fbpx

افضل کون تحریر : بابر شہزاد

انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت انسان روز ازل سے ہی اس بات پر بضد ہے کہ میں تم سے افضل ہوں۔ حضرت آدم علیہ السلام کے 2 بیٹے تھے جن کا نام ہابیل اور قابیل تھا اور ان دونوں میں بھی یہی جھگڑا تھا کہ میں دوسرے سے افضل ہوں اور نتیجتاً دونوں میں سے ایک کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔
اب زرا اس بھی پیچھے چلے جاتے ہیں کہ یہ صفت صرف انسانوں تک محدود نہیں ہے کہ ابلیس اس وقت کا سب سے معتبر فرشتہ تھا اور جب اللہ کریم نے حضرت آدم علیہ السلام کو تخلیق کیا تو سبھی فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ اس کو سجدہ کیا جائے تو سبھی فرشتوں نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سجدہ کیا جبکہ ابلیس نے انکار کر دیا کہ میں آگ سے بنا ہوں اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنا ہے تو میں کیسے اسے سجدہ کر سکتا ہوں مطلب ابلیس نے بھی خود کو افضل سمجھا اور اسی نشے میں اللہ تعالٰی کی حکم عدولی کر دی اور فرشتے سے شیطان کا لقب حاصل کیا۔
چاہے کوئی فرشتہ ہو یا انسان جب بھی انسان کے اندر میں آ جائے اور خود پسندی کا شکار ہو جائے تو سمجھ لیں کہ اس کا زوال شروع ہوگیا۔ انسانی تاریخ میں ایک لمبی لائن ہے جنہوں نے خود کو دوسروں سے افضل سمجھا اور دنیا اور آخرت دونوں میں ذلیل اور رسوا ہوئے تو پھر چاہے نمرود ہو یا فرعون، قوم عاد ہو یا قوم سمود یا پھر بنی اسرائیل ہو سبھی خودپسندی کا شکار ہو کر دنیا کے لیے نشان عبرت بنے۔ یزید بھی انہی لوگوں میں سے تھا جس نے معاذاللہ خود کو نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام سے افضل سمجھا اور تا ابد اپنے لیے لعنتوں کا سامان کیا۔
بحیثیت انسان ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہماری اتنی اوقات ہے کہ رات کو جب ہم سو جائیں تو ہمیں تو یہ بھی نہیں پتہ ہوتا کہ صبح اٹھنا بھی ہے کہ نہیں۔ انسان کا اختیار تو یہ بھی نہیں کہ اپنی مرضی سے سانس بھی لے سکیں تو ہمارے اندر مغروری کس بات کی ہے؟
ہمیں چاہیے کہ اس ذات کی نعمتوں کا شکر بجا لاتے ہوئے ہر وقت عاجز رہیں کہ اللہ پاک کو عاجزی بہت پسند ہے اور سب سے افضل ذات بھی وہی ذات مقدسہ ہے جس نے دونوں جہانوں کی ہر چیز کو تخلیق کیا اور وہی سبھی کو فنا کرنے والا ہے اور پھر روز محشر دوبارہ زندہ بھی وہی ذات کرے گی۔
Twitter handle : @babarshahzad32

03334043316