fbpx

ڈسکہ ضمنی انتخابات، پریزائیڈنگ افسران کی لوکیشن کی قانونی حثیت ہے یا نہیں؟ سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس

ڈسکہ ضمنی انتخابات، پریزائیڈنگ افسران کی لوکیشن کی قانونی حثیت ہے یا نہیں؟ سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں این اے 75 ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن کرانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

ن لیگی امیدوار کے وکیل سلمان اکرم راجہ کی طرف سے ویڈیولنگ پر دلائل دیئے گئے،ن لیگی وکیل نے دلائل مکمل کر لئے، ن لیگی وکیل نے دلائل مکمل کرتے ہوئے عدالت سے استدعا کی کہ پورے حلقے میں دوبارہ پولنگ کا حکم برقرار رکھا جائے۔ پورا حلقہ نہ بھی سہی تو 109 متنازع پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کرائی جائے۔

جس کے بعد سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے وکیل میاں عبدالروَف نے دلائل دیئے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے تحقیقاتی رپورٹ عدالت میں پیش کردی ،وکیل الیکشن کمیشن نے عدالت میں کہا کہ پریذائیڈنگ افسر پر لازم ہے کہ وہ الیکشن مٹیریل کی ترسیل کریں،پولنگ کے فورا بعد مذکورہ اسٹاف حلقے کی حدود سے ہی باہر چلا گیا،الیکشن کمیشن کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق پولنگ اسٹاف سیالکوٹ چلاگیا،جسٹس منیب اختر نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جگہ کا علم تو آپ کو بعد میں ہوا ، ابتدائی معلومات کے مطابق عملہ لاپتہ ہوگیا تھا،آپ کے پاس ڈرائیور، پریذائیڈنگ افسر اور پولیس کے نمبر ہوتے ہیں،جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا تینوں کے نمبروں پر رابطہ نہیں ہوا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ تینوں نمبرز اس وقت بند جا رہے تھے، جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ تینوں نمبرز اس وقت بند جا رہے تھے یہ نکتہ بہت اہم ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ لاپتہ پریزائیڈنگ افسران کی لوکیشن عدالت میں جمع کرادی، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کمیشن نے اپنے فیصلے کے بعد لوکیشن کیوں منگوائی ؟ پریزائیڈنگ افسران کی لوکیشن کی قانونی حثیت نہیں، وکیل نے کہا کہ لاپتہ 14 پریذائیڈنگ افسران حلقے سے باہر گئے تھے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپکی بات کرنے کے انداز سے معاملہ مشکوک لگ رہا ہے، جس مواد پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا تھا صرف وہ پیش کرنا ضروری ہے فیصلہ کرتے وقت الیکشن کمیشن کو معلوم ہی نہیں تھا معاملہ کیا ہے؟ وکیل نے کہا کہ حلقے سے باہر جاکر پریذائیڈنگ افسران اور پولیس کے موبائیل بند ہو گئے،جسٹس منیب اختر نے کہا کہ دلائل کو الیکشن کمیشن کے فیصلے تک محدود رکھیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپیل میں بدامنی ہونے کا اعتراف کیا، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سیکورٹی انتظامات اطمینان بخش نہیں تھے۔ تو الیکشن کمیشن نے کیا کیا؟ پولنگ سے چند روز پہلے الیکشن کمیشن کو سیکورٹی انتظامات کا پتہ تھا ان حالات میں الیکشن کمیشن کو بڑھ کر اقدامات کرنے تھے ریکارڈ سے یہ دکھائیں پولنگ کے روز جو کچھ ہوا وہ ڈیزائن تھا،پولنگ کے دن سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں،

قبل ازیں کیس کی سماعت شروع ہوئی تو جسٹس عمرعطا بندیال نے ن لیگی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ امید کرتے ہیں آپ مختصر دلائل دیں گے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی انکوائری کے بغیر فیصلہ دینے کی بات درست نہیں،الیکشن کمیشن نے تمام متعلقہ حکام سے رابطہ کیا،

