ایک سالہ محاصرے کے دوران بھارتی فوجیوں نے 217 کشمیری شہید کر دیئے

ایک سالہ محاصرے کے دوران بھارتی فوجیوں نے 217 کشمیری شہید کر دیئے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کی جانب سے گذشتہ سال 5 اگست کو مسلط کردہ لاک ڈاون کو ایک سال مکمل ہو رہا ہے۔

اس دوران بھارتی فوجیوں نے 217 کشمیریوں کو شہید کیا جن میں 4 خواتین اور 10 لڑکے شامل ہیں۔ پرامن مظاہرین پر بھارتی فوج کی جانب سے طاقت کے استعمال کی وجہ سے کم سے کم ایک ہزار افراد شدید زخمی ہوئے ۔

گذشتہ اگست میں نئی دہلی نے آرٹیکل 370کو منسوخ کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے علیحدگی پسند گروپوں کو عملی طور پر کچلنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔ مرکزی دھارے میں شامل سیاسی جماعتوں کے لئے بھی اپنی سرگرمیاں کرنے کے لئے بہت کم جگہ ہے اور ان میں سے کسی نے بھی ابھی تک نئی دہلی کے جموں و کشمیر کی خودمختاری کو واپس لینے کے یکطرفہ فیصلے کے خلاف کھلے عام آواز نہیں اٹھائی ہے۔

ساوتھ ایشین وائر کے مطابق لوگ ، خاص طور پر نوجوان ، محسوس کرتے ہیں کہ کشمیر اور نئی دہلی کے درمیان کسی بھی مفاہمت کا کوئی امکان نہیں رہااور اب ان کے سامنے صرف دو ہی انتخاب ہیں۔ نئی سیاسی حقیقت کے سامنے ہتھیار ڈالنایا اس کے خلاف مزاحمت ہے۔چنانچہ اس ایک سال میں شہید ہونے والے حریت پسند جو حالیہ مہینوں میں مقابلوں میں مصروف ہیں وہ زیادہ تر مقامی کشمیری ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر میں رواں سال سرکاری فوج کی کارروائیوں میں حزب المجاہدین ،جیش محمد اور لشکر طیبہ کے متعدد اعلی کمانڈرشہید ہوئے ہیں۔ جنوبی کشمیر میں ضلع اننت ناگ کے ڈیلگام کے علاقے میں سرکاری فوج کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں لشکر طیبہ کے ضلعی کمانڈر مظفر احمد بھٹ سمیت چار عسکریت پسند شہید ہوئے جن کا تعلق تحریک لبیک اور حزب المجاہدین تنظیموں سے تھا۔

بھارتی فورسز کے نقطہ نظر سے سب سے بڑی کامیابی 6مئی کو ضلع پلوامہ میں حزب المجاہدین کے اعلیٰ ترین کمانڈر ریاض نائیکو کی شہادت ہے۔ 40 سالہ ریاض نائیکو حزب المجاہدین کے چیف آپریشنل کمانڈر تھے اور انھیں 2016 میں شہید ہونے والے کمانڈر برہان وانی کا جانشین سمجھا جاتا تھا۔ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہی کشمیر میں عسکریت پسندی اور احتجاج کی نئی لہر شروع ہوئی تھی۔

25 جنوری کو ، جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے ترال کے علاقے میں سرکاری فوج اور عسکریت پسندوں کے مابین فائرنگ کے تبادلے میں جیش محمد کشمیر کے سربراہ قاری یاسر سمیت تین عسکریت پسند شہید ہوگئے جبکہ تین فوجی زخمی ہوگئے۔23 جنوری کو ضلع پلوامہ کے علاقے کھریو میں ایک دوسرے اعلی عسکریت پسند کمانڈر ابو سیف اللہ عرف ابو قاسم کی شہادت ہوئی۔9 اپریل کو ، جیش محمد کے اعلی کمانڈر سجاد نواب ڈار کو سرکاری فوج نے شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع کے سوپور میں شہید کردیا۔جموں و کشمیر کے ڈوڈہ کے علاقے گنڈانہ میں 15 جنوری کو حکومتی افواج کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے میں حزب المجاہدین کے ایک اعلی کمانڈر ہارون وانی کی شہادت ہوئی۔28اپریل کو انصار غزوة الہند کے ڈپٹی کمانڈر ابوبکر برہان کوکا شہید ہوئے۔20مئی کوکل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما محمد اشرف صحرائی کے بیٹے اور حزب المجاہدین کے ضلعی کمانڈرجنید صحرائی شہید ہوئے۔

اس عرصے میں مقبوضہ کشمیر کو کھلی جیل میں تبدیل کردیا گیا ، ہزاروں حریت رہنماوں ، سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں ، مذہبی سربراہوں ، صحافیوں ، تاجروں ، وکلا اور سول سوسائٹی کے ممبروں ، نوجوانوں اور کارکنوں کو 5 اگست 2019 کے بعد یا اس سے قبل گرفتار کیا گیا تھا ۔وہ اب بھی تہاڑ اور ہندوستان اور مقبوضہ کشمیر کی دیگر جیلوں میں بند ہیں۔ جن میں محمد یاسین ملک ، شبیر احمد شاہ ، محمد اشرف صحرائی شامل ہیں۔جبکہ سینئر حریت رہنما سید علی گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق سری نگر میں نظربند ہیں۔

وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیر خارجہ کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال

ہم اپنی سرزمین پرکسی دہشتگرد گروپ کوکام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، وزیراعظم

نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شامل ہو کر بہت بڑی غلطی کی، وزیراعظم عمران خان

کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

کپتان ہو تو ایسا،اپوزیشن کی سازشوں کے باوجود وزیراعظم عمران خان کو ملی اہم ترین کامیابیاں

وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

مودی مسلمانوں کا قاتل، کشمیر حق خودارادیت کے منتظر ہیں، صدر مملکت

یوم یکجہتی کشمیرپرتحریک آزادی بارے مفتیان نے کیا فتویٰ دیا؟ لیاقت بلوچ نے بتا دیا

کشمیریوں کے قاتل کے ساتھ میں بیٹھوں ،بالکل ممکن نہیں،شاہ محمود قریشی کا بھارتی ہم منصب کی تقریر کا بائیکاٹ

کشمیر پر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے آ سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ میں خطاب

وزیراعظم نے مظلوموں کا مقدمہ دنیا کے سب سے بڑے فورم پررکھ دیا،فردوس عاشق اعوان

کشمیر پر بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بڑی کامیابی ہے، وزیر خارجہ

مقبوضہ کشمیر،کشمیری سڑکوں‌ پر،عمران خان زندہ باد کے نعرے، کہا اللہ کے بعدعمران خان پر بھروسہ

برہان وانی کی چوتھی برسی، مقبوضہ کشمیر میں حریت کی اپیل پر مکمل ہڑتال

مودی حکومت مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت کو تبدیل کرنے میں مصروف ہے۔ اس مقصد کے لئے ، اس نے ہزاروں ہندوستانیوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ دیئے ہیں۔ اسی عرصے کے دوران بہت سے صحافیوں کو بھی ہراساں کیا گیا اور ان پر مقدمات قائم کئے گئے، جن میں مسرت زہرہ ،پیرزادہ عاشق،معروف ٹی وی پینلسٹ اور صحافی گوہر گیلانی ، اور قاضی شبلی شامل ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.