احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی سینیٹر شبلی فراز

اسلام آباد: احمد فراز قومی ادبی سیمینار میں سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ احمد فراز کو اپنی مٹی سے والہانہ محبت تھی چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر یوسف خشک نے کہا کہ احمد فراز نے اپنی شاعری سے دلوں کو جوڑنے کا کام لیا ہے۔

باغی ٹی وی : احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی،ا ن خیالات کااظہارسینیٹر شبلی فراز،وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام احمد فراز ٹرسٹ کے اشتراک سے اردو کے عہد سازشاعر احمد فراز کی 90ویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ ”احمد فراز قومی ادبی سیمینار“ میں کیا۔

شبلی فراز اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ مجلس صدارت میں پروفیسر فتح محمد ملک اور محمد اظہار الحق شامل تھے۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے ابتدائیہ پیش کیا۔ محمد حمید شاہد، خواجہ نجم الحسن، اختر عثمان، عائشہ مسعود، ڈاکٹر عابد سیال، ڈاکٹر روش ندیم اور ڈاکٹر حمیر ا اشفاق نے اظہار خیال کیا۔

حسن عباس رضانے منظوم خراج پیش کیا۔ عدنان رضا ، بانو رحمت اور زاہد علی خان کلامِ فراز ساز و آواز کے ساتھ پیش کیا۔ نظامت محبوب ظفر نے کی۔

سینیٹر شبلی فراز،وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات ، نے کہاکہ احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی۔

انھوں نے کہاکہ احمد فرازایک بااُصول انسان تھے، وہ کبھی اپنے نظریات اور آدرش سے پیچھے نہیں ہٹے ۔ انھوں نے مظلوم کشمیریوں، فلسطینیوں اور افریقہ کے محکوم اقوام کے لیے شاعری کی صورت میں جدوجہدکی ۔ وہ محبت اور انسانیت کے شاعر تھے ۔ وہ پاکستان کی طرف سے محبت اور دوستی کے سفیر تھے۔

شبلی فراز نے کہا کہ احمد فرازنے کمزور اور پسے ہوئے طبقات کے لیے نہ صرف شاعری کے ذریعے جدوجہد کی بلکہ عملی طور پر بھی شریک رہے۔دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی اردو سمجھی اور بولی جاتی ہے ،احمد فرازکانام عزت اور احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ وہ اپنی شاعری کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ،اکادمی ادبیات پاکستان نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پسند تحریک کے نامور شعراءمیں شامل احمد فراز کی نظم اس فکر واحساس سے ترتیب پاتی ہے، جو ہمارے ماضی اور حال سے جُڑا ہوا ہے۔احمد فراز کی غزلیہ شاعری کا کمال یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی شاعری سے دلوں کو جوڑنے کاکام لیا۔

احمدفراز زمانے کی پیدا کردہ ناہمواریوں کے خلاف اورقیام امن کے لیے مستقل لکھتے رہے۔احمد فراز اپنی غزلوں میں خیالات اور الفاظ کو ایک دوسرے کی طاقت بنا کر سامعین و قارئین کے دلوں کے اندر اُترنے کا فن جانتے تھے۔ یہ اُن کی شاعری کا کرشمہ ہے کہ وہ آج بھی عوام اور خواص دونوں سطح کے لوگوں میں یکساں مقبول ہیں۔ بلاشبہ اُن کی شاعری رومان اور مزاحمت کا حسین امتزاج ہے ۔

پروفیسر فتح محمد ملک نے صدارتی خطاب میں کہا کہ احمد فرازکو اپنی مٹی سے والہانہ محبت تھی، اُنہوں نے بہت سے ملی ترانے لکھے، جو مٹی کی خوشبوں اور وطن کی محبت سے مملو ہیں۔ وہ جس شدت سے محبت کرتے، اُسی شدت سے لکھتے تھے۔ وہ سچے اور کھرے انسان تھے وہ ادب اور شاعری کو سچائی کا محور سمجھتے تھے۔

لہٰذا اُنہوں نے ہمیشہ محبت اور انسانیت کی بات کی، اور ظلم وجبر کے خلاف زبردست مزاحمت کی، رومان اور مزاحمت دونوں صورتوں کی شاعری میںاحمد فراز نے کمال مہارت سے ندرت اور انفرادیت قائم کی ۔ جواُنہی کا خاصا ہے ، احمد فراز اپنی مثالی شاعری کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے ہیں۔

محمد اظہار الحق نےا اپنے خطاب میں خصوصیت کے ساتھ فراز صاحب کے ابتدائی مجموعوں اور درد آشوب کا ذکر کیا، جب ملکی سیاست میں انخطاط کا زمانہ تھا، اور علمِ احتجاج بلند کرنے والا کوئی نہ تھا، فرازصاحب نے اُس زمانے میں اُردو کو ایسے کمال اشعار عطا کیے جو انہی کا حصہ ہیں۔

محمد حمید شاہدنے کہا کہ احمد فراز نے اپنا مقام کسی بھی سیاسی یا عہدے کے سہارے کے بغیر اپنا مقام پیدا کیا –

خواجہ نجم الحسن نے کہا کہ میڈم نور جہاں ، سلمی آغا اور دیگر فنکار احمد فراز سے دلی محبت و ان کا احترام کرتے تھے-

اختر عثمان نے احمد فراز کو ہر دور کے شاعر قرار دیا –

عائشہ مسعود نے کہا احمد فراز سچے شاعروں کی حوصلہ افزائی کرتے اور ان سے شفقت کا رویہ رکھتے تھے-

ڈاکٹر عابد سیال نے کہا کہ احمد فراز مشہور ہونے کے ساتھ مقبول شاعر بھی تھے-

ڈاکٹر روش ندیم نے کہا احمد فراز اپنے ہمعصر کے ساتھ نوجوان شعرا کے لیے راہ نما شاعر ہیں اور رہیں گے اور ڈاکٹر حمیر ا اشفاق نے احمد فراز کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فراز کی شاعری اپنی خوبصورتی اور سچائی سے لوگوں کے دلوں کو گرماتی رہی گیاحمد فراز اپنی لاجواب شاعری کیوجہ سے رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔

پروگرام کے آخر میں فراز کی شاعری کو گلوکاروں نے گا کر نشست کو گل رنگ کر دیا ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.