fbpx

بھارتی انتہا پسند ہندو مسلمانوں کے بعد اب سکھوں کےجانی دشمن، پُرتشدد جھڑپیں

بھارتی ریاست پنجاب کے شہر پٹیالہ میں دوگروہوں میں جھڑپوں کے بعد انتہا پسند ہندوؤں نے ہڑتال کی کال دیتے ہوئے خالصتان کے حامیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ شہر میں زبردست کشیدگی کی وجہ سے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بند کر دی گئی ہے۔

پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی جبکہ تناؤ کے سبب جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ بھارتی ریاست پنجاب میں علیحدگی پسند تحریک خالصتان کے حامی 29 اپریل کو علامتی طور پر یومِ خالصتان مناتے ہیں۔ ہندو گروہوں نے اس کی مخالفت میں گزشتہ روز پٹیالہ میں ’’خالصتان مردہ باد‘‘ کے نام سے ایک ریلی کا اہتمام کیا تھا۔

ہندو ریلی کی قیادت انتہا پسند جماعت شیو سینا کے ایک مقامی رہنما کر رہے تھے۔ جب یہ ریلی کالی ماتا مندر کے پاس پہنچی تو وہاں بڑی تعداد میں سکھ آ گئے اور دونوں گروہوں میں جھڑپ شروع ہو گئی جس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

ریاست پنجاب کی حکومت نے پولیس کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے تین اعلیٰ افسران کا تبادلہ کر دیا ہے جبکہ پولیس نے اب تک متعدد افراد کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں۔

بھارتی صوبے پنجاب کو سکھوں کے لیے ایک علیحدہ ریاست خالصتان بنانے کی مہم کافی پرانی ہے جس سے وابستہ بیشتر رہنما امریکا، کینیڈا اور برطانیہ جیسے ممالک میں رہ کر اپنی مہم چلاتے ہیں۔ خالصتان تحریک کی حامی ایک معروف تنظیم سکھ فار جسٹس (ایس جے) ہے۔

گزشتہ برس اکتوبر میں سکھ فار جسٹس تنظیم نے مجوزہ خالصتان ریاست کے لیے ایک آن لائن ریفرنڈم کا اعلان بھی کیا تھا جس میں 18 برس سے زائد عمر کے تمام سکھوں سے حصہ لینے کی اپیل کی گئی تھی۔

بھارت میں 2014ء سے اقتدار پر براجمان انتہا پسند جماعت بی جے پی کے وزیراعظم نریندر مودی کے دور میں مسلم، سکھ اور عیسائی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی زندگیاں مشکل کر دی گئی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہندوستان میں ہندوؤں کے علاوہ کسی اور کا وجود گوارہ نہیں۔