fbpx

اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ، تحریر: محمد عاصم حفیظ

اگر یہ مندر ہوتا ۔۔۔ لیکن یہ تو مسجد ہے ۔۔
تاریخی اہمیت کی حامل ہے ۔۔ آباد رہی نمازیں ہوتی رہیں ۔ لیکن اب خستہ حالی ویرانی کا شکار ہے ۔۔ اس کے بلکل قریب موجود گوردوارہ اور شیولنگ اس لسٹ میں شامل ہیں جنہیں 400 مندروں کی بحالی کے پروگرام کے تحت تعمیر و مرمت کئے جانا ہے ۔ یہ سب تاریخی عمارات موڑ ایمن آباد ضلع گوجرانولہ میں ہیں ۔
لیکن یہ تو مسجد ہے ۔۔ یہ بحالی پروگرام میں شامل نہیں ہو سکتی ۔
اب تصویر کا ایک دوسرا رخ دیکھیں ۔ گزشتہ دنوں اس کی تصاویر شئیر کیں گئیں تو ملک بھر اور بیرون ملک سے کئی شخصیات اور ادارے اس تاریخی مسجد کو بحال کرنے پر خرچ کے لئے تیار ہوئے ۔ ڈپٹی کمشنر کے وفد نے وزٹ بھی کیا ۔ لیکن بعد ازاں پتہ چلا کہ یہ جگہ محکمہ آثار قدیمہ کی ملکیت ہے ۔ آثار قدیمہ کے ہیڈ آفس میں رابطہ ہوا ۔ تو بتایا گیا کہ کوئی بھی پرائیویٹ شخص یا ادارہ اس پر خرچ نہیں کر سکتا ۔ صرف محکمہ ازخود خرچ کر سکتا ہے ۔یا پھر اقوام متحدہ یا کسی دوسری گورنمنٹ کا پراجیکٹ حکومت پاکستان کے ذریعے ہو ۔ جبکہ محکمے کے پاس فنڈ ہی نہیں ہیں ۔۔ حالانکہ سیالکوٹ ۔ پشاور ۔راج کٹاس سمیت دیگر مندروں کو اسی محکمہ آثار قدیمہ نے تعمیر و بحال کیا ہے ۔ لیکن اس مسجد کی باری نہیں آ سکی ۔۔
المیہ دیکھیں کہ ایک تاریخی مسجد جسے اہل خیر اپنے پیسوں سے بحال کرنا چاہتے ہیں وہ نہیں کر سکتے ۔ محکمہ اجازت نہیں دیتا ۔ لیکن دوسری جانب وہی محکمہ مندر و گوردواروں پر کروڑوں خرچ کر رہا ہے ۔
یہ کیسا تضاد ہے کہ مسلمان ایک مسجد کو اپنے پیسوں پر بھی بحال نہیں کر سکتے لیکن مندر گوردوارے سرکاری خرچ پر تعمیر و بحال کئے جا رہے ہیں ۔۔
(ذرا سی بات ۔۔ محمد عاصم حفیظ)