ایک وقت تھا کشمیر پر انگار وادی جیسے ڈرامے آتے تھے، اب تو ساس بہو کی لڑائیاں ہی ختم نہیں ہوتیں، جویریہ صدیق

پاکستان کی معروف کالم نگار اور ملٹی میڈیا جرنلسٹ جویریہ صدیقی ماضی میں کشمیر پر بننے والے ڈرامے انگار وادی کو یاد کرنے لگیں-

باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جویریہ صدیقی نے 1994 میں پروڈیوسر روؤف خالد کے وادی جموں کشمیر پر بنائے گئے ڈرامے انگار وادی کو یاد کرتے ہوئے لکھا کہ ہمارے بچپن میں یہ ڈرامہ کشمیر پر آیا تھا۔ اللہ تعالی روف خالد کو جنت نصیب کرے آمین۔


انہوں نے آج کی ڈارمہ انڈسٹری پر بات کرتے ہوئے لکھا کہ انگار وادی کے بعد شاید ہی کشمیر پر کوئی ڈرامہ آیا ہو اور جنہوں نے کشمیر پرسکرپٹ لکھے بھی وہ بھی نظر انداز ہوئے کیونکہ ہماری ڈرامہ انڈسٹری ساس بہو دوسری شادی اور افئیرز والی سٹوریز پر زیادہ فوکس کرتی ہے۔

جویریہ صدیقی کی اس ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے صارفین نے بھی مختلف تبصرے کئے-

معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ نے جویریہ صدیقی کے ٹوئٹ کے جواب میں لکھا کہ کشمیر پر بننے والا میرے بچپن کا فیورٹ ڈرامہ لاگ جو 1998 میں انگار وادی 1994 کے بعد بنایا گیا تھا یہ بھی رؤف خالد صاحب کا تھا-


انہوں نے جویریہ صدیقی کو مشورہ دیتے ہوئے لکھا کہ لاگ ڈرامہ یوٹیوب پر مل جائے گا، ضرور دیکھئے گا اسکے بعد ایسا کوئی ڈرامہ دیکھنے کو نہ ملا۔


سعد مقصود نامی صارف نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ کشمیر اب افسوس کے ساتھ ترجیع نہیں رہا اب کچھ منٹ کھڑے ہونے سے لے کر گانے بنانے تک کشمیر رہ گیا ہے-


سلمان احمد نامی صارف نے لکھا کہ اس کے بعد راؤف خالد صاحب نے ہی اک ڈرامہ لاگ کشمیر ایشو پہ 1998 میں بنایا تھا وہ بھی لاجواب تھا اس کے بعد شاید ہم اس موضوع کو بھول ہی گئے۔


قاسم فراز نامی صارف نے لکھا کہ حکومت بھی اس ایشو پہ خاص دلچسپی نہیں رکھتی بلکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ کشمیر سے جان چھڑانا چاہتے ہیں-


ایک صارف نے لکھا کہ بالکل سچ ہے. خود ایسے ڈرامے بناتے ہیں جن میں عوام کو کوئی دلچسپی نہیںاور پھر وہ شکایت کرتے ہیں کہ پورا ملک ارطغرل کا دیوانہ ہوگیا ہے!


ادیب ہنجرا نامی صارف نے لکھا کہ ایسے ڈراموں کو بہت پذیرائی ملی اور عوام اور بھی ایسے ڈرامے دیکھنا چاہتے تھے لیکن پھر مشرف صاحب آگئے اور کشمیر کی آزادی کے لیے لڑنے والی تنظیموں اور ایسے لٹریچر پر پابندی لگوادی جو کہ آج تک کی عظیم غلطیوں میں سے ایک ہے-


اسامہ ولی نامی صارف نے لکھا کہ افسوس! ہم ڈراموں کی ذریعےبھی کشمیر فتح نہیں کرسکتےکیونکہ انڈین آرمی کےپاس ہم سےبڑےڈرامےباذ،گائک، فنکار ہیں


خُرم شہزاد نامی صارف نے لکھا کہ یہ بہت ہی برا زہر اور غلاظت ہمارا ڈرامہ انڈسٹری اور میڈیا ہمارے زہنوں میں بھر رہے ہیں، جس کا اندازہ شاید ہمیں کچھ عرصہ بعد ہو گا، اللہ ہدایت دے اور ہم سب کو ہر شر سے محفوظ رکھے-


ایک صارف نے لکھا کہ بہت بہترین ڈرامہ تھا روف خالد صاحب کا. ﷲ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے. ان کے کسی کو خیال نہیں آیا شاید-

واضح رہے کہ 18 اقساط پر مشتمل ڈرامہ سیریل انگار وادی کو تحریر اور پروڈیوس روؤف خالد نے کیا تھا جبکہ اس کی ڈائریکشن طارق معراج نے دی تھی-

اس میں رؤف خالد بطور کیپٹن حمزہ شفیع شہید، عتیقہ اوڈھو بحیثیت ڈاکٹر ہاجرہ حمزہ شفیع، فرید اللہ بطور مجاہدین کمانڈر ڈاکٹر طلحہ۔ شگفتہ علی بحیثیت ڈاکٹر، قوی خان بطور پروفیسر شفیع۔ حمزہ اور طلحہ کے والد۔ خیام سرحدی بطور سینئر مجاہدین کمانڈر مولوی مشتاق شہید۔ نثار قادری۔ ثمینہ احمد بطور ہاجرہ کی ماں کا کردار ادا کیا تھا-

