fbpx

ائیر موٹر بائیک کی کامیاب آزمائشی پرواز

اڑنے والی کار کے بعد اڑنے والی موٹربائیک کی آزمائشی پرواز کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔

باغی ٹی وی :یہ تجربہ ٹوکیو میں قائم ڈرونز کا کاروبار کرنے والی کمپنی اے ایل آئی ٹیکنالوجیز نے کیا ،یہ موٹرسائیکل 60 میل فی گھنٹہ(100 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے 40 منٹ تک سفر کر سکتی ہے اور اسے آئندہ سال فروخت کیلئے پیش کیا جائے گا۔

اڑنے والی اس موٹربائیک کی ابتدائی قیمت 6 لاکھ82 ہزار ڈالر رکھی گئی ہے اور اس پر ایک فرد بیٹھ سکتا ہے کمپنی فی الحال صرف 200 موٹر سائیکل بنائے گی جو2022 کے پہلے چھ ماہ میں فروخت کیے جائیں گے۔ ایک موٹرسائیکل کا وزن300 کلوگرام ہے۔


تجرباتی پرواز کے دوران موٹر سائیکل زمین سے کئی فٹ اوپراور تقریباً ڈیڑھ منٹ تک پرواز کرتا رہا اس کے پہیوں کی جگہ ہیلی کاپٹر کی طرز کے اسٹینڈ لگائے گئے ہیں یہ موٹرسائیکل اڑنے والی ان چند گاڑیوں میں سے ہے جو اس وقت مارکیٹ میں آنے کی تیاری کر رہی ہیں۔

ائیر کار کی کامیاب آزمائشی پرواز

تفریحی سرگرمیوں کے علاوہ یہ موٹر سائیکل سمندر میں حادثات سے لوگوں کو بچانے میں مدد کرنے کی صلاحیت رکھنے کی خوبی ہے وہیں اس میں ایک خامی یہ ہے کہ پرواز کے وقت شور بہت زیادہ پیدا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ پرواز کا مشاہدہ کرنے والوں کو ایئرپلگ دیئے گئے تھے۔

اے ایل آئی ٹیکنالوجیز کے مطابق موٹرسائیکل میں ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے جو پرواز کے دوران اس کا توازن برقرار رکھتی ہے۔

جولائی 2021 میں کیلیفورنیا میں بھی اڑنے والی اسپیڈر سائیکل کی کامیاب آزمائشی پرواز کی گئی تھی، جو15ہزار فٹ کی اونچائی تک پہنچ سکتی ہے اور فی الحال اس کی قیمت3 لاکھ 80 ہزار ڈالر رکھی گئی ہے۔ کمپنی اس سائیکل کو 2023 میں ڈیلیور کرنے کے لیے آرڈر بھی بک کر رہی ہے۔

جبکہ جولائی میں ہی لوواکیا میں مقیم کمپنی کلین ویژن کی اُڑنے والی گاڑی یا فلائنگ کار کے ایک آزمائشی کامیاب تجربہ کیا تھا نیترا اور براٹیسلاوا کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے درمیان ایک گھنٹہ 35 منٹ کی پرواز کامیابی سے مکمل کی تھی –

اس کےموجد پروفیسر سٹیفن کلین نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ کار ایک ہزار کلومیٹر اور 8200 فٹ کی بلندی پر اُڑ سکتی ہے اسے کار کی خصوصیات سے ہوائی جہاز کی خصوصیات حاصل کرنے میں صرف دو منٹ 15 سیکنڈ لگتے ہیں-

کراچی کے نوجوان نے موٹر وے پر ہنگامی‌صورتحال کیلئے خاص موبائل ایپلیکیشن متعارف کروا دی

Facebook Notice for EU! You need to login to view and post FB Comments!