fbpx

اگر حکومت سندھ کو اتنا خیال ہے تو پھر آکٹرائی اور اضلاع ٹیکس "کے ایم سی” کو براہ راست جمع کرنے دے

اگر حکومت سندھ کو اتنا خیال ہے تو پھر آکٹرائی اور اضلاع ٹیکس "کے ایم سی” کو براہ راس جمع کرنے دے

ایک ٹوئٹر صارف امبر دانش نے کہا ہے کہ: اگر حکومت سندھ کو اتنا خیال ہے تو پھر آکٹرائی اور اضلاع ٹیکس "کے ایم سی” کو براہ راست جمع کرنے دے؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ: اور اس ٹیکس کی مد میں جو اربوں کے واجبات سندھ حکومت نے کے ایم سی کو ادا کرنے ہیں وہ بھی فورا دا کردیں۔ کے ایم سی آج ہی اپنے پیروں پر کھڑی ہونے لگے گی۔


خیال رہے کہ دوسری جانب گزشتہ روز بلدیہ عظمی کراچی کا متنازعہ میونسپل یوٹیلٹی سروسز ٹیکس کے الیکٹرک کے بلوں میں شامل کرنے کے ردعمل میں شہریوں نے کچرا کے الیکڑک کی گاڑیوں میں ڈالنا شروع کر دیا تھا تفصیلات کے مطابق کے ایم سی کا متنازعہ ایم یو سی ٹی بل جو کے ایم سی جمع کرنے کا ہدف پورا کرنے میں ناکام نظر آرہی تھی اس نے 7 فیصد کمیشن کے عوض کے الیکڑک کے بلوں کے ذریعے شہریوں سے وصول کرنا شروع کر دیا، اس سے کے الیکٹرک کو سالانہ 50 کروڑ روپے کا فائدہ ہوگا، ان کو صرف بل پر پرنٹ کرنا ہے اور رقم جمع کرنی ہے۔

متنازعہ بل جس پر عدالت عالیہ کی جانب سے کچھ وقت کے لیے حکم امتناعی بھی حاصل ہوا تھا تاہم کے ایم سی مسلسل ان بلوں کو بھیج رہی تھی لیکن ریکوری ناہونے کے برابر تھی۔ کے الیکڑک کے بلوں میں آنے کی صورت میں شہریوں کو ہر صورت بل ادا کرنا پڑ رہا ہے ورنہ بجلی منقطع ہو جائیں گی لیکن اس کا ردعمل بھی بھرپور انداز سے نظر آرہا ہے۔ شہر میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور شہریوں نے ردعمل میں کچرا اٹھا کر کےالیکٹرک کی گاڑیوں میں ڈالنا شروع کر دیا جس سے عملے کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اسی طرح کے الیکٹرک کا شکایتی نمبر 118 جہاں بجلی کے مسائل کے لیے شہری اپنی شکایات درج کرواتے تھے اب شہریوں نے کچرے کی شکایت 118 پر درج کروانا شروع کر دی جبکہ کے الیکڑک کا نمائندہ مسلسل وضاحت دیتا رہا کہ یہ ہماری ذمہ داری نہیں ہے آپ کے ایم سی کو فون کریں جس پر شہری کا کہنا تھا کہ آپ کے ایم سی کے پیسے وصول کر رہے ہیں لہٰذا آپ ہماری شکایت کے ایم سی کو درج کروائیں یا پھر وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر بلدیات اور ایڈمنسٹریٹر کراچی کو پہنچائیں کیونکہ آپ ان کا ٹیکس جمع کر رہے ہیں تو شکایت سننا بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔

واضح رہے کہ کے الیکٹرک کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی کچرے کی شکایت درج کروائی جا رہی ہے جس سے ادارے کو مسلسل کام کرنے میں دشواری کا سامنا ہو رہا ہے جبکہ شہریوں کا کہنا کے کہ ایم یو سی ٹی بل ایک متنازعہ ہے جو اب طاقت کے ذریعے کے الیکٹرک کی ملی بھگت سے سندھ حکومت وصول کر رہی ہے اگر اس بل کو فوری طور ختم نا کیا گیا تو ہم کچرا کے الیکڑک کی گاڑیوں اور دفتر کے سامنے ڈالیں گے۔