fbpx

احمد مسعود کا طالبان کے خلاف مزاحمت کا اعلان، امریکہ سے مدد مانگ لی

افغانستان کے طالبان مخالف مرحوم رہنما احمد شاہ مسعود کے 32 سالہ بیٹے احمد مسعود نے طالبان کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا ہے جس کے لئے اس نے امریکہ سے مدد مانگ لی ہے۔

باغی ٹی وی : احمد مسعود نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون لکھا جس میں کہا کہ افغان فوج کے ارکان اور اسپیشل فورسز یونٹ کے کچھ ارکان بھی ان کے ساتھ ہیں ان کے پاس اسلحہ اور گولہ بارود بھی موجود ہے جو ہم نے اپنے والد احمد شاہ مسعود کے زمانے سے جمع کر رکھا تھا کیوں کہ ہمیں معلوم تھا کہ یہ دن آ سکتا ہے۔

انہوں نے اپنے مضمون میں کہا ہے کہ امریکہ طالبان کے خلاف مزاحمتی تحریک شروع کرنے کے لیے مزید ہتھیاروں کی فراہمی ممکن بنائے۔

احمد مسعود نے اپنے مضمون میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس طالبان کا مقابلہ کرنے کے لیے مؤثر طاقت موجود ہے مگر کی ملیشیا کو اسلحہ و بارود کی ضرورت ہے۔

مضموں میں احمد مسعود نے ترغیب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکہ ان کی ملیشیا کو اسلحہ فراہم کرکے اب بھی جمہوریت کا علمبردار ثابت ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ مرحوم رہنما احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود اس وقت اپنے آبائی علاقے وادیٔ پنج شیر میں موجود ہیں جس پر طالبان نے ابھی قبضہ نہیں کیا انہوں نے کہا ہے کہ اگر طالبان وادیٔ پنج شیر پر حملہ کریں گے تو انہیں ہماری جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

خیال رہے کہ مرحوم کمانڈر احمد شاہ مسعود کو پنجشیر کا شیر بھی کہا جاتا تھا۔ روس کے خلاف ہونے والے جہاد میں انہوں ںے انتہائی اہم مرکزی کردار ادا کیا تھا سوویت یونین کے خلاف ہونے والی مزاحمتی تحریک میں اس کی افواج پنجشیر کے نہ صرف فتح نہیں کرسکی تھی بلکہ شیر کو بھی پکڑنے میں ناکام رہی تھی۔

طالبان کے دور اقتدار میں بھی پنجشیر کا علاقہ ناقابل تسخیر رہا تھا ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے سے 2 دن قبل ایک خود کش حملے میں احمد شاہ مسعود جاں بحق ہو گئے تھے۔