اس ڈرامے کی کہانی کشمیر پر بنائی گئی تھی جس میں کیپٹن حمزہ ایک انڈین آرمی کیپٹن اور اصل میں ایک کشمیری ہیں۔ ان کے خاندان میں ان کے والد شفیع ، اس کی والدہ ، ایک چھوٹی بہن نازو اور ایک بڑے بھائی طلحہ شامل ہیں جو دہلی کے گاندھی میڈیکل کالج میں ایک انتہائی ہنر مند سرجن اور لیکچرر ہیں۔ انتظامیہ کے ساتھ تنازعات کے بعد ، وہ وہاں سے استعفیٰ دے دیتا ہے اور غریبوں کے لئے ایک کلینک کھولتا ہے لیکن مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کے ساتھ سلوک کرنے کے الزام میں اسےتنگ کیا جاتا ہے۔

کئی دن بعد ، ہندوستانی فوج اسے کیپٹن حمزہ کی کوششوں پر رہا کرتی ہے۔ طلحہ بعد میں مولوی مشتاقکے گروہ میں شامل ہوتا ہے جو حزب المجاہدین کا کمانڈر ہے۔ طلحہ کی سابقہ ​​ساتھی اوشا بھی ان کے ساتھ آئیں۔ ڈاکٹر طلحہ اوشا کا کرش ہوتا ہے۔ دوسری طرف ، حمزہ نے ایک خوبصورت کشمیری لڑکی ہاجرہ سے ملاقات کی جو ایم بی بی ایس کی طالبہ ہے۔ وہ دونوں محبت میں پڑ جاتے ہیں۔

بعد میں انکشاف ہوتا ہے کہ ہاجرہ کی اپنے کزن حنیف سے منگنی ہوئی ہوتی ہے جو ایک غیر تعلیم یافتہ غیر ذمہ دار فرد ہے اور ہاجرہ اس کو ناپسند کرتی ہے۔ وہ اپنی والدہ کو اس بات پر راضی کرتی ہے کہ وہ حمزہ سے شادی کرنے دے۔ حمزہ پر عسکریت پسندوں کی مدد کرنے کا الزام عائد کرنے پر اور ان پر عدالتی مارشل کے ذریعہ مقدمہ چلانے پر ان کی زندگیوں میں ایک بہت بڑا رخ آتا ہے۔

حمزہ کو 25 سال تک سخت با مشقت جیل کی سزا سنائی جاتی ہے لیکن وہ اپنے پرانے دوست کرنل بلبر کی مدد سے وہاں سے فرار ہونے کا انتظام کرتا ہے۔ ہندوستانی فوج حمزہ کے آبائی شہر پر بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن آپریشن کرتی ہے جس میں حمزہ کی ولادہ ماری جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ ، حمزہ بھی ہندوستانی ریاست سے کشمیریوں کی آزادی کے حصول کے لئے حزب المجاہدین میں شامل ہوجاتا ہے۔

ہاجرہ کی والدہ کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے اس کی موت ہوجاتی ہے اور وہ حمزہ سے شادی کے لئے اپنے چچا کے گھر سے فرار ہوجاتی ہے ۔ بھارتی فوج عسکریت پسندوں پر چھاپے مارتی ہے جہاں اوشا کو بچاتے ہوئے مولوی مشتاق گرفتار ہو جاتا ہے۔ فوج مولوی مشتاق کو گرفتار کرتی ہے- بعد میں ان کی موت ہندوستانی فوج کے قبضے میں ہو جاتی ہے اور ڈاکٹر طلحہ نے اپنے مشن کو جاری رکھنے کا حلف لے لیتے ہیں۔

دوسری جانب شفیع اور نازو سرحد عبور کرنے اور پاکستان فرار ہونے کا انتظام کرتے ہیں جبکہ ہاجرہ کنٹرول لائن عبور کرنے کے لئے حمزہ سے مل جاتی ہے۔ جب وہ سرحد عبور کررہے ہوتے ہیں تو ہندوستانی بی ایس ایف ان پر فائرنگ کردیتی ہے جس سے حمزہ ہلاک ہوجاتا ہے- پاک فوج کے ذریعہ ہاجرہ کو کامیابی سے بچا لیا جاتا ہے بعد میں ، ہاجرہ ایک بیٹے کو جنم دیتی ہے جس کا نام عبید الرحمٰن رکھا جاتا ہے جسے اس کے نانا ابو شفیع ااپنے پاس رکھ لیتے ہیں-

کیا ہم گانے گا کر یا ایک منٹ کی خاموشی اختیار کر کے کشمیر کو بھارت کے ظلم سے آزاد کر پائیں گے؟ انصار عباسی

مقبوضہ کشمیر، دفعہ 370 کے خاتمے کا ایک برس مکمل ہونے پربی جے پی کا جشن کا اعلان

جنرل قمرجاوید باجوہ نےعید اپنےجوانوں کےساتھ کشمیرکےمحاذ پرگزاری،بھارت کومکاری پرسخت پیغام بھی دے دیا

ہم کشمیر کیلئے ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار ہیں. شہریار خان آفریدی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.