جسٹس عمر عطا بندیال نے سلمان اکرم راجہ کی سرزنش کی اور کہا کہ پچھلے ہفتے بھی دلائل مکمل نہ کرنے کی وجہ سے سماعت آگے لے جانا پڑی، آج بھی دن کا اختتام ہوگیا ہے آپ ابھی تک صرف فیصلے پڑھ کر سنا رہے ہیں ہمیں بتائیں کہ آپ اور کون کون سے فیصلے پڑھ کر سنانا چاہتے ہیں،عدالت کے سامنے کون سا نکتہ لانا چاہتے ہیں؟آپ کو دلائل مکمل کرنے کے لیے آدھا گھنٹہ اور دیں گے، سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں کوشش کرونگا آدھے گھنٹے میں دلائل مکمل کر لوں، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا کہ آپ اپنے بنیادی نکتے پر آئے بغیر دلائل ختم کر لیں، آپ کو معلوم ہے آپ کا بنیادی نکتہ کیا ہے؟ سلمان اکرم راجہ نے پورے حلقے میں دوبارہ انتخابات سے متعلق عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا، اورکہا کہ کسی حلقے میں ایک شخص کو بھی تھپڑ مار دیا جائے تو دوبارہ پولنگ کیلئے یہی بات کافی ہے کسی ایک پرتشدد واقعہ سے پورا الیکشن متاثر ہوتا ہے،جس پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ فیصلے پڑھ رہے ہیں لیکن اصل نقطے کی طرف نہیں آ رہے گزشتہ ہفتے بھی آپ دلائل مکمل نہیں کر سکے تھے آپکے دلائل آپ مکمل کرنے میں ناکامی کے باعث طوفان برپا ہوا جسٹس عمر عطاء بندیال نے ن لیگ کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جن فیصلوں کا آپ حوالہ دے رہے وہ چند پولنگ سٹیشنز کے متعلق ہے، ڈسکہ میں دوبارہ پولنگ کا حکم پورے حلقے کیلئے دیا گیا، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ گزشتہ سماعت پر دلائل مکمل نہ کرنا آپکی ناقابلیت تھی،ایک بجے تک کیس سنیں گے، دلائل مکمل کر لیں،کچھ دیر علی اسجد ملہی کے وکیل اور الیکشن کمیشن کو سنیں گے،

وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہنگامہ آرائی 40 یا 76 پولنگ اسٹیشنز پر تھی، تاثر یہ تھا کہ پورے حلقے میں ہنگامہ آرائی ہے، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ نےبتایا تھا کہ پولیس سمیت پولنگ ا سٹاف کئی گھنٹے تک لاپتہ رہا، پولنگ ا سٹاف میں کوئی ایک آدھ ملازم نہیں 20 پریذائیڈنگ افسران لاپتہ رہے،وحیدہ شاہ کیس میں لاقانونیت کی تعریف کی گئی ہے،آپ کی سہولت کیلئے کہہ رہے کہ آپ اس نکتے کی طرف آئیں،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ دیہی علاقوں میں ٹرن آوَٹ 52 فیصد رہا، شہری علاقوں میں فائرنگ کے باعث ٹرن آوَٹ 35 فیصد سے کم تھا،الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی عمل میں رکاوٹیں منصوبے کے مطابق ڈالی گئیں، جسٹس منیب اختر نے کہا الیکشن کمیشن نے اپنے فیصلے میں کسی منصوبے کی بات نہیں کی،پریزائیڈنگ افسران کا موبائل ریکارڈ الیکشن کمیشن کے پاس نہیں تھا،موجودہ اپیل میں موبائل ریکارڈ یا ڈیٹا کا کس طرح جائزہ لیا جا سکتا ہے؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ 20 پریذائیڈنگ افسران پولیس اسکواڈ کے ساتھ لا پتہ ہوگئے؟

الیکشن کمیشن نے این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن کے دوران 20 پریذائیڈنگ افسران کے غائب ہونے کے حوالے سے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 10پریذائیڈنگ افسر کئی گھنٹے ایک ہی جگہ پر موجود رہے ،لاپتہ ہونے پریذائیڈنگ افسروں میں دو خواتین افسر بھی شامل ہیں

