fbpx

افسوس 2018 کی ویڈیو، لیکشن کمیشن کو نہیں پتہ،کسی کا انتظار نہ کریں، سپریم کورٹ کا چیف الیکشن کمشنر کو بڑا حکم

افسوس 2018 کی ویڈیو، لیکشن کمیشن کو نہیں پتہ،کسی کا انتظار نہ کریں، سپریم کورٹ کا چیف الیکشن کمشنر کو بڑا حکم

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت ہوئی

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ کی سماعت ہوئی،اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کے حکم پر چیف الیکشن کمشنر اور دیگر حکام موجود ہیں،

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن بتائے کہ انتخابات میں کرپٹ پریکٹس کیسے روکیں گے؟ الیکشن ایکٹ میں کسی بھی کرپٹ پریکٹس کا ذکر واضح نہیں ،انتخابات سے قبل اور بعد میں سیاسی مداخلت سمیت کرپٹ پریکٹس کیلئے گارڈ کا لفظ ہے ،کرپٹ پریکٹس کو گارڈ کرنے کا مطلب الیکشن سے پہلے حفاظتی انتظامات کیے جائیں،

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں سیاسی مداخلت اور پیسے کا استعمال ہوتا ہے،الیکشن کمیشن میکنزم بتائے کہ کیسے کرپٹ پریکٹس کو روکا جائے،آپ نے کرپٹ پریکٹس کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کئے ہیں؟

چیف الیکشن کمشنر نے عدالت کو جواب دیا کہ ہم آرٹیکل 226تحت تمام اقدامات کررہے ہیں، ،چیف جسٹس نے چیف الیکشن کمشنر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے جو پوچھا ہے اس کا جواب نہیں دے رہے ہیں ،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اگر الیکشن کے3 ماہ بعد کوئی بیلٹ پیپر دیکھنا چاہے تو کیا ہوگا؟ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ بیلٹ پیپر پر ووٹر کا سیریل نمبر نہیں ہونا چاہیے،اگر ووٹر کے بارے میں معلوم کرنا بھی ہے تو آئینی ترمیم کی جائے،ہم نے سینیٹ انتخابات سے متعلق بہت غور و خوض کیا ہے،

چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ جو خرید و فروخت ہو رہی ہے اس کو روکنے کے لیے کیا کیا ؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کاغذات نامزدگی کے ساتھ بیان حلفی کی ایک قانونی حیثیت ہے،آپ ایک ویجیلنس سیل بن سکتےہیں،کرپٹ پریکٹس پر کسی کو کال کرکے بلایا ہے؟ چیف الیکشن کمشنر نے عدالت میں کہا کہ اگر ہماری مانیٹرنگ ٹیم یا کوئی بھی شکایت آتی ہے توایکشن لیتے ہیں

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ہم آپ کو سپورٹ کرنا چاہتے ہیں،کمیشن کے اختیارات بہت ہیں ان کو استعمال کریں،چیف الیکشن کمشنر نے عدالت کو جواب دیا کہ ہم آپ کے احکامات پر کام کرتے رہیں گے، گزشتہ روز ایک سیاسی پارٹی نے جلسہ کیا اس پر ہم نے ایکشن لیا ہے ،عدالت کو تحریری جواب جمع کروا چکے ہیں،انتخابات سے کرپشن کو ختم کرنے کا طریقہ کار ایکٹ میں موجود ہے،الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے،

چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو انتخابی عمل سے کرپشن ہر حال میں روکنی ہوگی،جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ پارٹی لائن سے ہٹ کر ووٹ دینے پر کارروائی نہیں ہوسکتی،

چیف جسٹس نے چیف الیکشن کمشنر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے شاید ہمارے گزشتہ روز کےحکم کوسمجھنے کی کوشش نہیں کی ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپکو معلوم نہیں پاکستان میں الیکشن کیسے ہوتا ہے؟ چیف جسٹس گلزار احمد نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو بولنے سے روک دیا، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر خود جواب دیں گے،ضابطہ اخلاق بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا،

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ مانٹرینگ اور پولیٹیکل فنانس ونگ کو مضبوط کیا ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ یہ افسران کے کرنے کا کام ہے آپ خود کیا کرتے ہیں ؟ جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ جو ویڈیو وائرل ہوئی اس پر ایکشن لیا ہے، اس کا ابھی پتہ لگا ہے ،چیف جسٹس نے کہا کہ یہی تو افسوس ہے کہ 2018 کی ویڈیو کے بارے میں کمیشن کو نہیں علم،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ویڈیو کے بارے میں کمیشن کے علاوہ پورا پاکستان جانتا تھا،

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آپ ایک آئینی ادارہ ہیں،مینڈیٹ آپکے پاس ہے،کسی کا انتظار نہ کریں، چیف الیکشن کمشنر نے چیف جسٹس سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم کام کررہے ہیں،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہی تو مسئلہ ہے کہ آپ کچھ کر نہیں رہے،جو آئین آپ کو کہہ رہا ہے وہ آپ نے پہلے کرنا ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جنرل الیکشن میں ٹریبونل کو بیلٹ اور دیگر اشیا کا جائزہ لینے کااختیار ہے،

سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل روسٹرم پر آگئے ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے ایک پرپوزل بنائی ہے، اس کا جائزہ لیا جائے،عدالت نے چیف الیکشن کمشنر کو ہدایت کی کہ اٹارنی جنرل کا پروپوزل دیکھ لیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ کرپٹ پریکٹس کو روکنے کے لیے اقدامات سامنے نہیں آرہے،لوگوں کو شفاف الیکشن کے لیے مطمئن کیاگیا، لوگوں کو تسلی دینے کے لیے کوئی کا م کیا ہے؟

چیف جسٹس نے چیف الیکشن کمشنر سے استفسار کیا کہ آپ ہمیں کرپٹ پریکٹس روکنے کی اسکیم نہیں بتا رہے،اتنے عرصے سے کیس چل رہا ہے آپ صرف ایکٹ کی باتیں کر رہے ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ قومی اسمبلی کے نمائندگان کیخلاف ٹربیونل کیس سنتا ہے،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ووٹ قابل شناخت نہیں ہوتے، چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ آئین میں کہاں لکھا ہوا ہے کہ ووٹ دینے کے بعد اسکی شناخت نہیں کی جاسکتی،

رضا ربانی روسٹرم پر آگئے اور کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے،جس پر چیف جسٹس نے رضا ربانی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہی تو ان کو سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں،چیف جسٹس نے چیف الیکشن کمشنر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے صرف دفتر میں بیٹھ کر کام نہیں کرنا، آپ کوئی سرکاری ادارہ نہیں ہیں،چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ ہر امیدوار کو الگ بینک اکاوَنٹ کھولنے کا کہا ہے،امیدوار کی اہلیت جاننے کے لیے نیب ایف آئی اے سے ڈیٹا لیں گے، نادرا اور اسٹیٹ بینک ایف بی ار بھی امیدواروں کے کوائف لیں گے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.