دنیا میں 152 ملین بچے کام کرنے پر مجبور ہیں.اقوام متحدہ

دنیا میں 152 ملین بچے کام کرنے پر مجبور ہیں.اقوام متحدہ
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے برائے اطفال یونیسیف کے مطابق ہر دسواں بچہ جبری مشقت کا شکار ہے اور اس ننھے پھول کو اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے اپنے نازک کندھوں پر بار گراں اٹھانا پڑتا ہے.یہ تعداد اب ایک سو باون ملین تک پہنچ چکی ہے.جبکہ کام کے دوران ان بچوں کا جنسی استحصال بھی کیا جاتاہے.مزدور بچوں کی زیادہ تر تعداد افریقہ اور ایشیا میں پائی جاتی ہے.
چائلڈ لیبر کے خاتمہ کا عالمی دن بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن( آئی ایل او) کے تحت پہلی مرتبہ2002ءمیں منایا گیا جس کامقصد چائلد لیبر کے خاتمہ سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے۔ اس موقع پر سرکاری اورغیرسرکاری اداروں کی طرف سے واکس اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے اور چائلڈ لیبرکے خاتمہ سے متعلق اقدامات اور قوانین پر اطلاق کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ متعلقہ ادارے تمام سٹیک ہولڈرز پربچوں کی تعلیم، صحت اورمعیار زندگی کے حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات سے متعلق دباﺅ ڈالا جاتا ہے۔ وزارت انسانی حقوق نے بھی ملک سے چائلد لیبرکے خاتمے کیلئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔ وزارت انسانی حقوق کے ذرائع نے ”اے پی پی“ کو بتایا کہ اس سلسلہ میں فوجداری قانون(دوسری ترمیم) ایکٹ 2016ءکا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ قانون قومی کمیشن برائے بہبود اطفال و ترقی نے متعارف کرایا جو وزارت کا ایک ذیلی ادارہ ہے۔ اس ایکٹ میں بچوں کو لالچ دے کر مشقت کی جانب مائل کرنے، بچوں پر تشدد، انہیں حراساں کرنے، بچوں کی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے قوانین متعارف کرائے گئے ہیں اور انہیں جرم قراردیا گیا ہے۔ مزید برآں آئی سی ٹی کیلئے چائلڈ رائٹ پروٹیکشن بل2017ءتمام فریقین کی مشاورت سے تیار کیا گیا جس کا مقصد بچوں کو ہر قسم کے جسمانی اور ذہنی تشدد یا زخم نظرانداز کرنے ، بدسلوکی ، استحصال اور بے حرمتی سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ یہ بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق میں زیرغور ہے ۔ اقوام متحدہ کے حقوق اطفال کے کنونشن پر موثر عملدرآمد ، نگرانی اور صوبوں کے ساتھ مربوط بناتے ہوئے یکساں نفاذ کیلئے قومی کمیشن برائے حقوق اطفال بل2015ءکا مسودہ بھی تیار کیا ہے۔ یہ بل قومی اسمبلی میں پیش کرایا گیا ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.