fbpx

اگر امریکی کانگریس نے میڈیا بل منظور کیا تو فیس بک سے خبریں ہٹا دیں گے،میٹا

میٹا نے انتباہ کیا ہے کہ اگر امریکی کانگریس میں ایک مجوزہ بل کی منظوری دی گئی تو فیس بک پر خبروں سے متعلق تمام مواد ہٹا دیا جائے گا۔

باغی ٹی وی : امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے اس بل میں میڈیا اداروں کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے گوگل اور فیس بک سے مالی معاملات پر مذاکرات کو آسان بنایا جائے گا۔

اس معاملے پر بریفنگ دینے والے ذرائع نے بتایا کہ قانون ساز صحافیوں کے مقابلہ اور تحفظ کے ایکٹ کو سالانہ دفاعی بل میں شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ مقامی نیوز انڈسٹری کی جدوجہد میں مدد مل سکے۔

امریکی ایوان نمائندگان کے اراکین کی جانب سےصحافیوں کےمقابلہ اورتحفظ کےایکٹ ( Journalism Competition and Preservation Act) کو سالانہ دفاعی بل کا حصہ بنانے پر غور کیا جارہا ہے تاکہ مقامی میڈیا انڈسٹری کو مدد فراہم کی جاسکے۔


میٹا کے ترجمان نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ اگر یہ قانون منظور ہوا تو کمپنی کی جانب سے خبروں کو ہٹانے پر غور کیا جائے گا ہم میڈیا اداروں کو ٹریفک اور سبسکرپشنز بڑھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں –

انہوں نے مزید کہا کہ تجویز یہ تسلیم کرنے میں ناکام ہے کہ پبلشرز اور براڈکاسٹرز پلیٹ فارم پر مواد ڈالتے ہیں کیونکہ "اس سے ان کی نچلی لائن کو فائدہ ہوتا ہے –

نیوز میڈیا الائنس، ایک تجارتی گروپ جو اخبارات کے پبلشرز کی نمائندگی کرتا ہے، کانگریس پر زور دے رہا ہے کہ وہ اس بل کو دفاعی بل میں شامل کرے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ مقامی کاغذات بگ ٹیک کے استعمال اور غلط استعمال کے مزید کئی سال برداشت نہیں کر سکتے، اور کارروائی کرنے کا وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔

اسی طرح کے قانون کا اطلاق آسٹریلیا مارچ 2021 میں ہوا تھا جس کے بعد فیس بک نے نیوز فیڈ کو بند کردیا تھا مگر پھر اسے بحال کردیا تھا امریکی بل کے تحت گوگل یا فیس بک پر اگر کسی خبر پر کلک کیا جائے گا تو میڈیا اداروں کو اشتہاری آمدنی میں سے حصہ دینا ہوگا۔

انڈونیشیا کے صوبے مشرقی جاوا میں آتش فشاں پہاڑ پھٹ پڑا، 2,000 رہائشی نقل مکانی پر…