکامی کا ملبہ پاکستان پرڈالنے کی کوشش کی اور بالآخر واپسی کا فیصلہ کر ہی لیا، یہ جنگ امریکا کے گلے میں پھنسی ایسی ہڈی بن گئی تھی جسے وہ نہ نگل سکتا تھا اور نہ ہی اگل سکتا تھا۔امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ رواں سال 11 ستمبر تک تمام امریکی فوجی دستے افغانستان سے واپس بلالیے جائیں گے۔افغانستان میں سب سے بڑا فوجی اڈہ بند کرنے کے ساتھ ہی گویا امریکا نے جنگِ افغانستان کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کردیا ہے جس کا فیصلہ گزشتہ سال طالبان کے ساتھ کیے گئے معاہدے میں کیا گیا تھا۔افغانستان کا بگرام ایئر بیس امریکی فوج نے خالی کر دیاہے، امریکی فوجی رات کی تاریکی میں خاموشی سے واپس چلے گئے، افغان انتظامیہ بھی بے خبر رہی،امریکیوں کے انخلاء کا افغان طالبان نے خیرمقدم کیا ہے۔ کابل میں صرف 650 امریکی فوجی سفارت خانے کی حفاظت کے لیے رہ گئے ہیں، مکمل انخلا اگست میں ہو گا۔ فضائی آپریشن اب متحدہ عرب امارات، قطر یا بحری بیڑے سے کیے جائیں گے، مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اتحادیوں نے مل کر بہت سی جنگیں جیتیں لیکن افغان جنگ ہار گئے۔ امریکی فوج کے انخلا کے بعد اب ایک بار پھر افغانستان میں اقتدار کی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ افغان طالبان نے بیشتر علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ افغان طالبان دارالحکومت کابل کے قریبی علاقوں تک پہنچ چکے ہیں اور افغان دارالحکومت کابل سے ایک گھنٹے کی دوری پر ہیں جوکہ کسی بھی لمحے کابل پر قبضہ کرسکتے ہیں،ان حالات کودیکھتے ہوئے افغان کٹھ پتلی صدر اشرف غنی اپنے فیملی کے افرادکوپہلے ہی افغانستان سے نکال چکا ہے،

خوداشرف غنی نے طالبان کے خطرے کے پیش نظرفرارہونے کیلئے جہازتیارکھڑاکیاہواہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں ایک بار پھر افغانستان کی اندرونی معاملات کے اثرات پاکستان پر پڑنے کا خطرہ موجود ہے۔ افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال حکومت پاکستان کیلئے پریشانی کا باعث ہے ۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں ایک طویل نشست ہوئی اور ممکنہ خطرات سے بچنے کیلئے صف بندی کی جارہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے تو واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ پرائی جنگ کا کیوں حصہ بنیں۔ انہوں نے امریکا کو ہوائی اڈے دینے سے بھی انکار کردیا ہے۔ لیکن حکومت کو مغربی سرحدوںسے اٹھنے والے خطرات کے بادلوں کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ ملکی معاشی صورتحال بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ افغان مہاجرین کا مزیدبوجھ برداشت کیا جاسکے۔ اس حوالے سے حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا اور ملکی مفاد میں سیاسی جماعتوں کو بھی حکومت کا ساتھ دینا چاہئے۔

اس وقت تیزی سے بدلتے عالمی پس منظر میں جب ممالک عالمی طاقتوں کے اثر سے نکل کراپنے ملکی مفادات کے پیش نظر فیصلے کر رہے ہیں، سی پیک کا منصوبہ اس خطے کے مختلف چھوٹے بڑے ممالک کے لیے اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔نیپال سے گوادر تک بننے والا معاشی کوریڈوراور خطے کے تمام چھوٹے بڑے ممالک کے ساتھ چین کی بھاری مشترکہ سرمایہ کاری نے امریکا اور اس کے حلیفوں کے لیے نئی پریشانی اور مشکلات کھڑی کرد ی ہیں۔چین کا بنایا ہوا سی پیک دنیا کی تجارتی منڈی کو یکسر تبدیل کرنے جا رہا ہے۔ 62 ارب ڈالرز کی چینی سرمایاکاری سے غیر محدود رسائی اور معاشی ترقی پاکستان کے استحکام کا راستہ کھولنے جا رہی ہے جو ہمارے بعض دوست ممالک کو قابل قبول نہیںہے۔ ایسے وقت میں امریکی فوج کے انخلاء سے خطے میں انتشارپیداہونے کے خطرات مزیدبڑھ چکے ہیں ،جس سے تجارتی اور معاشی سرگرمیوں میں خلل پڑسکتا ہے اورامریکہ سمیت پاکستان کے دشمن ممالک نہیں چاہتے کہ سی پیک منصوبہ کامیاب ہو،ایساپاکستان کو کسی صورت قبول نہیں ہے، حکومت پاکستان اورہمارے اداروں کوچاہئے کہ دشمنوں کی سازشوں ،انتشار اوردہشت گردی کے مذموم مقاصدکوناکام بنانے اورخطرات سے نمٹنے کی پیش بندی ضرورکرلیں۔