fbpx

اگلے سال تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے کھیلنے پاکستان آئیں گے چئیرمین انگلش کرکٹ بورڈ

انگلش کرکٹ بورڈ نے دورہ پاکستان منسوخ کرنے پرپاکستان سے معافی مانگتے ہوئے آئندہ سال پاکستان آنے کا اعلان کیا ہے۔

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق چیئرمین انگلینڈ اینڈ ویلزآئن وٹمورنے کہا اگلے سال تین ٹیسٹ اور پانچ ون ڈے کھیلنے پاکستان آئیں گے فیصلے سے پاکستان اور کرکٹ فینز سے معذرت خوا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو فیصلہ کیا وہ انتہائی مشکل تھا، فیصلہ کھلاڑیوں کی ذہنی صحت کو دیکھ کر کیا گیا، دورہ کیلئے مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ ہم آگے بڑھیں گے اس کیلئے وقت پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بورڈ نے یہ فیصلہ اپنی ججمنٹ کے حساب سے لیا ہے دورہ پاکستان منسوخ ہونے سے متعلق کھلاڑیوں سے مشاورت نہیں کی گئی۔

واٹمور کا مزید کہنا تھا کہ مجھے افسوس ہے کہ فیصلے سے خاص طور پر پاکستان میں لوگ مایوس ہوئے، تفصیلات میں نہیں جاؤں گا لیکن سکیورٹی اور ویلفیئر کی ایڈوائس پر فیصلہ کیا گیا پاکستان کے ساتھ تعلقات نئے سرے سے بنانے ہیں، ہم پاکستان کے مشکور ہیں کہ وہ گزشتہ برس انگلینڈ آئے۔

چیئرمین انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ نے کہا کہ اگلے سال پاکستان کے شیڈول ٹور کے حوالے سے جو ہو سکا ہم کریں گے۔


انگلش کرکٹ بورڈ کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے فواد چوہدری نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ انگلش کرکٹ بورڈ کی معذرت اور دورے کا اعلان ہمارے مؤقف کی کامیابی ہے۔ پاکستان کی کرکٹ کیخلاف ایک اور سازش ناکام ہوئی۔ پاکستان کا ساتھ دینے والے کھلاڑیوں، سفارت کاروں، انٹرنیشنل میڈیا اور تمام لوگوں کا شکریہ ۔

خیال رہے کہ نیوزی لینڈ نے مبینہ سیکورٹی خدشات کی وجہ سے دورہ پاکستان اچانک منسوخ کردیا تھا، جس کے بعد انگلش ٹیم نے بھی اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے سے انکار کردیا تھا جس پر برطانوی وزیراعظم بورس جونسن بھی انگلش بورڈ سے ناراض تھے۔

چئیرمین پی سی بی رمیز راجہ نے کہا تھا کہ ، ہم پوری دنیا سے دشمنی نہیں لے سکتے،آئندہ 6ماہ میں ہمارے پاس بہت پیسے آئینگے،لوگ سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، مجھے نہیں لگتا کہ آئی سی سی کی میٹنگ کا کوئی فائدہ ہوتا ہے،اپنے حساب سے گول پوسٹ بدل دیا جاتا ہے، دہرا معیار ختم ہونا چاہیے،ہم نے اپنی ٹیم کو بہترین بنانا ہےزیادتی جب بھی ہو تو اپنا موقف سب کے سامنا رکھنا چاہیے-

انہوں نے کہا تھا کہ بلاک بنے ہوئے ہیں ، ایک نے پل آوٹ کیا، دوسرے نے بھی کردیا، آگے بھی ہوسکتے ہیں،ہمیں اس معاملے کو بلاک کے ذریعے اور قانونی طور پر اٹھانا ہوگا، ہم صرف اپنا موقف رکھیں گے، کسی سے الگ نہیں ہونا چاہتے،بھیک میں کرکٹ نہیں کھیلیں گے،ان کے ہاتھ میں اپنی قسمت میرے ہوتے ہوئے نہیں دے سکتے۔ ان ممالک کوآئئنہ دکھانے کے ساتھ تمام قانونی راستے بھی اپنائیں گے-