ایک قوم ایک آواز تحریر : راجہ ارشد

0
72

ہو سکتا ہے آپ میری اس بات سے اتفاق نہ کریں کہ شاید ہم نے تو ایک قوم بننے کے لئے ابھی سفر کا آغاز کیا ہے۔ کبھی ہم ایک قوم تھے جب قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں متحدہ ہندوستان میں ہم ایک قوم بن کر سامنے آئے اور جدوجہد آزادی کی جنگ میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے جن تک آزادی کا سورج طلوع نہ ہوا۔

کوئی شک نہیں تب بھی مشکلات اور کچھ اپنوں کی سازشیں شامل تھیں اس کے باوجود قائداعظم محمد علی جناح کا ساتھ دیا اور ایک الگ اور خودمختار وطن حاصل کر لیا۔وطن عزیز کے قیام کے بعد بہت سے مہاجرین یہاں آئے جن کی تعداد ہزاروں میں نہیں لاکھوں میں تھی۔ بے سروسامان لٹے پٹے قافلے جب آزاد سرزمین پر داخل ہوئے تو یہاں بسنے والوں نے کھلے دل سے قبول کیا اور ایک قوم بن کر جدوجہد کرنے لگے ۔

ایک خود مختار قوم اور مضبوط اسلامی جمہوریہ پاکستان کے لئے شب و روز ایک کر کے انڈسٹریاں ہوں یا زراعت یا پھری ملکی دفاع اپنے فریضہ کو بخوبی انجام دیا اس قوم کے اندر وفا اور بہادری بے مثال ہے۔بدقسمتی سے خود غرض ، لالچی اور اقتدار کے بھوکے، پجاری حکمرانوں نے ہمیشہ اس قوم سے سچ اور حقائق کو چھپایا غلط بیانی جھوٹے وعدے جھوٹی قسمیں جھوٹی شہرت اور کبھی رعب و دبدبے سے زور بازو پر اس قوم کی آواز کو دبایا گیا ہے۔

یہاں اس نظام سے بغاوت کرنے والوں کو نشان عبرت بنا دیا گیا یہی وجہ تھی 1971 میں جب اقتدار کے پجاریوں نے اس سازش اور جرم کے کرداروں نے ملک کے دو ٹکڑے کر دیئے۔ اس وقت بھی قوم سے سچ کو چھپایا گیا تھا قیام پاکستان کے چند سال بعد ہی اقتدار کی جنگ شروع ہو گئی تھی۔ اور یہ نظام ہمارے جاگیرداروں اور طاقتوروں کا محافظ بن گیا تھا۔

چند خاندانوں نے اپنے مفادات کی خاطر اس قوم کو رنگ ذات پات میں تقسیم کر دیا کسی نے پختون تو کسی نے مہاجر کا نعرہ لگا دیا۔بلوچ انتہا پسند راہنمائوں نے بھی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اپنے معصوم لوگوں کو بغاوت پر اکسایا اور ان کے ہاتھ میں بندوق پکڑا دی گئی۔

یہاں فوجی اور جمہوری حکمرانوں میں آنکھ مچولی کا کھیل تو چلتا ہی آیا مگر اس دوران ایک تیسرا طبقہ جو اس ملک کے عام شہری تھے وہ ظلم و زیادتی اور غربت کی چکی میں پستے ہی رہے اس ملک کے کہنے کو عوامی نمائندے اور اس ملک پر حکمرانی کرنے والے اپنے قارئین یہ بات یاد رکھیں صرف اپنے بچوں کے لئے محلات اور کاروبار بناتے رہے۔ لیکن اس قوم کے بچے دو وقت کی روٹی کے لئے اپنا مستقبل تباہ کرتے رہے۔اعلی تعلیم اگر حاصل بھی کر لی تو مقصد نوکری کرنا اور ان امیروں اور جاگیرداروں کی غلامی کرنا تھا ایک قوم بنانے کی بجائے اس قوم کو جہالت اور غربت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا۔

آج ایک ایسا حکمران اس ہجوم نما قوم کو ملا جو پھر ایک قوم بنانے نکلا ہے جس نے رنگ ، نسل ، زبان کی تفریق کے بغیر سب کو ایک قوم بنانے میں لگا ہے جو اس قوم کو دنیا کی عظیم قوم بنانے کا خواب دیکھتا ہے ۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے محب وطن حاکم اور ایماندار لیڈر کا ساتھ دیں۔ ہم سب اپنے اپنے حصے کا کام کریں اپنے کام اور اپنے وطن سے محبت کریں۔ اس دنیا کی باقی قوموں کی طرح ہم نے ایک ایماندار قوم بننا ہے۔ اس لیڈر کو آپ کی اور اس قوم کی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اس نے نہ کرپشن کرنی ہے نہ کرنے دینی ہے اور نہ ہی بیرون ملک محلات تعمیر کرنے ہیں۔ اس کی پہلی ترجیح قوم کا وقار بلند کرنا ہے۔آپ نے دیکھا اسی وجہ سے بہت کم وقت میں آج ہم دنیا کے ساتھ برابری کے تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ان شاءاللہ

پاکستانیوں 1947 کی طرح ہم آج بھی جناح ثانی کی قیادت میں ایک عظیم قوم بنیں گے ۔بس ایک قوم ایک آواز بن جائیں۔

تمام عزیز ہم وطنوں کو جشن آزادی مبارک ہو۔
اللہ پاک آپ سب کا حامی ناصر ہو

@RajaArshad56

Leave a reply