fbpx

آج کا نوجوان تحریر: ثناءاللہ محسود

نوجوان کسی بھی معاشرے کی ایک اہم طاقت ہوتے ہیں۔ یہ کسی بھی خاندان ، ملک اور قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بوڑھوں کی نسبت مضبوطی اور طاقت بخشی  ہے۔ یہ اپنے بل بوتے پر زندگی کی ہر جنگ میں فتح یاب ہو سکتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی کامیابی کا انحصار نوجوان نسل پر ہوتا ہے۔ یہ اپنے ملک کی بنیاد ہوتے ہیں۔ وقت آنے پر ان کا خون ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرتاہے ۔یہ پہاڑوں کی طاقت رکھتے ہیں۔ اسی نوجوان کو علامہ اقبال نے شاہین کا نام دیا۔

تو سوال یہ ہے۔ کہ کیا آج کا نوجوان اپنی قوم کی تقدیر بدلنے کا عزم رکھتا ہے۔ کیا یہ اقبال کا شاہین بننے کا ولولہ رکھتا ہے۔

تو اس کا جواب یہ ہے ، کہ آج کا نوجوان ان سارے جذبوں سے خالی ہے۔اور اس کی وجہ نوجوانوں کا سوشل میڈیا ، منشیات ، اور دوسرے فضول امور میں دلچسپی لینا ہے ۔ رئیس لوگوں کے بگڑے ہوئے امیر زادے نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے میں مگن رہتے ہیں۔ اور دوسری طرف غریب طبقے کے لوگ دال، روٹی کی فکر میں گھلتے رہتے ہیں۔ ایسے میں نوجوانوں کو ملک کی فکر کیونکر ہو ۔

اور ان سب کی وجہ یہ ہے۔ کہ آج کے دور میں نوجوانوں کی رائے کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ اگر وہ کسی بات میں مداخلت کریں تو ان کی بات کی تردید کر دی جاتی ہے۔ انھیں معاشرے کا اہم رکن سمجھنے کی بجائے  نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایسے میں وہ اپنے لئے صحیح راستے کا انتخاب نہیں کر پاتے، اور ایسے عوامل کا شکار ہو جاتے ہیں جو معاشرے کے ساتھ ساتھ انہیں بھی تاریکیوں میں دھکیل دیتے ہیں۔

اور ایسی صورتحال میں جرائم مافیا  انہیں با آسانی جرائم کی دنیا میں لے جاتے ہیں ۔جس سے ان کی زندگی کے ساتھ ساتھ معاشرے کا نقصان بھی ہوتا ہے۔

 ہم ماضی پر نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوگا کہ ایک زمانہ تھا جب اسکولوں، کالجوں میں کھیل کے میدان ہوتے تھے، جہاں کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جاتے تھے۔  ان کھیلوں کے ذریعے صبر و برداشت، حوصلہ، مقابلہ کرنے کے جذبات پیدا ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں غیرنصابی سرگرمیاں جیسے بیت بازی، تقریری مقابلے، مضمون نویسی وغیرہ ہوا کرتے تھے۔کیوں ختم کردی گئیں یہ ساری چیزیں جس کے ذریعے وہ اپنے مسائل  بیان کرتے تھے۔  اس تیز ترین دور میں نوجوانوں سے ان کی رائے کا ہر وسیلہ چھین لیا گیا ہے ۔ سکول ، کالج نیز ہر ادارہ اپنا نام کمانے کی فکر میں نوجوانوں کے جذبات کا خون کرتا ہے۔ اور رہی سہی کسر بے روزگاری نے پوری کر دی ہے۔ 

ان سب مسائل کا حل بس یہی ہے۔ کہ نوجوان نسل کو آگے بڑھنے کے وسائل مہیا کیے جائیں۔ کیونکہ ہمارے ملک کا مستقبل انہیں نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ انہیں تعلیم، صحت،  اور تجربات کا موقع دیا جائے تا کہ نوجوان ذہنی اور نفسیاتی دباؤ سے باہر نکلیں۔ نوجوانوں کے لئے روزگار کے ذرائع مہیا کیے جائیں۔ بہت سے نوجوان مختلف وجوہات کی بنا پر تعلیم سے دور ہیں۔ ان کے لیے تعلیم حاصل کرنا آسان کیا جائے۔ تا کہ اقبال کے شاہین اپنے وطن کو ایک بہترین مستقبل دے سکیں۔

@Sanaullahmahsod