fbpx

ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست اب ختم ہونی چاہئے

سیکرٹری جنرل پاک سر زمین پارٹی ایڈوکیٹ حسان صابر نے آج پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس کی ۔

حسان صابر نے پریس کانفرنس میں کہا پی ایس پی ڈہرکی ٹرین حادثے کے متاثرین سے ہمدردی اور لواحقین سے تعزیت کرتی ہے۔

ایک دوسرے پر الزامات کی سیاست اب ختم ہونی چاہئے۔حکومت وقت کو چاہیے کہ لوگوں کی داد رسی کرے نہ کہ دوسرے پر الزامات لگائے ۔

آج کی پریس کانفرنس مصطفیٰ کمال کی 5 جون کی پریس کانفرنس کا تسلسل ہے۔

آئین کے آرٹیکل 6 کے مطابق اگر کوئی آئین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کو سزا ہوگی۔سوال یہ ہے کہ کیا صرف اس ملک میں آمروں نے آئین کو توڑا ہے؟

آئین کے آرٹیکل 7 میں ریاست کی تینوں حکومتوں کا واضح بتایا گیا ہے۔اس آئین کے مطابق وفاقی،صوبائی اور لوکل گورنمنٹ کی حکومت واضح ہے۔

افسوس پچھلی تمام حکومتوں نے لوکل گورنمنٹ سسٹم پر قدضن لگائی۔اس حکومت نے تمام اختیارات مئیر سے لے کر صوبائی وزیر کے ماتحت کردیے جو آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے۔

پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت لوکل گورنمنٹ نظام کی دشمن ہے، اس لیے کبھی یہ نظام نہیں لائے گی۔چئیر مین مصطفیٰ کمال نے آئین میں ترمیم کا جو فارمولہ بتایا ہے اس پر عمل ہونا چاہیے۔

ایم کیو ایم نے کیوں لوکل گورنمنٹ کو صوبائی حکومت کے حوالے کیا۔مسلم لیگ ن، پی پی پی ، پی ٹی آئی لوکل گورنمنٹ کے نظام کے خلاف ہیں۔

ایم این ایز اور ایم پی ایز کا کام اسمبلی میں جاکر عوام کیلئے قانون سازی کرنا ہے نا کہ گلیاں اور سڑکیں بنانا۔

پورے پاکستان میں لوکل گورنمنٹ سسٹم رائج کیا جائے۔2013 کا بلدیاتی سسٹم انتہائی ناکام رہا ہے مردم شماری کے معاملے پر پی ایس پی نے بھرپور احتجاج کیا دیگر جماعتوں نے صرف خانہ پوری کی۔

ایم کیو ایم نے نتائج کو مان کر اس شہر کے لوگوں کو دھوکا دیا اور اپنی وزارتوں اور مقدمات کے معاملات بہتر کرے۔

سندھ حکومت سندھ کے پانی کو رو رہی ہے، کراچی والے پانی کیلئے کس کے سامنے روئیں۔سندھ حکومت ایک منظم سازش کے تحت کراچی والوں کو تکلیف دے رہی ہے۔

پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی اور صوبہ سندھ لاوارث نہیں پی ایس پی سب سے آگے کھڑی ہے۔ہم اس شہر کے لوگوں کے ساتھ سڑکوں پر نکلنے کیلئے تیار ہیں۔

سیاست کیلئے خدمت کا جذبہ ضروری ہے جو صرف مصطفیٰ کمال کے پاس ہے۔ایم کیو ایم اور پی پی پی ایک دوسرے کے کرائم پاٹنر ہیں۔

جو جو آئین میں لکھا ہے پی ایس پی وہ تمام حقوق چھین کر لیں گی۔ہم سندھ حکومت کو وارننگ دیتے ہیں کہ اس معاملے میں فوری ایکشن لیں اور بلدیاتی معاملات فوری بہتر کریں ورنہ عوامی ردعمل کیلے تیار رہے۔

پی ایس پی سڑکوں پر نکل کر احتجاجی تحریک چلائی گی۔این ایف سی ایوارڈ کے حولے سے بھی آئین میں ترمیم کی جائے تاکہ پی ایف سی فنڈ میں وفاق ڈائیریکٹ ڈسٹرکٹ میں منتقل کرئے تاکہ ڈسٹرکٹ صوبے کے محتاج نہ ہوں۔

ہم عوامی اصلاحات کیلئے عدالتوں میں جائینگے اور اپنا حق لیں گے۔آئین میں سب کچھ واضح ہے مگر بلدیاتی اختیار ات کے ساتھ مزاق کیا گیا۔

حفیظ الدین نے بھی پریس کانفرنس کے دوران کہا
پاک سر زمین پارٹی کی بنیادی کوشش ہے کہ بلدیاتی حقوق عوام کے گھر کی دہلیز پر دیے جائے۔

ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے پی پی حکومت سنجیدہ ہوجائے اور بلدیاتی حکومت فعال کرے ورنہ پی ایس پی سراپا احتجاج ہوگی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.