fbpx

اخوت یونیورسٹی خواب نہیں حقیقت۔ تحریر: عادل ندیم

وہ دور جس میں تعلیم کو ذریعہ معاش بنا لیا گیا ھو
اس دور میں تعلیم، کھانا ، رھائش، یونیفارم اور دیگر ضروری سامان کی مفت فراہمی ایک دیوانے کا خواب ھی لگتا تھا۔
لیکن یہ خواب حقیقت کا روپ دھار چکا ھے۔

میں آپ کو متعارف کروانے جا رھا ھوں
لاھور اور قصور کے سنگم پر للیانی نہر کے کنارے واقع اخوت کالج یونیورسٹی قصور سے۔

ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب کا ایک اور خواب ایک اٹل حقیقت کا روپ دھارے ھمارے سامنے کھڑا ھے۔

اخوت کالج یونیورسٹی میں پنجاب، سندھ ، کے پی کے ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت تمام علاقوں سے برابری کی بنیاد پر طلبہ کو داخلہ دیا جاتا ھے۔

اخوت کالج میں انٹرمیڈیٹ کی کلاسز کا آغاز 2015 سے ھو چکا تھا اور اب یونیورسٹی کلاسز کا بھی آغاز ھو چکا ھے۔
طلباء سے ایک روپیہ بھی فیس کی مد میں نہیں لیا جاتا۔
اعلیٰ معیار کا کھانا ، تعلیم اور رہائش مفت فراھم کی جاتی ھے۔
طلباء کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ھے۔

ڈاکٹر امجد ثاقب صاحب سے جب طلباء کی فیس کے بارے میں پوچھا جاتا ھے تو ان کا یہ کہنا ھے کہ
اخوت کالج یونیورسٹی میں طلباء سے پڑھائی سے قبل لاکھوں روپے فیس کا مطالبہ نہیں کیا جاتا بلکہ طلبا سے کہا جاتا ھے کہ پڑھ لکھ کر جب کامیاب ھو جاؤ تو پھر آ کر اپنی فیس ادا کر دینا تا کہ آپ کسی کا سہارا بن سکو اور آپ کی دی ھوئی فیس سے کوئی اور پڑھ لکھ کر کامیاب ھو سکے۔

اس قدر اعتماد؟ اس قدر بھروسہ ؟
اسے خاموش انقلاب ھی کہا جا سکتا ھے ۔

ایسا انقلاب جو ھمیں کچھ سالوں بعد نظر آنا شروع ہو جاے گا جب اخوت کالج یونیورسٹی سے فارغ التحصیل طلباء مختلف شعبوں میں اپنی خدمات سر انجام دیں گے۔
اخوت ایجوکیشن پروگرام میں اخوت کالج یونیورسٹی قصور ، اخوت انسٹیٹیوٹ آف ریسرچ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فیصل آباد ، اخوت کالج فار وومن چکوال ، این جے وی سکول کراچی اور اخوت پرائمری سکولز (350 سے زائد) شامل ھیں ۔

نہیں ہے نا اُمید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹّی بہت زرخیز ہے ساقی