سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟چیف جسٹس برہم

0
334
karachi

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کنٹینرز ٹریکنگ کے ٹھیکوں میں کرپشن پر ایف بی آر کے کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کے معاملے پر کیس کی سماعت ہوئی

ایف بی آر افسران کے خلاف کارروائی کے حکم پر نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے پر سپریم کورٹ برہم ہوگئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا چیئرمین ایف بی آر کا کام صرف کرپٹ افسران کا تحفظ کرنا رہ گیا ہے؟ سرکاری اداروں کا یہ کام ہے کہ کرپٹ افسران کو بچانے کی کوشش کرے؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایف بی آر کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ” آپ ایف بی آر کے وکیل ہیں جو عوام کے پیسوں پر پل رہی ہے، ایف بی آر تمام کرپٹ لوگوں کو پالنا چاہتی ہے۔ چیئرمین ایف بی آر کو طلب کرکے پوچھتے ہیں کیوں کرپٹ افسران کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں؟”.

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کریں، ایف بی آر ان کو بچانے آگیا، آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہیے؟ یہ غیر ضروری نظر ثانی درخواست دائر کی گئی جس پر حیرت ہے،سپریم کورٹ نے ایف بی آر کی نظر ثانی کی درخواست مسترد کر دی،سپریم کورٹ نے عدالتی حکم نامے کی کاپی ایف بی آر بورڈ کے تمام ممبرز اور سیکریٹری خزانہ کو بھجوانے کی ہدایت کر دی،عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ ایسی درخواستیں دائر نہ کی جائیں جس سے عدالتی وقت کا ضیاع ہو

کس کو پیسے کھلائے ہیں رسیدیں کہاں ہیں؟غیرقانونی کام ہمیں سب پتہ ہیں، چیف جسٹس
دوسری جانب سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں چوہدری خلیق الزماں روڈ کی کمرشلائزیشن کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی،عدالت نے بلڈر کے وکیل سے سوال کیا کہ پلاٹ کی کمرشلائزیشن فیس کس کو اد اکی ہے؟ اس پر بلڈر کے وکیل نے جواب دیا پلاٹ کی کمرشلائزیشن فیس ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ کو دی ہے،عدالت نے سوال کیا کس کو پیسے کھلائے ہیں رسیدیں کہاں ہیں؟ بلڈر کے وکیل نے کہا کہ کے ایم سی اور دیگرکو پیسے دیے ہیں، رسیدیں پیش کرنے کی مہلت دی جائے، اس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بلڈر نے 22 منزلہ عمارت بنادی ہے مگر رسیدیں نہیں ہیں ،کراچی میں کیا کیا غیر قانونی ہورہا ہے ہمیں بھی سب پتا ہے، وکیل درخواست گزار نے کہا چوہدری خلیق الزماں روڈ کمرشلائز نہیں ہوسکتا، عدالت نے درخواست گزار کو بلڈنگ کی کمرشلائزیشن کی مد میں ادائیگی کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی،عدالت نے ماسٹر پلان ڈپارٹمنٹ ،کے ایم سی اور کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر چوہدری خلیق الزماں روڈ کی کمرشلائزیشن کا ریکارڈ طلب کرلیا ،عدالت نے فریقین کو 25 اپریل کو مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیا

بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

Leave a reply