fbpx

‏آخر کب تک ؟ تحریر : رفاقت علی کھوکھر

اولمپکس 2021 میں بھی حسب روایت پاکستان ابھی تک کوی میڈل نہی جیت سکا۔ جناب عزت مآب جنرل ریٹائرڈ سید عارف حسن جو کہ سنہ 2004 سے مسلسل صدر اولمپکس ایسوسی ایشن منتخب ہو رہے ہیں ،ان سے کوی پوچھنے والا نہی کہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے
آخر آپ کو مزید کتنے سال درکار ہیں!

بحثیت قوم ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہے کہ ایک کھلاڑی کی حکومت کے ہوتے ہوے 21 کروڑ کی آبادی میں سے ہم صرف 9 کھلاڑی اولمپکس میں بھیج سکے۔ سوال یہ ہے کہ صدر اولمپکس پاکستان ایسوسی ایشن کے عہدے کے لیے کیا ہمارے پاس ایک 71 سالہ بزرگ سے بہتر کوی نہی؟ کیا میرٹ نام کا لفظ صرف ہمیں تقاریر میں سننے کو ملے گا؟ کیا اس پر کبھی عمل بھی ہو گا؟ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے پچھلے 20 سال سے مسلسل میرٹ پر نوکریاں دینے کے وعدے کیے مگر وعدے تکمیل ہوتے نظر نہی آرہے،

سویلین کی نوکریاں ریٹائرڈ جنرلز یا کرنلز کو کیوں دی جا رہی ہیں؟ جہاں تک عام فہم کی بات کہ اگر آپ ایک ڈاکٹر سے بال بنوائیں گے تو نتیجہ کچھ اچھا نہی آے گا، بال بنوانے کے لئے آپ کو حجام کے پاس ہی جانا پڑے گا، ٹھیک اسی طرح ملک کے بارڈرز کے رکھوالوں سے اگر آپ ڈپلومیسی ، پبلک افیرز ، پبلک پالیسی ، حتیٰ کہ منسڑرز کا کام لیں گے تو نتائج بھی آپ کو ایسے ہی ملیں گے! مندرجہ زیل چند مثالیں ملحظہ فرمائیں ۔
چیف آف سٹاف ہیڈ کواٹر نادرا ریٹائرڈ کرنل طاہر مقصود خان ہیں ۔
ڈائریکٹر جنرل آر ایچ او اسلام آباد برگیڈئیر ر طلال قیوم ہیں ۔
ایکٹنگ ڈائیریکٹر جنرل آر ایچ او ملتان میجر (ر) عمران علی خان ۔
ڈی جی ایلین رجسڑیشن ہیڈکواٹر نادرا اسلام آباد لیفٹیننٹ کرنل محمد طلہ سعید ہیں۔
پاکستان کے بہت سے اداروں کی اعلی ترین کرسیوں پر زیادہ تر ریٹائرڈ فوجی افسران تعینات ہیں جو کہ میرٹ کے نام پر بہت بڑا داغ ہے، پاکستان سے باہر بھی (ر) فوجی افسران کو پاکستان کا ایمبیسڈرز بنا کر بھیجا جاتا ہے جیسا چند ہفتہ قبل جنرل (ر) بلال اکبر کو سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر بنا دیا گیا ، یہ پہلے جنرل نہی جن کو سفیر بنا کر بھیجا گیا ، صرف پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران کم از کم 9 ریٹائرڈ جنرلز کو بیرون ملک ایمبیسڈرز بنا کر بھیجا گیا!
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فارن آفس میں موجود جوسولین افسران عرصہ دراز سے کام کر رہے ہیں، فارن افیرز میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں ، جنہوں نے ڈپلومیسی کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے ، کیا ان سب میں سے کوی اس قابل نہی تھا جسے سعودی عرب یا دوسرے ممالک میں پاکستان کی نمائندگی کے لئے بھیجا جاتا؟ جناب ضرور قابل لوگ ہوں گے جن کی حق تلفی کی گئی! جن کا مسقبل داو پر لایا گیا، میرٹ کی دھجیاں بکھیری گئی ! سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ اگر اداروں کے ڈائریکٹرز ، چیرمینز اگر آپ نے فوجی افسران ہی لگانے ہیں تو پھر براے کرم میرٹ میرٹ کی رٹ لگانا چھوڑ دیں ۔

کیا پبلک سروس کمیشن کا ادارو ناکام ہے؟اگر ناکام ہے تو نیا نظام کون لے کر آے گا؟ تبدیلی کے نعروں سے تبدیلی نہی آتی بلکہ عملی اقدام اٹھانے پڑتے ہیں ! کیا سولین برے مینجرز ہیں؟ تو اچھے مینجرز ہم کہاں سے درآمد کریں ؟ عوام پر رحم فرمائیں جو بھی ریٹائیرڈ ہوں انہیں گھر بھیجیں ۔نوجوانوں کو مواقع فراہم کریں۔

پاکستان میں قابلیت کی ہر گز کمی نہی مگر سفارش والے کلچر کو ختم کرنا ہو گا ، پاکستان کو ترقی یافتہ بنانا ہے تو اپنے نوجوانوں پہ بھروسہ کرنا ہو گا، آخر کب تک ڈگریاں ہاتھوں میں لئے نوجوان زلیل و خوار ہوں گے اور بڑی کرسیاں صرف ریٹائرڈ جنرلز کو ملیں گی، آخر کب تک !

‎@IamRafaqatAli