fbpx

ایک ماہ میں معیشت کا کرشمہ۔۔۔ جادو چل گیا ، سنئے مبشر لقمان کی زبانی

ایک ماہ میں معیشت کا کرشمہ۔۔۔ جادو چل گیا ، سنئے مبشر لقمان کی زبانی

باغی ٹی وی :سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے وزیر خزانہ کی بات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا وزیر خزانہ نے ڈیڑھ ماہ قبل کہا تھا کہ معیشت کا بیڑا غرق ہوگیا ہے اور آج انہو‌ں نے کہا کہ ہماری کوششوں سے معاملہ سیٹ ہوگیا، اس کے مطلب یہ ہوا کہ ان سے پہلے حفیظ شیخ نے معیشت کا بیڑہ غرق کیا اور اسی حفیظ کو سینیٹ کی سیٹ جتانے کے لیے حکومت ایڑھی چوٹی کا زور لگا رہی تھی .

اگر وہ اتنا ہی بیڑہ غرق کرنے والے تھے تو ان کو کیوں‌ سینیٹر بنا رہے تھے اسی طرح‌جب شوکت ترین جائیں گے اور پھر اگلاوزیر کہے گا پچھلے نے یہ کچھ کیا یہ سلسلہ شروع سے ہے اور چلتا رہے گا.

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح لوڈ شیڈنگ پر جب ان سے پوچھا گیا کہ ہر جگہ لوڈ شیڈنگ ہے . ایک گھنٹہ لائٹ آ رہی ہے کیا وزیر اعظم ہاؤس میں‌بھی لائٹ جا رہی ہے . تو ان کا کہنا تھا وزیر اعظم ہاؤس میں لائٹ نہیں جاتی وہ بس ہمارے لیے ہے کہ گھبرانا نہیں ہے . اس وقت 6 ہزار میگا واٹ کی بجلی کا خسارہ ہے اور جب اتنی زیادہ بجلی چلتی ہے تو پتہ نہیں کہاں کہاں اور کتنے گرڈ اسٹیشن بند کرنا پڑتے ہیں‌.

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دیہاتوں میں‌ تو اس وقت بیس بیس بائیس گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہے . اب یہ سب پچھلے حکومت پر ڈال دیں‌گے . لیکن یہ اس لیے غلط ہوگا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد پاور سیکٹر صوبائی حکومتوں کے تحت ہے . اور پی ٹی آئی حکومت بتائے کہ انہوں نے کے پی کے میں کتنے پارک بنائے .

ان کا کہنا تھا کہ اب میں بتا رہا ہوں‌میری بات لکھ لیں کہ اب گرمی میں بجلی نہیں ہے سردی میں گیس نہیں ہوگی کیونکہ کوئی منصوبہ بندی ہی نہیں‌ہے . یہ چھ ہزار میگا واٹ کا شارت فال مزید بڑھے گا اگر بارشیں ہو جاتی ہیں‌تو شائد کچھ بچت ہو لیکن مجھے نہیں لگ رہا کہ کچھ بہتری ہو.

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آ پ کو پتہ ہے کہ اتنی گرمی کیوں ہے وہ اس لیے ہے کہ آپ کے جنگلات چار فیصد ہیں اور اقوام متحدہ کہتی ہے کہ جس ملک کا 24 فیصد ہے وہ خطرے میں ہے اس سے زیادہ ہونا چاہیے . حکومت اگرچہ کلیم کرتی ہے اگر بلین ٹری ہوتے تو یہ حالات نہ ہوتے . اگر آپ نے درخت نہ لگائے تو دس سال بعد میں کہہ رہا اللہ کرے میں غلط ہوں کہ بچے ہاتھوں میں مریں گے .

مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فردوس عاشق اعوان کا مسئلہ تربیت کی کمی ہے لوگ اس کو دیکھ کر جسٹی فائی کرتے ہیں‌. ہاتھ تب اٹھایا جاتا ہے جب دلیل کی کمی ہوتی ہے اور وزیر مشیر اس طرح قانون کو ہاتھ میں لے رہے ہیں. یہ بہت بری مثال قائم ہو رہی ہے .

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.