fbpx

اگر ججز کے خلاف منفی مہم ختم نہ ہوئی تو بار ایکشن لے گی،پاکستان بارایسوسی ایشنز

اسلام آباد: ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز نے عدلیہ اور ججز کے خلاف منفی پروپیگنڈا مہم کی مذمت کی ہے-

باغی ٹی و ی : ملک بھر کی بار ایسوسی ایشنز کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ میں اکثریت کھو دینے والی جماعت کی ایما پر پروپیگنڈا جاری ہے جلسے اور ریلیوں میں ججز کے خلاف توہین آمیز بیانات دیئے جارہے ہیں جس کا مقصد ججز کو دباؤ میں لاکر غیرآئینی اور غیرجمہوری مقاصد حاصل کرنا ہے جبکہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کھل پر عدلیہ پر الزامات لگارہے ہیں۔

میری جان سے زیادہ پاکستان کی آزادی ضروری ، فوری الیکشن چاہتے ہیں ، عمران خان

اعلامیے میں بار ایسوسی ایشنز نے رات کے وقت عدالتیں کھولنے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ رات اوقات کار میں عدالتیں لگا پر غیرآئینی سازشوں کا راستہ روکا گیا۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکریٹری وسیم ممتاز ملک نے کہا کہ کسی کو بھی سیاسی فوائد کے لیے ججوں کی عزت کو پامال کرنے کا اختیار نہیں ہے، عدالتی فیصلوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے اور کوئی بھی ججوں کے احترام کو مجروح کرنے کے لیے آزاد نہیں ہے اگر ججز کے خلاف منفی مہم ختم نہ ہوئی تو بار ایکشن لے گی-

وفاقی کابینہ کی حلف برداری کی تقریب کل ایوان صدر میں ہو گی،چئیرمین سینیٹ حلف لیں گے

قبل ازیں سپریم کورٹ میں آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا تھا کہ 10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کےعدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں ، ایسے فیصلوں کا احترام چاہتے ہیں، عدالت اپنا آئینی کام سر انجام دیتی ہے، قومی لیڈروں کو عدالتی فیصلوں کا دفاع کرنا چاہیے، آئینی تحفظ پر گالیاں پڑتی ہیں لیکن اپنا کام کرتے رہیں گے، عدالت کیوں آپ کے سیاسی معاملات پر پڑے؟-

جسٹس جمال خان نے کہا تھا کہ آج کل آسان طریقہ ہے 10ہزار بندے جمع کرو کہو میں نہیں مانتا پارلیمان نے تاحیات نااہلی کا واضح نہیں لکھا،پارلیمنٹ نے یہ جان بوجھ کر نہیں لکھا یا غلطی سے نہیں لکھا گیا، پارلیمنٹ موجود ہے دوبار اس کے سامنے پیش کردیں،عدالت کے سر پر کیوں ڈالا جارہا ہے ؟-

عمران خان کے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے حوالے سے بیان پرفروغ نسیم کا ردعمل ،تہلکہ خیز انکشاف

،مصطفیٰ رمدے نے کہا تھا کہ عدالت کے خلاف سنجیدہ قسم کی مہم چلائی جا رہی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ آئین کی حفاظت کرنا ہماری زمہ داری ہے،ہم نبھائیں گے،عدالت 24 گھنٹے کام کرتی ہے کسی کو عدالتی کارروائی پر انگلی اٹھانے کی ضرورت نہیں، مصطفیٰ رمدے نے کہا تھا کہ عدالت کو مفروضوں کی بنا پر غیر ضروری طور پر سیاسی عمل میں دھکیلا گیا ، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا تھا کہ اگر کوئی معزز رکن اپنے عمل کی وضاحت کردے تو کیا ہوگا-

واضح رہے کہ حال ہی میں پی ٹی آئی کے کراچی میں کئے جانے والے جلسے میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پھر ہمارے سپیکر ڈپٹی سپیکر اسمبلی میں جا کر کہتے ہیں جب ان کو مراسلے کا پتہ چلتا ہے تو کہ ہمارا جو حلف ہے وہ پاکستان کی سلامتی کا ہے مراسلے میں واضح عدم اعتماد کا لکھا ہوا مسترد کرتا ہوں پھر سپریم کورٹ کا فیصلہ آتا ہے ہمارے ہاتھ بںدھ جاتے ہیں یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ کس وقت ووٹنگ کروانی ہے رات کے بارہ بجے عدالتیں کھل گئیں پوچھنا چاہتا ہوں میرا جرم کیا تھا میں نے جماعت کا نام تحریک انصاف رکھا آج تک کبھی پاکستان کا قانون نہیں توڑا مشرف نے آزاد عدلیہ کی تحریک میں مجھے جیل میں ڈالا کبھی قوم کو شرمندہ نہیں کروایا کبھی عمران خان کا نام میچ فکسنگ میں نہیں آیا اللہ نے مدد کی شوکت خانم بنائی دو یونیورسٹیز بنائیں نمل اور القادر ۔سپریم کورٹ نے مجھے صادق و امین قرار دیا تھا عدم اعتماد کا مجھے پہلے ہی پتہ چل گیا تھا کہ تاریخ فکس ہو گئی رات کے بارہ بجے عدالتیں کھلنا ساری زندگی نہیں بھولوں گا-

10 سے15 ہزار لوگ جمع کر کےعدالتی فیصلے پر تنقید کریں تو ہم کیوں فیصلے دیں،چیف جسٹس