تحریک انصاف کے امیدوار علی اسجد ملہی نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے اور مؤقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن نے دستیاب ریکارڈ کا درست جائزہ نہیں لیا اس لیے کمیشن کا فیصلہ حقائق کے برعکس ہے۔مخالفین پہلے ہی ضمنی الیکشن میں شکست سے دوچار ہوچکے ہیں۔علی اسجد ملہی نے اپیل میں ن لیگ کی امیدوار نوشین افتخار ،الیکشن کمیشن اور دیگر کو فریق بنایا ہے۔

پولنگ ایجنٹس پولنگ بیگ سمیت لا پتہ ہوئے، عمران خان پر مقدمہ ہونا چاہئے،مریم اورنگزیب

این اے 75 کے337 پولنگ سٹیشنزکے نتائج بدلے یا نہیں؟ دوران سماعت اہم انکشاف

این اے 75،پی ٹی آئی کی استدعا ، دوران سماعت چیف الیکشن کمشنر کا بڑا اعلان

ہمارے لوگ شہید ہوئے، کن شہروں سے غنڈوں کو لایا گیا،علی اسجد ملہی کا اہم انکشاف

ڈی ایس پی نے مجھ پر تشدد کیا اور میری چادر کھینچ لی،یہ لڑائی میری نہیں بلکہ، نوشین افتخار برس پڑی

ن لیگ جو الیکشن جیتے وہ ٹھیک ہے، جو ہارے وہاں دھاندلی،شبلی فرازبرس پڑے

معاملہ خراب کرنے کا الزام نہ لگائیں تحقیقات کریں،رانا ثناء اللہ کا چیلنج

کیا 20 پولنگ کے علاوہ باقی پولنگ اسٹیشن پر آپکی امیدوار جیت نہیں رہی؟ چیف الیکشن کمشنر کا سوال؟

این اے 75 ضمنی انتخابات،کون ٹھہرا کامیاب ؟ الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا

ڈسکہ ضمنی انتخابات، تحریک انصاف کی اپیل پر کب ہو گی سپریم کورٹ میں سماعت؟

ڈسکہ ضمنی الیکشن، تحریک انصاف کی درخواست پر سپریم کورٹ کے اہم ریمارکس

ڈسکہ ضمنی انتخابات، سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی امیدوار کو بڑا جھٹکا

مجھے پتہ چلے حلقہ میں یہ کام ہو رہا ہے تو میں ووٹ ڈالنے نہیں جاؤنگا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس

ڈسکہ ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے کون سی بڑی غلطی کی؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس میں بتا دیا

ڈسکہ ضمنی الیکشن، سپریم کورٹ میں ہو گی سماعت، کس کا وکیل ہوا کرونا کا شکار؟

مہربانی کریں ہمیں حقائق بتائیں،سپریم کورٹ کا ن لیگی امیدوار کے وکیل سے مکالمہ، سماعت ملتوی

مسلم لیگ ن کا اثرو رسوخ تھا تو تشدد اور بد امنی پھیلانے کی ضرورت کیوں پڑی؟ ڈسکہ انتخابات کیس میں عدالت کا استفسار

ڈسکہ ضمنی الیکشن، سپریم کورٹ نے دیا ن لیگ کو بڑا جھٹکا

ڈسکہ ضمنی الیکشن کیس،جسٹس عمر عطا بندیال نے کی ن لیگی وکیل سلمان اکرم راجہ کی سرزنش

قبل ازیں این اے 75 انتخابات کالعدم قراردے دیئے گئے، این اے 75 میں دوبارہ الیکشن ہوں گے الیکشن کمیشن نے این اے 75ڈسکہ پر دوبارہ انتخابات کا حکم دے دیا پورے حلقے میں انتخابات سے متعلق مسلم لیگ ن کی درخواست منظورکر لی گئی ،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پولنگ اسٹیشنز پر فائرنگ اور قتل و غارت ہوئی، این اے 75 ضمنی انتخابات میں ماحول خراب کیا گیا

پریذائیڈنگ افسران پولیس اسکواڈ کے ساتھ لا پتہ ہوگئے؟ ڈسکہ ضمنی الیکشن کیس میں عدالت کا استفسار

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.