fbpx

ایسے افسر کو سیکریٹری رہنے کا کوئی حق نہیں ، جو گول مول جواب دے،عدالت

ایسے افسر کو سیکریٹری رہنے کا کوئی حق نہیں ، جو گول مول جواب دے،عدالت

سندھ کے جزائر وفاق کے سپرد کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سیکریٹری جنگلات کے جواب پر برہم ہو گئے ،چیف جسٹس نے کہا کہ بنڈار اور دیگر جزائر کی زمین کس کی ہے؟ سیکرٹری جنگلات نے کہا کہ جزائر کی زمین پورٹ قاسم کودی تھی،زمین سندھ کی ملکیت ہے اس کے پاس ہونی چاہیے تھی، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے کہا کہ پورٹ قاسم کو زمین دی تو کچھ حدود بھی تو مقرر کی ہوگی؟ ،عدالت نے سیکرٹری جنگلات کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی زمین کو اون کیوں نہیں کرتے؟ آپ کی ذاتی زمین ہوتی تو اون کرتے سندھ کی زمین کو اون نہیں کررہے؟ کیا جزائر کی زمین کسی بلڈر کو دینی ہے اور مال بنانا ہے؟ زمین سندھ کی ہے اور مینگروز کے جنگلات بھی محفوظ ہیں،ایسے افسر کو سیکریٹری رہنے کا کوئی حق نہیں ، جو گول مول جواب دے، ہم چیف سیکریٹری سندھ کو بلاتے ہیں، مجھے آج ہی بلیک اینڈ وائٹ جواب چاہیے، جزائر کی زمین کس کی ملکیت ہے؟

چیف جسٹس نے سیکرٹری جنگلات کو جواب دیا کہ باہر بیٹھیں اور آج ہی لکھ کردیں ،

قبل ازیں سندھ کے اراکین قومی اسمبلی کے بعد بلوچستان کے اراکین قومی اسمبلی نے جزائر کے متعلق صدر عارف علوی کے آئی لینڈ ڈولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کے خلاف قرارداد قومی اسمبلی میں جمع کرادی ہے۔

قبل ازیں پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی آئی لینڈ اتھارٹی کے قیام کی مخالفت کرتی ہے، سندھ کےساحلوں سےمنسلک جزائر پرغیر قانونی دعویٰ کی مخالفت کرینگے۔ آئی لینڈ اتھارٹی سےمتعلق صدارتی آرڈیننس ناقابل قبول ہے، آئی لینڈ اتھارٹی آرڈیننس مودی کےمقبوضہ کشمیر میں اقدام جیسا ہے۔

دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی نے آئی لینڈ آرڈیننس کو روکنے کے لئے سندھ اسمبلی سےمتبادل قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے۔صوبائی وزیر اطلاعات ناصر شاہ کا کہنا ہے کہ یہ جزائر حکومت سندھ کی ملکیت ہیں، کسی بھی آرڈینس کے ذریعے سندھ کی زمین پر قبضہ نہیں کیا جاسکتا، آئی لینڈ کی زمین سندھ کی ہے اور اس پر سندھ کے عوام کا حق ہے، سندھ میں موجود جزیروں پر مقامی ماہی گیروں اور دیگر آبادیوں کا حق ہے۔